📌۔۔

*6چھ حیران کن حقائق*
_تحریر: محمد شاہ زیب صدیقی_

کائنات کو ہم ایک آپریٹنگ سسٹم کی مثال سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں، جیسے آپریٹنگ سسٹم ہر کچھ عرصے بعد ہمارے سامنے ایک نئے ڈیزائن سے موجود ہوتا ہے بالکل ویسے ہی کائنات کو جیسے تیسے ہم کھوجتے چلے جارہے ہیں، اِس کے بہت سے نئے رُوپ ہمارے سامنے جلواگر ہورہے ہیں۔ اس کی وسعتیں ہمیں اپنے جادو میں جکڑے جارہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس کی گہرائیوں میں ڈوبنے کے باوجود ہم اس سے بور نہیں ہورہے۔ آج ہم 6 ایسی سائنسی سچائیوں کو سمجھیں گے ،جو حقیقت سے کوسوں دور دکھائی دیتی ہیں مگر سائنس کے نزدیک ان کا سچ ہونا کوئی مشکل نہیں۔ یہ حقائق آپ کو سمجھنے میں مدد دیں گے کہ جے بی ایس ہیلڈن نے کیوں کہا تھا کہ “یہ کائنات اتنی پُراسرار نہیں جتنا تم سوچتے ہو، بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ پُراسرار ہے، جتنا تم سوچ سکتے ہو۔
نمبر 6: دوستوں خلاء میں اشیاء انتہائی weird برتاؤ کرتی دکھائی دیتی ہیں، زمین کے برعکس خلاء میں ان کے رنگ ہی نرالے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عالمی خلائی اسٹیشن میں باقاعدہ لیبارٹریز قائم ہیں جہاں مختلف تجربات انجام دیئے جاتے ہیں، مستقبل میں یہ تجربات نسل انسانی کو لمبے خلائی سفر کے حوالے سے انتہائی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ سپیس میں اشیاء کے weird برتاؤ کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہاں گریوٹی کے ساتھ ساتھ ہوا بھی موجود نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر خلاء میں ایک جیسی دھاتوں کو نزدیک لایا جائے تو وہ ایک دوسرے سے انتہائی مضبوطی سے جُڑ جاتی ہے۔ کیونکہ خلاء میں کوئی ہوا یا ایسا مالیکیول نہیں ہوتا جو دھاتوں کے مابین رکاوٹ/ملاوٹ پیدا کرسکے، جس وجہ سے دھاتوں کے مالیکیول جُڑ جاتے ہیں ،اس مظہرکو Cold welding کہا جاتا ہے۔ اس مظہر کی وجہ سے خلائی جہاز کے دروازے اور ڈاکنگ کی جگہوں پر مختلف دھاتیں استعمال کی جاتیں ہیں کیونکہ وہاں ایک بار جُڑ جانے والی دھات کو الگ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
نمبر5: ہم سب نے سُنا اور پڑھا ہے کہ قُرب قیامت سورج مغرب سے نکلے گا،یوں اگر یہ کہا جائے کہ سیارہ زہرہ ہمارے نظام شمسی کا وہ واحد سیارہ ہے جہاں روز قیامت اترتی ہےتو غلط نہیں ہوگا، یہ نظام شمسی کا ایسا سیارہ ہے کہ جہاں روز سورج مغرب سے نکلتا ہے، کیونکہ یہ اپنے مدار میں اُلٹا گھوم رہا ہے۔ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ پہلے پہل سیارہ زہرہ اپنے مدار میں سیدھا گھوم رہا تھا، لیکن 4.5 ارب سال قبل جب نظام شمسی وجود میں آرہا تھا تو اس دوران سیارہ زہرہ کا زمین جتنے سیارے سے ٹکراؤ ہوا جس کی وجہ سے سیارہ زہرہ کچھ وقت کے لئے رُکا اور الٹا گھومنا شروع ہوگیا ، یہی وجہ ہے کہ جیسے زمین 24 گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرتی ہے، ویسے زہرہ اپنے ایکسز پہ243دنوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے، یوں اگر آپ زہرہ پہ موجود ہونگے تو وہاں ایک دن 243 دنوں کے برابر ہوگا، جب کہ زہرہ سیارہ 224 دنوں میں سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں زہرہ ایسا پُراسرار سیارہ ہے کہ وہاں کا ایک دن، دراصل ایک سال سے بھی بڑا ہوتا ہے!
نمبر4: دقیق حساب کتاب اور مشاہدات کے ذریعے ہمیں اندازہ ہوچکا ہے کہ ہمارا سورج اتنا بڑا ہے کہ اس میں 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں، اسی خاطر سورج نے چار نوری سال تک کے علاقے میں اپنی حکمرانی سجا رکھی ہے، چار نوری سال اتنا وسیع علاقہ ہوتا ہے کہ اگر آپ ایک کنارے سے راکٹ بھیجیں تو دوسرے کنارے تک پہنچنے میں آپ کو 72 ہزار سال لگیں گے۔ اس علاقے میں موجود کھربوں کی تعداد میں پتھر، سیارے،چاند اور دُم دار ستارے سورج کے گرد چکر لگارہے ہیں۔ اتنی طاقتور کشش ثقل کا حامل سورج کتنا بڑا ہے کہ اس کا اندازہ ایسے لگائیے کہ اس کا ماس ہمارے نظامِ شمسی کے مجموعی ماس کا 99.86 فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ بقیہ نظام شمسی کا ماس 0.14 فیصد بنتا ہے۔آسانی کےلئے ایسے سمجھیے کہ فرض کیجئے اگر ہمارے سورج کا وزن 100 کلو ہو، تو بقیہ پورے نظام شمسی جس میں کھربوں کی تعداد میں سیارے، سیارچے،چاند ،شہابیے اور دم دار ستارے شامل ہیں، ان سب کا ملکر وزن 0.1 کلو ہوگا۔
نمبر 3: کائنات میں ستارے زیادہ ہیں یا پھر ساحلوں پہ ریت کے ذرات زیادہ ہیں؟اس سوال نے ایک عرصے تک فلکیات کے چاہنے والوں کو دو حصوں میں تقسیم کیے رکھا، 40 سال قبل یہ سوال فلکیاتی نگری میں اتنی اہمیت اختیار کرگیا کہ کارل ساگان بھی اس عجیب پہیلی کو حل کرنے میدان میں کُودے اور دعویٰ کیا کہ زمین پہ تمام ساحلوں پر ریت کے جتنے ذرات ہیں ، کائنات میں اس سے کئی زیادہ ستارے موجود ہیں۔کچھ عرصہ قبل کارل ساگان کے اس دعوے کی سچائی جاننے کے لئے ریاضی کے ماہرین نے تحقیقات شروع کیں۔ سب سے پہلے حساب کتاب لگایا گیا کہ زمین پر ساحل سمندر کتنے کلومیٹر پر محیط ہیں؟جس کا جواب یہ ملا کہ اِس وقت زمین پر موجود تمام ساحل سمندر کو اگر جمع کیا جائے تو 3 لاکھ کلومیٹر لمبائی بنتی ہے۔اگر ہر ساحل سمندر 50 میٹر چوڑا اور 25 میٹر گہرا ہو تو دقیق حساب کتاب کے ذریعے اندازہ ہوا کہ دُنیا کے ساحل سمندر میں کُل ریت کے ذرات کی تعداد 3.75 ارب ارب ہوگی(یعنی 375 کے آگے 19 صفر لگا دیں)۔جبکہ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ ہماری کائنات میں 30ارب کھرب ستارے موجود ہیں(یعنی 3 کے آگے 23 صفر لگا لیں)۔اس انوکھی تحقیق کے بعد سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ کارل ساگان ٹھیک تھے، ستاروں کی یہ تعداد ہماری زمین پر ریت کے ذروں سے بھی زیادہ ہے۔
نمبر2: ہمیں علم ہے کہ ہر شے نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، بہت بڑے ستاروں کی موت جب واقع ہوتی ہے تو وہ عموماً ایک دھماکے سے پھٹ کر بلیک ہول نامی پُراسرار شے میں تبدیل ہوجاتے ہیں،لیکن سورج سے دس گنا بڑا ستارہ جب پھٹتا ہے تو اس کے پیچھے رہ جانے والےcore سے ایک نیوٹران ستارہ بن جاتا ہے۔نیوٹران ستارہ انتہائی عجیب شے ہے جس میں سورج جتنا مادہ اپنی ہی کشش ثقل میں سمٹ کر شہرِ لاہور جتنے علاقے میں قید ہوجاتا ہے ، جس وجہ سے اس کی کثافت بے پناہ بڑھ جاتی ہے، اس کی کثافت اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ اس ستارے کی ایک چمچ خاک/مٹی کا وزن ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر ہوتا ہے۔ زمین جیسے اپنے مرکز کے گرد ایک چکر 24 گھنٹوں میں مکمل کرتی ہے بالکل ویسے ہی ایک نیوٹران ستارہ ایک سیکنڈ میں 600 بار لٹو کی طرح اپنے مرکز کے گرد گھومتا ہے۔
نمبر 1: ابھی کچھ دہائیاں قبل ہی ہمیں علم ہوا ہے کہ ہماری کائنات میں وہ مادہ بھی موجود ہے جس کو دیکھا نہیں جاسکا، ایسے مادے کوسائنسدان ڈارک میٹر کا نام دیا گیا، جس کے بعد ایک اور انکشاف ہم پر یہ ہوا کہ ہماری کائنات ایک نامعلوم توانائی کی وجہ سے دن بدن تیز رفتاری سے پھیلتی چلی جارہی ہےجسے ڈارک انرجی کہا گیا ۔ انتہائی دقیق حساب کتاب کے بعد سائنسدان اندازہ لگا چکے ہیں کہ ہماری کائنات میں قابل مشاہدہ مادے کا تناسب 5 فیصد ہے، جبکہ ڈارک انرجی 68 فیصد اور ڈارک میٹر 27 فیصدہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جتنے سیارے، ستارے، کہکشائیں یعنی کُل کائنات دیکھتے ہیں اور ریسرچ کرتے ہیں، یہ صرف 5 فیصد مادے پہ مشتمل ہے، بقیہ 95 فیصد کائنات کے متعلق ہم کچھ بھی نہیں جانتے اور نہ ہی اُسے دیکھ سکتے ہیں۔
کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ محض سو سال قبل ہمارے لیے ملکی وے ہی کُل کائنات تھی مگر آپ کائنات میں ہمارے لیے کہکشاؤں کی تعداد 2 ہزار ارب کو کراس کرچکی ہماری کائنات کے متعلق سمجھ بہت بڑھ چکی ہے۔
جیسے جیسے ہم سائنس کے میدان میں قدم بڑھا رہے ہیں ویسے ویسے ہمیں قوانینِ قدرت کو سمجھنے میں آسانی ہوتی جارہی ہے، ہم بہت سے واقعات کو ایک الگ زاویے سے دیکھنا شروع ہوگئے ہیں۔لہٰذا تجسس سے بھرپور سائنس خود بھی سیکھیے اور دوسروں کو بھی سیکھائیے۔