ریشنلائزیشن کی موجودہ پالیسی کسی بھی صورت میں تعلیم دوستی قرار نہیں دی جاسکتی۔
جو تناسب ٹیچرز اور طلباء کا رکھا گیا ہے یہ کسی بھی لحاظ سے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے موزوں نہیں۔ 60 بچوں پر ایک استاد، استاد نے صرف لیکچر نہیں دینا ہوتا۔ بچوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ ان کی اصلاح کرنا ہوتی یے۔ سبق سننا ہوتا یے نوٹ بکس چیک کر کے غلطیوں کی اصلاح کرنا ہوتی ہے۔ ان کی تربیت کرنا ہوتی ہے۔ 35 منٹ کے پیریڈ میں 40 بچوں کو مثالی پڑھانا مشکل ہے تو 60 بچوں کو کیسے انفرادی توجہ دی جا سکتی ہے۔ یہ پالیسی بناتے وقت صرف نئے اساتذہ کی بھرتی کو روکنے کا تو اچھا طریقہ سوچا گیا لیکن طالب علموں کی تربیت اور اعلی معیا ر تعلیم کو یکسر بظر انداز کر دیا گیا۔ بحثیت ایک استاد میرا مشورہ ارباب اختیار کو ہے کہ اس پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور 40 بچوں کے لئے ایک استاد بلکہ معیار تعلیم کی بلندی کے لیے تو 35 طلباء پر ایک استاد تعینات کیا جائے۔
اگر اس پالیسی کو من و عن نافذ کر دیا گیا تو مستقبل میں ہمارے طلباء کا جو نقصان ہو گا اس کی تلافی ممکن نہیں۔ طلباء کا نقصان قوم کا نقصان ہو گا
لہذا ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ ہماری قوم کو اجتماعی نقصان سے بچایا جائے اور 35 طلباء ہر ایک استاد کے حساب سے پالیسی اپنائی جائے۔ اگر موجودہ پالیسی پر عمل درآمد یو گیا تو اس تعلیمی نقصان پر آنے والی نسل کے ہم قصوروار ہوں گے۔
محمودالحسن چوہدری
صدر انگلش ٹیچرز ایسوسی ایشن پنجاب
Home آپ کا سٹار تعلیم اورملازمت کش ریشنلائزیشن۔۔انگلش ٹیچرزایسوسی ایشن مزاحمت کرے گی۔محمودالحسن۔۔تفصیلات سٹارنیوزپر













