مایوسی خطرناک ہے مگر جدوجہد سے نکلا جا سکتا ہے

تحریر: اللہ نواز خان

allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں مایوسی بہت زیادہ بڑھ رہی ہے۔مہنگائی،بےروزگاری،غربت،تیل کی قیمتوں میں اضافہ،سی این جی کی قلت،نوکریوں کی کمی سمیت کئی قسم کے مسائل ہیں،جن سے مایوسی میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔درست ہے کچھ بین الاقوامی مسائل بھی پاکستان پر اثر انداز ہو رہے ہیں،لیکن حکمرانوں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس وقت شاید سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام بھی ہے۔ملک میں جمہوریت کے دعوے کیے گئے لیکن حقیقی جمہوریت دیکھنے میں نظر نہیں آئی۔اب حالت یہ ہو چکی ہے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں۔عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ضرورت ہے۔روزگار میں کمی یا کم اجرت کامسئلہ بہت ہی سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔لاکھوں نوجوان پاکستان سے باہر روزگار کے لیے جا رہے ہیں۔صرف گزشتہ سال 2025 میں تقریبا پونے اٹھ لاکھ افراد ملک کو چھوڑ گئے۔اگر ایک دہائی کا جائزہ لیا جائے تو تعداد بہت زیادہ نظر آئے گی۔افسوس تو یہ ہے کہ باہر صرف مزدور نہیں جا رہے بلکہ اعلی دماغ بھی جا رہے ہیں۔ان میں ڈاکٹرز،سائنسدان اور دیگر شعبوں کے ماہر افراد باہر جا رہے ہیں اور ان ٹیلنٹڈ افراد کا ملک چھوڑنا بہت ہی افسوسناک ہے۔پاکستان میں اگر روزگار کے مواقع پیدا کر دیے جائیں تو ملک کو کوئی بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔حکومت جو منصوبے شروع کرتی ہے،وہ کامیاب نہیں ہوتے۔کئی منصوبہ جات تو صرف اعلانات کی حد تک شروع کیے جاتے ہیں،حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔اگر جو منصوبے شروع کر بھی دیے جائیں تو وہ کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں۔کرپشن سے بچ جانے والے منصوبے بعض اوقات بالکل بے جان ہوتے ہیں اور ان کا کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر سبسڈی کے نام پردو،تین ہزار روپے عوام کو دے دیے جاتے ہیں،لیکن یہ رقم بھی تمام شہریوں کو نہیں ملتی۔دو، تین ہزار روپے مہنگائی کے دور میں کوئی وقعت بھی نہیں رکھتے،اگر حکومت کی اس سخاوت کو تسلیم کر لیا جائے تو دو تین ہزار میں کتنی غربت ختم ہو سکتی ہے؟مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔غربت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہےکہ ہر نوجوان ایسی ملازمت چاہتا ہے جو کافی مراعات والی ہو۔محنت کرنا بھی شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے،حالانکہ محنت کو اسلام میں بھی خاص اہمیت حاصل ہے اور جدید دنیا میں بھی محنت کی اہمیت کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مایوسی کو بڑھنے سے روکنا ضروری ہے۔اگر اسی طرح مایوسی میں اضافہ ہوتا رہا تو ملک شدید خطرے میں گھر جائے گا۔بیرونی طور پر بھی ملک پاکستان شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے اور اندرونی مسائل بھی روز بروز بڑھ رہے ہیں۔پاکستان میں سیاست انتہائی بدترین شکل اختیار کر رہی ہے۔سیاسی حالات کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔سیاست دان مذاکرات کر کے بہتر حل نکالیں۔بہت سی قومیں ہم سے بھی بدترین حالات سے نکل کر ترقی یافتہ ہوئیں۔اب بھی بہت سے ممالک برے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔جدوجہد کر کے مسائل سے نکلا جا سکتا ہے۔مایوسی بہت خطرناک ہوتی ہے،لیکن اتفاق کر کے محنت کی جائے تو مایوسی سے نکلا جا سکتا ہے۔اب بھی جو مایوس کن حالات ہیں،ان سے نپٹا جا سکتا ہے۔پاکستان میں معدنیات کی کمی نہیں اور دیگر بھی بہت سے وسائل ہیں۔تمام وسائل کو نیک نیتی سے استعمال میں لا کر غربت کی دلدل سے نکلا جا سکتا ہے۔روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔بہت سے ممالک صنعتوں کی وجہ سے ترقی یافتہ ہوئے۔پاکستان میں صنعتی بحران بہت بڑھ چکا ہے۔صنعتوں کو مہنگی توانائی ملتی ہے،جس کی وجہ سے خسارہ بڑھ جاتا ہے۔صنعتوں کو سستی توانائی مہیا کی جائے تاکہ ملک میں صنعتی انقلاب آجائے۔بہت سے کارخانے بند ہو رہے ہیں اور جہاں کام ہو رہا ہے،وہاں خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔بہت ہی کم کارخانے ہیں جہاں بہترین منافع حاصل ہو رہا ہو۔مہنگی بجلی،لوڈ شیڈنگ،بےروزگاری،کرپشن اور اس جیسے کئی مسائل ہیں،جن کی وجہ سے پاکستانی قوم مایوس ہوتی جا رہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا مایوسی کو شکست دی جا سکتی ہے؟تو جواب یہ ہے کہ جی ہاں!آسانی سے مایوسی کو شکست دی جا سکتی ہے۔ملک اب بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔مسائل حل ہو سکتے ہیں،لیکن اس کے لیے عوامی بیداری بھی ضروری ہے۔اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں”یقینا اللہ تعالی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل ڈالیں”(سورہ رعد۔11) قرآن کی اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالی ان کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت نہ بدلنا چاہیں۔مایوسی سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اپنی کوششیں کرنا ہوں گی،تب اللہ تعالی ضرور ہماری مدد کریں گے۔تفرقہ بازی،علاقائی تقسیم،زبان کا مسئلہ،سیاسی مسائل،کرپشن اور اس جیسے دیگر کئی مسائل موجود ہیں،جن سے مایوسی بڑھتی جاتی ہے۔تمام مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے،اگر خلوص دل سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے سے مسائل حل نہیں ہوتے اور نامایوسی ختم ہوتی ہے بلکہ مسلسل جدوجہد سے مایوسی سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔پاکستان کے لاکھوں افراد باہر کے ممالک میں روزی کما رہے ہیں،اگر ان کوجائز روزگار ملے تو وہ یہاں خوشی سے کام کریں گے۔ان کے لیے ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے جن سے وہ بیرون ملک کی بجائے اندرون ملک کام کریں۔مثبت امید مایوسی کو ختم کرتی ہے،لہذا ہمیں مثبت امید پیدا کرنی ہوگی تاکہ آگے بڑھا جا سکے۔