حوصلہ افزائی کا یہ سفر کیوں ضروری ہے؟
تحریر: مہر وسیم عبّاس کھرل
کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اس کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دن رات ایک کیے رکھتے ہیں۔ ایسے افسران کی خدمات کو سراہنا دراصل پورے نظام میں نئی روح پھونکنے کے مترادف ہوتا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید غضنفر علی شاہ کی جانب سے تھانہ رنگ پور کے ایس ایچ او انسپکٹر شمس اللہ خان قیصرانی کو تعریفی اسناد سے نوازنا صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ فرض شناسی، دیانت داری اور بہترین کارکردگی کا اعتراف ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جو ہر اہلکار تک پہنچتا ہے کہ محنت، لگن اور عوامی خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
انسپکٹر شمس اللہ خان قیصرانی نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں جس پیشہ ورانہ مہارت اور جرأت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں، عوام کے مسائل کے حل میں سنجیدگی اور قانون کی عملداری کے لیے مسلسل جدوجہد ان کی شناخت بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کارکردگی ضلعی سطح پر نمایاں ہوئی اور انہیں اس اعزاز کا مستحق قرار دیا گیا۔
دوسری جانب سید غضنفر علی شاہ بھی ان پولیس افسران میں شمار ہوتے ہیں جو کارکردگی کو پہچاننے اور قابل اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ایک اچھا سربراہ وہی ہوتا ہے جو اپنی ٹیم کی کامیابیوں کو سراہ کر انہیں مزید بہتر کام کرنے کا حوصلہ دے۔ آج مظفرگڑھ پولیس میں یہی روایت پروان چڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
معاشرے میں امن صرف اسلحے یا اختیارات سے قائم نہیں ہوتا بلکہ ایماندار قیادت، فرض شناس افسران اور عوام کے اعتماد سے جنم لیتا ہے۔ جب ایک افسر اپنی ذمہ داری کو عبادت سمجھ کر نبھاتا ہے تو اس کی کامیابی پورے ادارے کی کامیابی بن جاتی ہے۔
انسپکٹر شمس اللہ خان قیصرانی کو ملنے والی یہ تعریفی سند دراصل اس پیغام کی علامت ہے کہ خدمت، دیانت اور محنت کا راستہ ہی عزت اور کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
“وردی کی اصل شان اختیارات میں نہیں، عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے، اور اعتماد ہمیشہ کردار سے حاصل کیا جاتا ہے۔”













