آزمائش سے کامیابی تک سیدہ حریم طارق کی شاندار تعلیمی کامیابی امید، صبر اور عزم کی روشن مثال
تحریر محمد زاہد مجید انور
*زندگی میں کامیابی صرف ذہانت کا نام نہیں بلکہ صبر، استقامت، حوصلے اور مسلسل محنت کا ثمر ہوتی ہے۔ بعض لوگ سازگار حالات میں کامیاب ہوتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو شدید آزمائشوں، دکھوں اور صدموں کے باوجود اپنے خوابوں کا تعاقب نہیں چھوڑتے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی کامیابی سے دوسروں کے لیے امید اور حوصلے کی نئی راہیں متعین کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک قابلِ فخر مثال سیدہ حریم طارق ہیں، جنہوں نے برطانیہ کی معروف University of Huddersfield سے ایل ایل بی (آنرز) کی ڈگری فرسٹ کلاس اعزاز کے ساتھ حاصل کر کے نہ صرف اپنے والدین بلکہ پوری پاکستانی کمیونٹی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔یہ کامیابی صرف ایک تعلیمی ڈگری نہیں بلکہ صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کی روشن داستان ہے۔ سیدہ حریم طارق کے والد مخدوم سید طارق محمودالحسن نے اس خوشی کے موقع پر جن جذبات کا اظہار کیا، وہ ہر درد مند دل کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے اپنی تعلیم ایسے وقت میں جاری رکھی جب پورا خاندان اپنے دو نوجوان بیٹوں کے المناک انتقال کے ناقابلِ برداشت صدمے سے گزر رہا تھا۔ حریم اپنے مرحوم بڑے بھائی کی جڑواں بہن ہیں، اس لیے یہ دکھ ان کے لیے اور بھی زیادہ گہرا تھا، مگر انہوں نے غم کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنی طاقت بنایا اور ثابت کیا کہ مضبوط ارادوں کے سامنے مشکلات دم توڑ دیتی ہیں۔آج جب سیدہ حریم طارق نے فرسٹ کلاس اعزاز کے ساتھ اپنی قانونی تعلیم کا اہم مرحلہ مکمل کیا ہے تو یہ ہر اس نوجوان کے لیے امید کا پیغام ہے جو زندگی کی مشکلات سے گھبرا جاتا ہے۔ ان کی کامیابی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے، اپنی منزل پر یقین رکھے اور محنت کو اپنا شعار بنا لے تو کوئی آزمائش اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔یہ امر بھی باعثِ خوشی ہے کہ ستمبر میں سیدہ حریم طارق The University of Law میں بار ایٹ لا مع ایل ایل ایم کا آغاز کریں گی، جو ان کے قانونی کیریئر کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ یقیناً وہ مستقبل میں قانون کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت سے نمایاں مقام حاصل کریں گی۔اسی طرح یہ خبر بھی خوش آئند ہے کہ مخدوم سید طارق محمودالحسن کے صاحبزادے سید زہران طارق کامیابی کے ساتھ ایل ایل بی (آنرز) کے آخری سال میں داخل ہو چکے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ سال اپنی ڈگری مکمل کریں گے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خاندان تعلیم، کردار اور محنت کو اپنی کامیابی کی بنیاد سمجھتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ والدین کی سب سے بڑی خوشی اولاد کی کامیابی ہوتی ہے۔ جب بچے اپنی محنت، اخلاق اور قابلیت سے معاشرے میں مقام حاصل کرتے ہیں تو یہ صرف ایک خاندان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی کامیابی بن جاتی ہے۔ ایسے نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل ہیں جو دنیا کے ممتاز تعلیمی اداروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سیدہ حریم طارق کو زندگی کے ہر میدان میں مزید کامیابیاں، عزت، صحت، خوشیاں اور برکتیں عطا فرمائے، انہیں اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور قانون کے شعبے میں انصاف، دیانت اور خدمتِ انسانیت کی اعلیٰ مثال بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اسی طرح سید زہران طارق کو بھی اپنی تعلیم کامیابی سے مکمل کرنے اور زندگی کے ہر امتحان میں سرخرو ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔بلاشبہ یہ کامیابی اس حقیقت کی زندہ مثال ہے کہ آزمائشیں انسان کو کمزور نہیں کرتیں، بلکہ اگر ایمان، صبر اور محنت ساتھ ہوں تو یہی آزمائشیں کامیابی کی عظیم داستانوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔*











