محکمہ تعلیم کی متحرک اور باصلاحیت منتظم محترمہ عقیلہ انتخاب خان ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ میں بطور سی ای او ایجوکیشن مثالی خدمات انجام دینے والی ایک وژنری شخصیت
*تحریر ۔ محمد زاہد مجید انور
*تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور، تہذیبی ارتقا اور معاشی خوشحالی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ایک مضبوط، باشعور اور مہذب معاشرے کی تشکیل کا خواب اس وقت تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا جب تک تعلیمی نظام کو مضبوط، فعال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ بنایا جائے۔ بلاشبہ تعلیمی اداروں کی عمارتیں، جدید سہولیات اور نصاب اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن کسی بھی نظامِ تعلیم کی اصل کامیابی اس کی قیادت، انتظامی صلاحیت اور ان افراد کی مخلصانہ کوششوں سے وابستہ ہوتی ہے جو اسے چلانے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔محکمہ تعلیم میں ایسی ہی باصلاحیت، متحرک، فرض شناس اور تجربہ کار شخصیات میں محترمہ عقیلہ انتخاب خان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت، انتظامی صلاحیتوں، قائدانہ اوصاف اور تعلیمی شعبے سے گہری وابستگی کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ اس وقت بطور ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن ملتان اپنی ذمہ داریاں انجام دینے والی محترمہ عقیلہ انتخاب خان اس سے قبل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ضلع جھنگ میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ جہاں بھی انہیں ذمہ داری سونپی گئی، وہاں انہوں نے اسے محض ایک سرکاری منصب نہیں سمجھا بلکہ ایک قومی اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف کتابوں، امتحانات اور نتائج کا نام نہیں بلکہ نئی نسل کی کردار سازی، ذہنی تربیت اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے دوران محترمہ عقیلہ انتخاب خان نے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے بھرپور توجہ دی۔ انہوں نے سرکاری سکولوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی عمل کو مزید مؤثر بنانے، طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے معاملات کو خصوصی اہمیت دی۔ان کا اندازِ انتظام محض دفتری امور تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ عملی طور پر تعلیمی اداروں کی صورتحال سے آگاہ رہنے کو ترجیح دیتی رہیں۔ سکولوں کے دورے، انتظامی معاملات کا جائزہ، اساتذہ سے ملاقاتیں اور طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں ان کی انتظامی ترجیحات میں شامل رہیں۔ بالخصوص دیہی اور نسبتاً پسماندہ علاقوں کے سرکاری سکولوں پر توجہ دینا اس بات کا اظہار تھا کہ ان کے نزدیک معیاری تعلیم صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر بچے کو بلاامتیاز بہتر تعلیمی سہولیات میسر ہونی چاہئیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ان کی تعیناتی کے دوران محکمہ تعلیم میں ایک متحرک اور فعال انتظامی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سرکاری سکولوں میں صفائی ستھرائی، بنیادی سہولیات، تعلیمی ماحول اور تدریسی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر توجہ دی گئی۔ اساتذہ کو بھی اس امر کی تلقین کی گئی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہوئے نئی نسل کی بہتر تربیت اور تعلیم کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔محترمہ عقیلہ انتخاب خان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ انتظامی امور میں نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ انسانی رویوں اور باہمی احترام کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ نرم گفتاری، خوش اخلاقی اور شائستگی ان کی شخصیت کا نمایاں حصہ ہیں، تاہم جہاں فرائض کی انجام دہی، میرٹ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کا معاملہ ہو وہاں وہ ذمہ دارانہ اور اصولی مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔بعد ازاں ضلع جھنگ میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ذمہ داریاں سنبھالنا ان کے لیے ایک اور اہم انتظامی مرحلہ تھا۔ جھنگ جیسے بڑے اور وسیع ضلع میں محکمہ تعلیم کے معاملات کو مؤثر انداز میں چلانا یقیناً ایک چیلنجنگ ذمہ داری تھی، مگر انہوں نے اپنی انتظامی بصیرت، تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے اس ذمہ داری کو بھی احسن انداز میں نبھانے کی کوشش کی۔جھنگ میں ان کی توجہ کا مرکز تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کو درپیش جائز مسائل کا حل، سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ اور جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگی رہا۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھیں کہ کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کا دارومدار صرف انتظامیہ پر نہیں بلکہ اساتذہ، طلبہ، والدین اور معاشرے کے باہمی تعاون پر بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتظامی انداز میں مشاورت، رہنمائی اور مشترکہ کوششوں کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ایک کامیاب تعلیمی منتظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ مسائل کو محض کاغذی کارروائی کے ذریعے نہیں بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ محترمہ عقیلہ انتخاب خان کی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی یہی پہلو نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ وہ تعلیمی شعبے کے مسائل سے آگاہی رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے قابلِ عمل اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔محکمہ تعلیم جیسے وسیع شعبے میں جہاں ہزاروں اساتذہ، لاکھوں طلبہ اور سینکڑوں اداروں کے معاملات موجود ہوں، وہاں ایک افسر کے لیے ہر فرد کو مطمئن رکھنا ممکن نہیں ہوتا، تاہم ایک اچھی انتظامیہ کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ فیصلے میرٹ، قانون اور ادارے کے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں۔ محترمہ عقیلہ انتخاب خان کی شخصیت میں میرٹ، شفافیت، دیانتداری اور اصول پسندی کو اہمیت دینے کا پہلو ان کے انتظامی کردار کو مزید مضبوط بناتا ہے۔اساتذہ کسی بھی قوم کے حقیقی معمار ہوتے ہیں۔ ایک استاد صرف طالب علم کو نصابی علم نہیں دیتا بلکہ اس کی شخصیت، سوچ اور کردار کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ محترمہ عقیلہ انتخاب خان نے اپنی مختلف ذمہ داریوں کے دوران اساتذہ کے کردار اور پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت کو ہمیشہ اجاگر کیا۔ ان کا یقین ہے کہ اگر استاد کو بہتر رہنمائی، سازگار ماحول اور مناسب پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جائیں تو اس کے مثبت اثرات براہِ راست طلبہ اور پورے تعلیمی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔آج کے دور میں تعلیم کے تقاضے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم، تحقیق، تخلیقی صلاحیتوں اور عملی تربیت نے تعلیمی نظام کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ ایسے میں محکمہ تعلیم سے وابستہ افسران کے لیے ضروری ہے کہ وہ روایتی انداز سے آگے بڑھتے ہوئے جدید تقاضوں کو سمجھیں اور تعلیمی اداروں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیار کریں۔ محترمہ عقیلہ انتخاب خان بھی ان افسران میں شامل ہیں جو تعلیم کے شعبے میں بہتری اور جدیدیت کی ضرورت کو محسوس کرتی ہیں۔بطور ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن ملتان ان کے سامنے ذمہ داریوں کا دائرہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ملتان ڈویژن کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی، انتظامی معاملات، تدریسی معیار اور دیگر تعلیمی امور میں ایک مؤثر، فعال اور مربوط نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک تجربہ کار انتظامی افسر کے طور پر ان کی سابقہ خدمات اور تجربہ یقیناً ان ذمہ داریوں کی انجام دہی میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ان کی کوششوں کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے، طلبہ کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کی جائے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے اور تعلیمی ماحول کو ایسا بنایا جائے جہاں ہر طالب علم اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لا سکے۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے بارے میں والدین اور عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر سرکاری سکولوں میں معیارِ تعلیم بہتر ہو، اساتذہ اپنی ذمہ داریاں پوری لگن سے ادا کریں، بنیادی سہولیات میسر ہوں اور انتظامی نظام فعال ہو تو یقیناً زیادہ سے زیادہ والدین اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کروانے کو ترجیح دیں گے۔محترمہ عقیلہ انتخاب خان کی پیشہ ورانہ زندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایک مخلص اور باصلاحیت افسر اپنی صلاحیت، محنت اور درست حکمت عملی کے ذریعے اداروں میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ میں بطور سی ای او ایجوکیشن ان کی خدمات اور اب ملتان ڈویژن میں بطور ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن ان کی ذمہ داریاں ان کے وسیع انتظامی تجربے کا ثبوت ہیں۔بلاشبہ محکمہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو ایسے افسران کی ضرورت ہے جو محض دفتری امور تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں جا کر مسائل کا جائزہ لیں، اساتذہ اور طلبہ کی رہنمائی کریں، اداروں کی ضروریات کو سمجھیں اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کریں۔ محترمہ عقیلہ انتخاب خان کی شخصیت میں متحرک انتظامی صلاحیت، پیشہ ورانہ تجربہ، خوش اخلاقی اور تعلیمی شعبے سے وابستگی کا ایک خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ کے تعلیمی و سماجی حلقوں میں آج بھی ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان دونوں اضلاع میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ان کی ذمہ داریوں کا دور اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے مضبوط قیادت، واضح وژن اور مسلسل محنت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محترمہ عقیلہ انتخاب خان محکمہ تعلیم کا ایک قیمتی سرمایہ اور ایک باصلاحیت، تجربہ کار اور متحرک تعلیمی منتظم ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ خدمات، انتظامی تجربہ اور تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے کوششیں یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ قوم کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایسے مخلص اور وژنری افسران کی خدمات نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقے محترمہ عقیلہ انتخاب خان کی سابقہ اور موجودہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید رکھتے ہیں کہ وہ مستقبل میں بھی اسی جذبے، خلوص اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ محکمہ تعلیم کی بہتری، سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار کو بلند کرنے اور نئی نسل کو ایک روشن مستقبل فراہم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہیں گی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محترمہ عقیلہ انتخاب خان کو صحت، عزت، مزید کامیابیاں اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے مزید ہمت و توانائی عطا فرمائے، تاکہ ان کی صلاحیتوں اور تجربے سے محکمہ تعلیم اور بالخصوص نئی نسل مزید مستفید ہو سکے۔ آمین۔*













