دبنگ آفیسر ماہم آصف ملک؛ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عوامی خدمت، انتظامی نگرانی اور گڈ گورننس کی نئی مثال
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*کسی بھی ضلع کی انتظامی کارکردگی کا حقیقی اندازہ صرف سرکاری دفاتر کی فائلوں سے نہیں بلکہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کس قدر نظر رکھتی ہے۔ ایک متحرک، باصلاحیت اور فرض شناس ڈپٹی کمشنر نہ صرف انتظامی مشینری کو متحرک رکھتا ہے بلکہ پورے ضلع میں احساسِ ذمہ داری، جواب دہی اور عوامی خدمت کی ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس کے اثرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کی انتظامی سرگرمیاں بھی اسی حوالے سے خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ماہم آصف ملک کو ایک دبنگ، متحرک اور فیلڈ میں رہ کر کام کرنے والی افسر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کی انتظامی سوچ کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ محض اجلاسوں اور دفتری رپورٹس تک محدود رہنے کے بجائے ضلع کے مختلف محکموں کی کارکردگی پر عملی نظر رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ صحت، صفائی، شہری سہولیات اور دیگر سرکاری محکموں کے معاملات میں چیک اینڈ بیلنس کا عمل انتظامی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کی نگرانی میں سرکاری محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ ضلعی انتظامیہ محض کاغذی کارروائی پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی نتائج کو اہمیت دے رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر مختلف امور کی نگرانی، افسران اور متعلقہ اہلکاروں سے جواب طلبی اور عوامی سہولیات کی صورتحال کا جائزہ انتظامیہ کے لیے ایک مؤثر چیک اینڈ بیلنس کا نظام ثابت ہو سکتا ہے خصوصاً صحت کا شعبہ براہِ راست انسانی زندگی سے وابستہ ہے۔ ہسپتالوں، مراکز صحت، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی، طبی عملے کی حاضری اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات ایسے معاملات ہیں جن پر مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔ اس شعبے سمیت دیگر محکموں کی کارکردگی پر توجہ دینا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی سے ادا کریں اور عوام کو بروقت سہولیات فراہم کی جائیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک زرعی، صنعتی اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ضلع کی حیثیت رکھتا ہے جہاں شہری اور دیہی آبادی کے مسائل کی نوعیت مختلف ہے۔ ایسے ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داریاں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک طرف شہری علاقوں میں صفائی، سیوریج، ٹریفک، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل موجود ہوتے ہیں تو دوسری طرف دیہی علاقوں میں عوام کو بنیادی سرکاری سہولیات کی فراہمی، انتظامی معاملات اور دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ان تمام معاملات کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت دیکھنا ایک بڑے انتظامی چیلنج سے کم نہیں۔ماہم آصف ملک کی شخصیت کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ انتظامی ذمہ داریوں کو محض عہدے کی حیثیت سے نہیں بلکہ عوامی خدمت کی ذمہ داری کے طور پر دیکھتی نظر آتی ہیں۔ کسی بھی سرکاری افسر کی اصل کامیابی اسی وقت سامنے آتی ہے جب عام شہری کو یہ احساس ہو کہ ضلعی انتظامیہ اس کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے موجود ہے۔ عوامی شکایات کا ازالہ، سرکاری اداروں کی نگرانی اور فیلڈ میں انتظامی موجودگی اس اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ایک اچھے افسر کی پہچان صرف سخت فیصلے کرنا نہیں بلکہ میرٹ، انصاف، قانون کی پاسداری، انسانی ہمدردی اور انتظامی توازن کے ساتھ فیصلے کرنا بھی ہے۔ اسی لیے کسی افسر کو دبنگ کہنے کا حقیقی مطلب یہ ہونا چاہیے کہ وہ قانون اور سرکاری ذمہ داریوں پر سمجھوتہ نہ کرے، بدانتظامی کو برداشت نہ کرے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھے۔ ماہم آصف ملک کی موجودہ انتظامی سرگرمیوں کے تناظر میں ان کی یہ طرزِ عمل خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کی فعال نگرانی سے ماتحت محکموں کے افسران اور اہلکاروں میں بھی ذمہ داری کا احساس بڑھتا ہے۔ جب کسی ادارے کے سربراہ کی طرف سے مسلسل مانیٹرنگ ہو تو کارکردگی میں بہتری، وقت کی پابندی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یہی گڈ گورننس کی بنیادی روح ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوام کی خواہش ہے کہ ضلع میں انتظامی نگرانی کا یہ سلسلہ مزید مضبوط ہو، تمام سرکاری محکموں کی کارکردگی کو میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر جانچا جائے، عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں عام شہری تک پہنچیں۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کے لیے یہ عہدہ محض ایک سرکاری منصب نہیں بلکہ ہزاروں شہریوں کی امیدوں اور توقعات سے جڑی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر اسی جذبے، فیلڈ ورک، مسلسل نگرانی، میرٹ پسندی اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ انتظامی امور کو آگے بڑھایا جاتا رہا تو بلاشبہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گڈ گورننس، ادارہ جاتی بہتری اور عوامی سہولت کے حوالے سے مزید مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔دبنگ افسر وہی ہے جو اختیار کو رعب کے بجائے قانون، انصاف اور عوامی خدمت کے لیے استعمال کرے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لیے ایک متحرک ڈپٹی کمشنر کی موجودگی اسی امید کو تقویت دیتی ہے کہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا اور ضلع ترقی، نظم و ضبط اور بہتر عوامی سہولیات کی جانب آگے بڑھے گا۔*













