یکم اکتوبر 1981ء: روزنامہ جنگ لاہور کا آغاز اور میرے والد کی صحافتی نسبت
*تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*پاکستان کی اردو صحافت کی تاریخ میں یکم اکتوبر 1981ء ایک اہم اور یادگار دن کی حیثیت رکھتا ہے، جب قومی اخبار روزنامہ جنگ نے لاہور سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ یہ محض ایک نئے اخبار کے اجرا کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اردو صحافت کے انداز، پیشکش، طباعت، کمپوزنگ اور خبر کی ترسیل میں ایک نئے دور کا آغاز بھی تھا۔ میرے لیے اس تاریخی دن کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہے کہ روزنامہ جنگ لاہور کے ابتدائی صحافتی سفر سے میرے والدِ مرحوم حاجی عبدالمجید انور، نمائندہ جنگ و جیو نیوز کی صحافتی نسبت بھی وابستہ ہے۔میرے والد مرحوم نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز پاکستان کے قومی اخبار روزنامہ جنگ سے کیا۔ وہ جنگ لاہور کے ابتدائی دور میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پہلے ڈسٹرکٹ رپورٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی صحافتی خدمات اور روزنامہ جنگ سے وابستگی ہمارے خاندان کے لیے محض ایک پیشہ ورانہ نسبت نہیں بلکہ ایک تاریخی ورثہ ہے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوامی مسائل، انتظامی معاملات، سماجی سرگرمیوں اور مقامی حالات کو قومی سطح کے اخبار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔روزنامہ جنگ نے اردو صحافت پر جو دور رس اثرات مرتب کیے، ان میں جدید کمپوزنگ ٹیکنالوجی کا استعمال ایک اہم سنگِ میل تھا۔ ایک وقت تھا جب اردو اخبارات کی تیاری میں کاتب، خوشنویس، فلم، برومائڈ اور دستی پیسٹنگ جیسے مراحل بنیادی حیثیت رکھتے تھے، لیکن کمپیوٹرائزڈ کمپوزنگ نے اس پورے نظام کو تبدیل کر دیا۔1980ء کی دہائی کے آغاز میں نوری نستعلیق کمپوزنگ کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹر انتہائی مہنگے تھے۔ اس دور میں ایک کمپیوٹر کی قیمت تقریباً ایک کروڑ روپے تک بتائی جاتی تھی جبکہ اس پر اتنی ہی رقم کے قریب ڈیوٹی بھی عائد ہوتی تھی۔ حکومت کی جانب سے ابتدائی دس کمپیوٹرز پر ڈیوٹی میں رعایت دی گئی تو دوراندیش مدیر و صحافتی رہنما میر خلیل الرحمٰن نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اردو صحافت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی بنیاد مضبوط کی۔اس وقت کمپیوٹر آج کے چھوٹے اور تیز رفتار آلات جیسے نہیں تھے بلکہ ایک پورے کمرے کے برابر جگہ گھیر لیتے تھے۔ کمپوزنگ کے بعد سوراخ دار فیتہ نکلتا، اس کے ذریعے برومائڈ پیپر پر عکس لیا جاتا، پھر فلم تیار ہوتی اور اسے پرانے طریقۂ کار کے مطابق کاٹ کر صفحے پر چسپاں کیا جاتا۔ سرخیاں خوشنویس تیار کرتے اور انہیں بھی کاٹ کر صفحے کی ترتیب کے مطابق جوڑا جاتا۔ابتدائی دور میں کمپیوٹرائزڈ کمپوزنگ بھی خامیوں سے پاک نہیں تھی۔ بعض الفاظ ٹائپ نہیں ہو پاتے تھے اور بعض اوقات ایک لفظ کا مطلب ہی بدل جاتا تھا، حتیٰ کہ بعض مرتبہ نازیبا نوعیت کی غلطیاں بھی سامنے آجاتی تھیں۔ ان غلطیوں کی اصلاح کاتب قلم سے کیا کرتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی بہتر ہوتی گئی اور وہی کام جو کبھی بڑے بڑے کمروں، مشینوں اور کئی افراد کی محنت کا محتاج تھا، آج چند ہزار روپے کے کمپیوٹر پر زیادہ تیزی اور درستگی سے انجام پاتا ہے۔کمپیوٹرائزڈ کمپوزنگ نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اردو صحافت کے امکانات وسیع کیے۔ آج پاکستان کے کسی گاؤں یا چھوٹے شہر میں بیٹھا ہوا شخص بیرونِ ملک شائع ہونے والے اخبار، رسالے یا کتاب کے لیے مواد تیار، کمپوز، مرتب اور ڈیزائن کر سکتا ہے۔ انٹرنیٹ نے اخبارات کی دنیا کو مزید وسعت دی اور دنیا کے مختلف حصوں میں اردو صحافت کی رسائی ممکن بنائی۔یہ بھی اردو صحافت کی تاریخ کا ایک اہم پہلو ہے کہ بھارت میں جہاں کاتبوں کی کمی کے باعث کئی اردو اخبارات اور جرائد مشکلات کا شکار ہو رہے تھے، جدید کمپوزنگ ٹیکنالوجی نے اردو صحافت کو ایک نئی زندگی فراہم کی۔ اس اعتبار سے اردو زبان کے قارئین اور صحافی نوری نستعلیق کے موجد احمد مرزا جمیل کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔روزنامہ جنگ لاہور کی کامیابی کا ایک اہم سبب اس کا منفرد صحافتی اور بصری انداز بھی تھا۔ جنگ لاہور نے جنگ کراچی کے روایتی انداز سے مختلف انداز اپنایا۔ چٹ پٹی خبروں، متعدد ذیلی سرخیوں اور صفحے کی ایسی ترتیب متعارف ہوئی جس نے قارئین کی توجہ حاصل کی۔ یہ انداز اس قدر مقبول ہوا کہ ملک کے دیگر اخبارات نے بھی اپنے لے آؤٹ اور خبر کی پیشکش میں تبدیلیاں کیں۔جنگ لاہور دراصل میر شکیل الرحمٰن کے ایک اہم صحافتی منصوبے کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے لاہور کے قارئین کی پسند اور مقامی صحافتی مزاج کو سمجھتے ہوئے خبر کو زیادہ متحرک، مختصر اور نمایاں انداز میں پیش کیا۔ نتیجتاً جنگ لاہور نے مختصر عرصے میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔روایت ہے کہ میر خلیل الرحمٰن کے خیال میں لاہور ایڈیشن کی سرکولیشن اگر دس ہزار تک بھی پہنچ جائے تو اسے بڑی کامیابی سمجھا جائے گا، لیکن میر شکیل الرحمٰن کی قیادت میں جنگ لاہور کی اشاعت اس سطح سے کہیں آگے نکل گئی۔ یہی کامیابی اس بات کا ثبوت بنی کہ ایک مضبوط صحافتی ادارہ اپنے قارئین کی بدلتی ہوئی ضروریات کو سمجھ کر خود کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔روزنامہ جنگ لاہور کے سفر کو صرف ایک اخبار کے اجرا کی داستان سمجھنا اس کی تاریخی اہمیت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل پاکستان میں اردو صحافت کے ایک ایسے دور کا آغاز تھا جس میں روایتی کاتب سے کمپیوٹر، دستی پیسٹنگ سے جدید ڈیزائننگ، محدود مقامی اشاعت سے متعدد ایڈیشنز اور پھر انٹرنیٹ تک کا سفر طے ہوا۔اور اس تاریخی سفر میں میرے والد مرحوم حاجی عبدالمجید انور کی صحافتی نسبت میرے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہے گی۔ انہوں نے جس دور میں صحافت کا آغاز کیا، اس وقت آج کی طرح موبائل فون، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل نیوز روم کا تصور موجود نہیں تھا۔ خبر پہنچانے کے لیے محنت، رابطوں، مشاہدے اور قلم پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ایسے دور میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو کر ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی نمائندگی کرنا یقیناً ایک بڑی ذمہ داری تھی۔میرے والد مرحوم کی صحافتی زندگی اس حقیقت کی عکاس تھی کہ اچھا صحافی صرف خبر نہیں لکھتا بلکہ اپنے علاقے کی تاریخ بھی محفوظ کرتا ہے۔ اس کے قلم سے لکھی ہوئی خبریں آنے والی نسلوں کے لیے اپنے عہد کا آئینہ بن جاتی ہیں۔آج یکم اکتوبر 2026ء کو روزنامہ جنگ لاہور کے اجرا کے 45 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے کے اس سفر میں صحافت نے ٹیکنالوجی کے کئی ادوار دیکھے۔ کاتب سے کمپیوٹر، کمپیوٹر سے انٹرنیٹ، ویب سائٹس سے سوشل میڈیا اور اب مصنوعی ذہانت تک صحافت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، مگر ایک اصول آج بھی اپنی جگہ قائم ہے: خبر کی اصل طاقت اس کی سچائی، ذمہ داری اور اعتبار میں ہے۔روزنامہ جنگ لاہور کا تاریخی سفر، جدید کمپوزنگ کی بنیاد، اردو صحافت میں نوری نستعلیق کا انقلاب اور میرے والد مرحوم حاجی عبدالمجید انور کی صحافتی وابستگی—یہ سب میرے لیے ایک ایسی یادگار داستان کے مختلف باب ہیں جسے میں اپنے خاندان اور اپنے شہر کی صحافتی تاریخ کا قیمتی حصہ سمجھتا ہوں۔یکم اکتوبر 1981ء کو شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی اردو صحافت کی تاریخ کے صفحات میں ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے، اور میرے لیے اس باب میں اپنے والد مرحوم کا نام دیکھنا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک جذباتی یاد بھی۔*













