سموگ کی روک تھام، انتظامیہ اور صنعتکاروں کی مشترکہ ذمہ داری

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*فضائی آلودگی اور سموگ انسانی صحت، ماحول اور روزمرہ زندگی کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔ خصوصاً صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا دھواں اور آلودگی نہ صرف ماحول کو متاثر کرتی ہے بلکہ شہریوں کے لیے سانس اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ایسے حالات میں سموگ کی روک تھام کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک نے سموگ کی روک تھام کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں سموگ کنٹرول کرنے والے آلات کی تنصیب یقینی بنائی جائے، کیونکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صنعتی اداروں کا ذمہ دارانہ کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں سموگ کنٹرول کرنے والے آلات کی تنصیب لازمی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں 5 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ صنعتی یونٹس ماحولیاتی قوانین اور حکومتی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کریں۔ دھویں کے اخراج کو کم کرنے والے جدید آلات کی تنصیب اور ان کی باقاعدہ دیکھ بھال سے فضائی آلودگی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کی جانب سے فیکٹریوں اور کارخانوں کی نگرانی بھی مؤثر انداز میں جاری رہنی چاہیے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کی جانب سے سموگ کے تدارک کے لیے واضح مؤقف اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ تاہم اس مہم کی کامیابی صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ صنعتکاروں، کاروباری افراد اور شہریوں سمیت معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ صنعتی ادارے جرمانے سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ صاف اور صحت مند ماحول کے تحفظ کے قومی و سماجی فریضے کے طور پر سموگ کنٹرول کے اقدامات پر عمل کریں۔ انتظامیہ بھی قانون پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ صنعتی نمائندوں کو ضروری رہنمائی اور آگاہی فراہم کرے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی سرگرمیوں کے درمیان ایک مؤثر توازن قائم رکھا جا سکے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے زرعی اور صنعتی ضلع میں صاف ستھری فضا کا تحفظ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ سموگ کے خلاف مؤثر کارروائی، ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد اور صنعتی اداروں کی ذمہ داری ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ضلع کو آلودگی کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔پیغام واضح ہے: سموگ کی روک تھام صرف انتظامیہ کی نہیں، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔*