طالب حسین درد — مکمل سوانح حیات

طالب حسین درد جھنگ سے تعلق رکھنے والے معروف پنجابی/سرائیکی لوک گلوکار تھے۔ انہیں خاص طور پر راگِ جوگ میں غیر معمولی مہارت کی وجہ سے “شہنشاہِ جوگ” کہا جاتا تھا۔ ان کی گائیکی میں صحرائی وسیب، محبت، جدائی، درد اور دیہی زندگی کے رنگ نمایاں تھے۔

پیدائش اور خاندان:
ایک تفصیلی سوانحی تحریر کے مطابق طالب حسین درد 1955ء میں خانوآنہ، ضلع جھنگ میں میاں لعل کے گھر پیدا ہوئے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام طالب حسین رکھا گیا۔ گلوکاری میں آنے کے بعد “درد” ان کے نام کا مستقل حصہ بن گیا، جبکہ عقیدت مند انہیں محبت سے “طالبو” اور بعد میں “بابا طالب حسین درد” اور “خان صاحب” بھی کہتے تھے۔

موسیقی کی تعلیم:
انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تربیت خوشاب کے نذر حسین ڈھوکڑی سے حاصل کی، جبکہ بعد میں استاد شفقت خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھے۔ رفتہ رفتہ انہوں نے اپنی ایک منفرد گائیکی کا انداز پیدا کیا۔

راگِ جوگ کے شہنشاہ

طالب حسین درد نے مختلف راگوں میں گایا، جن میں مالکونس، ایمن کلیان، بھیم، درباری، بھیرویں اور پہاڑی وغیرہ شامل تھے، لیکن ان کی اصل پہچان راگِ جوگ بنی۔ ان کی آواز اور اندازِ ادائیگی نے انہیں دوسرے لوک فنکاروں سے ممتاز کر دیا۔

وہ پنجاب کے مختلف میلوں اور تقریبات میں گاتے رہے۔ ان کی مقبولیت صرف جھنگ تک محدود نہ رہی بلکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں شادی بیاہ اور ثقافتی تقریبات میں ان کے پروگرام شوق سے کروائے جاتے تھے۔

شاعری اور گائیکی

طالب حسین درد صرف گلوکار نہیں تھے؛ دستیاب سوانحی مواد کے مطابق وہ اپنے بہت سے گیتوں کی شاعری خود بھی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جھنگ اور سرائیکی وسیب کے کئی شعرا کا کلام بھی گایا۔

ان سے منسوب معروف گیتوں میں:

گھڑ سنیاریا چھلا

اسیں ماڑے سرکار

واہ وے ذرا جیہا نیبوآ

وے میں چوری چوری

ہک واری پھیرا پا ونج میریاں وطناں تے

شامل ہیں۔

1994–95 کا اہم دور

ان کی فنی زندگی میں 1994–95ء کا زمانہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مون کیسٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک البم نے ان کی شہرت کو بہت بڑھایا۔ اس میں ان کا گایا ہوا:

“اسیں ماڑے سرکار، تسیں چنگے او، ساڈا کی اے تکرار”

بہت مقبول ہوا۔ بعد میں پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) نے بھی اسے خصوصی تقریب میں ریکارڈ کیا۔

1999ء میں طالب حسین درد نے اپنے بیٹے عمران طالب کو بھی گائیکی کے میدان میں متعارف کرایا۔ دونوں کی آواز میں مشابہت تھی اور ان کا مشترکہ البم بھی بہت مقبول ہوا۔ سوانحی تحریر کے مطابق طالب حسین درد اپنے بیٹے کو اپنی فنی میراث کا تسلسل سمجھتے تھے۔

طالب حسین درد کو ان کے مداح صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ ایک درویش صفت، سادہ اور عوامی فنکار کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کی گائیکی میں وسیب کے عام لوگوں کے دکھ، محبت اور جذبات کی ترجمانی ہوتی تھی۔ اسی لیے لوگ انہیں عقیدت سے بابا طالب حسین درد کہتے تھے۔

وفات

طالب حسین درد کی وفات مارچ 2019ء میں ہوئی۔ ایک مقامی خبر میں ان کی وفات 16 مارچ 2019ء کو رپورٹ کی گئی، جبکہ ایک تفصیلی سوانحی تحریر ان کی وفات 17 مارچ 2019ء صبح 7:30 بجے بتاتی ہے۔ اس لیے تاریخ کے بارے میں ذرائع میں ایک دن کا اختلاف موجود ہے۔

ان کی نمازِ جنازہ خانوآنہ، ضلع جھنگ میں ادا کی گئی اور انہیں آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

طالب حسین درد نے تقریباً نصف صدی تک پنجاب اور سرائیکی وسیب کی لوک موسیقی کو اپنی منفرد آواز دی۔ ان کی سب سے بڑی شناخت راگِ جوگ، درد بھری آواز اور وسیب کی ثقافت کی ترجمانی تھی۔ آج بھی ان کا نام جھنگ اور سرائیکی/پنجابی لوک موسیقی کی تاریخ میں احترام سے لیا جاتا ہے۔