تحصیلدار ٹوبہ ٹیک سنگھ علی عباس بھروانہ کی عوامی خدمت ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھی جائے گی؛ دیانتداری، فرض شناسی اور عوامی ریلیف ان کی تعیناتی کا نمایاں وصف رہا
*ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور سے) تحصیلدار ٹوبہ ٹیک سنگھ علی عباس بھروانہ کا تبادلہ اگرچہ ایک معمول کی انتظامی کارروائی ہے، تاہم ان کی تعیناتی کے دوران عوام کے لیے انجام دی جانے والی بے لوث خدمات اور فرائض کی دیانتدارانہ ادائیگی نے انہیں عوامی حلقوں میں ایک اچھی اور قابلِ احترام شناخت دی ہے۔ ان کے تبادلے کے موقع پر شہریوں، سائلین اور مختلف سماجی حلقوں نے ان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی عباس بھروانہ نے اپنے دورِ تعیناتی میں سرکاری ذمہ داری کو محض منصب نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھ کر ادا کیا۔علی عباس بھروانہ نے تحصیلدار ٹوبہ ٹیک سنگھ کی حیثیت سے ریونیو سے متعلق امور میں قانون اور میرٹ کو مقدم رکھا اور سائلین کے مسائل سننے، ان کی درخواستوں پر توجہ دینے اور متعلقہ معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ عوامی حلقوں کے مطابق ان کے طرزِ عمل میں شائستگی، تحمل اور سائلین کے ساتھ مناسب رویہ نمایاں رہا، جس کے باعث سرکاری دفتر میں آنے والے شہریوں کو اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع ملا۔تحصیلدار کا منصب براہِ راست عوامی معاملات سے جڑا ہوا ہے۔ اراضی ریکارڈ، انتقالات، فرد کے حصول، ریونیو کیسز، سرکاری واجبات اور دیگر معاملات میں شہریوں کو اکثر سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ ایسے میں افسر کا عوام دوست رویہ نہ صرف سائلین کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے بلکہ سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ علی عباس بھروانہ کے حوالے سے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اسی اصول کو ترجیح دی۔ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے سرکاری ذمہ داریوں کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر انجام دینے کی کوشش کی۔ میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق کام کرنا کسی بھی ریونیو افسر کی بنیادی ذمہ داری ہے اور علی عباس بھروانہ کے دورِ تعیناتی کو عوامی حلقے انہی حوالوں سے یاد کر رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ کسی سرکاری افسر کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کے کردار، رویے اور عوام کے ساتھ برتاؤ سے بنتی ہے۔ علی عباس بھروانہ نے مختصر عرصہ بھی اس انداز میں گزارا کہ ان کی خدمات کا مثبت تاثر شہریوں کے ذہنوں میں برقرار رہے گا۔ ان کی دیانتداری اور فرض شناسی کے حوالے سے جو اچھے تاثرات سامنے آئے ہیں، وہ کسی بھی افسر کے لیے قابلِ قدر اثاثہ ہیں۔علی عباس بھروانہ کی نئی تعیناتی تحصیلدار سٹی فیصل آباد کے طور پر عمل میں آئی ہے، جہاں انہیں مزید وسیع اور اہم ریونیو و انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہریوں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ فیصل آباد میں بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانتداری، میرٹ پسندی اور عوام دوست رویے کو برقرار رکھتے ہوئے فرائض سرانجام دیں گے۔مختلف سماجی، سیاسی، کاروباری اور عوامی حلقوں نے علی عباس بھروانہ کے تبادلے پر ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھے افسران جہاں بھی تعینات ہوتے ہیں، اپنے کردار اور خدمت کے نقوش چھوڑ جاتے ہیں اور علی عباس بھروانہ کی عوامی خدمت بھی اسی حوالے سے یاد رکھی جائے گی۔عوامی حلقوں نے مزید کہا کہ سرکاری افسر کا تبادلہ انتظامی ضرورت کا حصہ ضرور ہے، لیکن کسی افسر کی اچھی کارکردگی اور عوام کے ساتھ حسنِ سلوک اس کے تبادلے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ علی عباس بھروانہ کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہریوں کا خراجِ تحسین اس بات کا مظہر ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کے دوران عوامی اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔دعا ہے کہ علی عباس بھروانہ اپنی نئی ذمہ داریوں میں بھی اسی جذبۂ خدمت، دیانتداری، شفافیت اور فرض شناسی کے ساتھ فرائض انجام دیں اور تحصیلدار سٹی فیصل آباد کی حیثیت سے بھی عوامی مسائل کے حل اور قانون و میرٹ کی بالادستی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوام کی جانب سے ان کے لیے نیک تمنائیں اور مستقبل میں کامیابی کے لیے دعائیں ان کی خدمات کے اعتراف کا خوبصورت اظہار ہیں۔*













