سہیل وڑائچ کی حوصلہ افزائی؛ ایک لکھاری کے لیے معتبر قلم کار کی تحسین کیوں اہم ہے؟

تحریر ۔۔ محمد زاہد مجید انور

صحافت محض الفاظ کو کاغذ پر منتقل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ تحقیق، مشاہدے، مطالعے، احساسِ ذمہ داری اور حقائق کو دیانت داری کے ساتھ قارئین تک پہنچانے کا ایک مقدس فریضہ ہے۔ ایک صحافی اور کالم نگار جب قلم اٹھاتا ہے تو اس کے سامنے صرف ایک موضوع نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ معاشرے کی ترجیحات، تاریخی حقائق، انسانی جذبات اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہونے والی ایک تحریری دستاویز بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی منجھے ہوئے اور معتبر صحافتی قلم کار کی جانب سے کسی نئے یا سرگرم لکھاری کی تحریر کو سراہا جانا اس کے لیے محض چند تعریفی الفاظ نہیں بلکہ ایک قیمتی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔حال ہی میں پاکستان کے معروف صحافی، ممتاز دانشور، سینئر کالم نگار اور مقبول ٹی وی پروگرام “ایک دن جیو کے ساتھ” کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھنے والے سہیل وڑائچ نے میرے کالم “جوہرآباد کا سہیل، بھلوال اور سرگودہا سے ہوتا ہوا لاہور کیسے پہنچا اور سہیل وڑائچ کیسے بنا؟” کو سراہتے ہوئے میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ میرے لیے یہ لمحہ یقیناً خوشی، اطمینان اور فخر کا باعث ہے، کیونکہ جس شخصیت نے پاکستانی صحافت میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہو، جس کا قلم کئی دہائیوں سے سیاسی، سماجی اور قومی منظرنامے کا گواہ رہا ہو، اس کی طرف سے کسی تحریر کی پذیرائی ایک لکھاری کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔سہیل وڑائچ صاحب کی شخصیت پاکستانی صحافت میں ایک ایسے قلم کار کی حیثیت رکھتی ہے جنہوں نے سیاست اور اقتدار کے ایوانوں سے لے کر عام آدمی کی زندگی تک، مختلف موضوعات کو اپنے مخصوص اندازِ بیان میں قارئین اور ناظرین کے سامنے پیش کیا۔ ان کے کالموں میں واقعات کے پس منظر، شخصیات کے مزاج اور معاشرتی رویوں کا مشاہدہ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی صحافتی خدمات کو ایک وسیع حلقہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔میرے کالم کا موضوع بھی دراصل سہیل وڑائچ صاحب کی زندگی کے اس سفر کو سامنے لانا تھا جس میں جوہرآباد سے بھلوال، سرگودہا اور پھر لاہور تک پہنچنے کے مراحل شامل ہیں۔ ایک معروف صحافی کی کامیابی کے پیچھے موجود جدوجہد، تعلیمی و عملی سفر، ابتدائی تجربات، اساتذہ اور ماحول کے اثرات کو سمجھنا دراصل اس شخصیت کے صحافتی سفر کو سمجھنے کی ایک کوشش تھی۔ میرے لیے یہ محض ایک شخصیت پر کالم لکھنے کا عمل نہیں تھا بلکہ ایک ایسے صحافی کے سفر کو قلم بند کرنے کی کوشش تھی جس نے اپنی محنت، مطالعے، مشاہدے اور قلم کے ذریعے پاکستانی صحافت میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ہر لکھاری کے لیے سب سے بڑا سرمایہ اس کے قارئین کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب کسی تحریر کو قارئین کی جانب سے پذیرائی ملتی ہے تو لکھاری کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، لیکن جب کوئی ایسا سینئر اور معتبر قلم کار اس تحریر کو سراہتا ہے جس کی اپنی پوری زندگی صحافت، تحقیق اور قلم سے وابستہ رہی ہو تو اس تحسین کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔سہیل وڑائچ صاحب کی حوصلہ افزائی میرے لیے اسی احساس کی عکاس ہے۔ ان کے الفاظ نے نہ صرف میری اس کاوش کو تقویت دی بلکہ مجھے یہ احساس بھی دلایا کہ صحافت کے میدان میں مسلسل محنت، مطالعہ، تحقیق اور موضوع سے انصاف کرنا ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایک لکھاری اپنے قارئین کے دلوں میں جگہ بنا سکتا ہے۔آج کے تیز رفتار سوشل میڈیا دور میں جہاں چند لمحوں میں خبریں پھیل جاتی ہیں اور بعض اوقات تحقیق کے بغیر معلومات کو آگے بڑھا دیا جاتا ہے، وہاں ذمہ دار صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایک کالم نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی شخصیت یا واقعے پر قلم اٹھانے سے پہلے معلومات کی تصدیق کرے، مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے اور اپنی تحریر میں جذبات کے ساتھ ساتھ حقائق کو بھی بنیادی اہمیت دے۔ یہی وہ اصول ہیں جو صحافت کو محض تحریر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار قومی خدمت بناتے ہیں۔میرے لیے سہیل وڑائچ صاحب کی جانب سے ملنے والی حوصلہ افزائی اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ اگر ایک لکھاری اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرے، تحقیق کو اہمیت دے اور اپنے قلم کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرے تو اس کی محنت ضرور رنگ لاتی ہے۔ ایک سینئر قلم کار کی طرف سے ملنے والی پذیرائی کسی بھی لکھاری کے لیے آگے بڑھنے کی نئی توانائی بن سکتی ہے۔میں سہیل وڑائچ صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے کالم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان کی یہ محبت میرے لیے محض ایک ذاتی اعزاز نہیں بلکہ میرے صحافتی سفر میں ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ ان کے الفاظ میرے لیے اس عزم کی تجدید بھی ہیں کہ آئندہ بھی کوشش رہے گی کہ میرے قلم سے نکلنے والی ہر تحریر تحقیق، حقیقت، مثبت سوچ اور معاشرتی ذمہ داری کی آئینہ دار ہو۔ایک لکھاری کے سفر میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جو اسے مزید بہتر لکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سہیل وڑائچ صاحب کی حوصلہ افزائی بھی میرے لیے ایسا ہی ایک یادگار لمحہ ہے۔ یہ حوصلہ افزائی میرے قلم کو مزید ذمہ داری کے ساتھ حرکت دینے، نئے موضوعات پر تحقیق کرنے اور اپنے قارئین کے لیے معیاری اور بامقصد تحریریں پیش کرنے کی تحریک دے گی۔سہیل وڑائچ صاحب! آپ کی محبت، شفقت اور حوصلہ افزائی میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ آپ جیسے معتبر اور سینئر صحافتی قلم کار کے الفاظ میرے لیے کسی بڑے ایوارڈ سے کم نہیں۔ دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ کہ آپ نے میرے قلم اور میری کاوش کو سراہا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قلم کی حرمت، سچائی کی پاسداری اور معاشرے کی مثبت رہنمائی کا فریضہ مزید اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تحریر و ترتیب: محمد زاہد مجید انور، معروف کالم نگار و صحافی