سیاسی اختلافات اور تاجر برادری کا نقصان۔۔۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دکانوں کی نیلامی ایک لمحۂ فکریہ

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک ایسا شہر ہے جہاں تاجر برادری نے ہمیشہ شہر کی معاشی سرگرمیوں کو زندہ رکھنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور شہری معیشت کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مگر آج اسی تاجر برادری کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جو ہر صاحبِ احساس شہری کے لیے باعثِ تشویش اور لمحۂ فکریہ ہے۔ تاجروں کی دکانوں کی نیلامی کا عمل شروع ہونا صرف چند دکانوں کا معاملہ نہیں بلکہ ان خاندانوں کے معاشی مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے جن کی زندگی، روزگار اور بچوں کا مستقبل انہی کاروباروں سے وابستہ ہےشہر میں یہ تاثر شدت اختیار کر رہا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی کے درمیان سیاسی اختلافات اور باہمی عدم تعاون کے باعث تاجر برادری کے اس اہم مسئلے کو وہ اجتماعی سیاسی قوت نہیں مل سکی جس کی اس وقت ضرورت تھی۔ اگرچہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور اس کے مختلف پہلو ہو سکتے ہیں، تاہم عوام کی نظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ جب دونوں عوامی نمائندے ایک ہی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں تو پھر شہر کے اجتماعی مسائل پر دونوں ایک میز پر کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟سیاست میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ نظریاتی اختلاف، سیاسی مقابلہ اور باہمی رائے کا فرق جمہوری نظام کا حصہ ہیں، لیکن جب یہی اختلافات عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بننے لگیں تو پھر سوال ضرور اٹھتا ہے کہ عوامی نمائندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ عوام نے اپنے نمائندوں کو اس لیے منتخب کیا ہوتا ہے کہ وہ ان کی آواز بنیں، ان کے مسائل حل کرائیں اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔تاجر برادری کی دکان صرف ایک کاروباری جگہ نہیں ہوتی۔ اس دکان کے پیچھے کسی شخص کی برسوں کی محنت، سرمایہ، خاندان کا چولہا، بچوں کی تعلیم، ملازمین کا روزگار اور ایک پورا معاشی نظام وابستہ ہوتا ہے۔ اس لیے کسی دکان کی نیلامی کا فیصلہ متاثرہ تاجر اور اس کے خاندان کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ معاشی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔یہاں سوال کسی ایک سیاسی شخصیت کو موردِ الزام ٹھہرانے کا نہیں بلکہ اجتماعی سیاسی ذمہ داری کا ہے۔ اگر دونوں منتخب نمائندے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے تاجر برادری کے مسئلے پر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے، متعلقہ حکام سے مذاکرات کرتے، قانونی و انتظامی راستوں کا جائزہ لیتے اور تاجروں کے مؤقف کو مؤثر انداز میں حکومت تک پہنچاتے تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔ضرورت اس امر کی تھی کہ نیلامی سے قبل تمام متعلقہ فریقین کو ایک میز پر بٹھایا جاتا۔ تاجروں کا مؤقف سنا جاتا، سرکاری اداروں کی قانونی پوزیشن واضح کی جاتی اور ایسا قابلِ عمل راستہ تلاش کیا جاتا جس میں حکومت کے مفادات بھی محفوظ رہیں اور تاجروں کے کاروبار اور روزگار کو بھی تحفظ مل سکے۔عوامی نمائندگی صرف ترقیاتی منصوبوں، افتتاحی تقریبات اور سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب عوام کسی مشکل میں ہوں۔ آج ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تاجر برادری اسی امتحان کی گھڑی میں اپنے منتخب نمائندوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ہی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندے اگر شہر کے بنیادی مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں تو ان کی آواز زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔ سیاسی قوت کا بہترین استعمال یہی ہے کہ اسے عوامی مسائل کے حل کے لیے بروئے کار لایا جائے، نہ کہ باہمی اختلافات کو مزید گہرا کرنے کے لیے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر تاجر برادری کے مسئلے کا فوری، قانونی اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے۔ اگر کہیں غلط فہمی ہے تو مذاکرات سے دور کی جائے، اگر کہیں قانونی پیچیدگی ہے تو ماہرین کی مدد سے راستہ نکالا جائے اور اگر کسی انتظامی فیصلے پر نظرثانی کی گنجائش موجود ہے تو انسانی اور معاشی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر غور کیا جائے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوام اپنے نمائندوں سے لڑائی نہیں، اتحاد چاہتے ہیں؛ سیاسی محاذ آرائی نہیں، عوامی خدمت چاہتے ہیں۔ عوام کی خواہش ہے کہ ان کے قومی اور صوبائی نمائندے ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ شہر کے مسائل کے مقابل کھڑے ہوں۔تاجر برادری بھی ہمارا حصہ ہے، شہر کی معیشت بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے اور ان کے کاروبار سے وابستہ خاندان بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر صاحبِ اختیار اپنا کردار ادا کرے اور تاجروں کو بے یقینی اور معاشی نقصان سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ہم کسی فرد کے خلاف نہیں، ہم صرف تاجر برادری کے حقِ روزگار، شہر کے معاشی مفاد اور سیاسی اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔ اختلافات ختم کرنا شاید مشکل ہو، لیکن عوامی مفاد کے لیے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک ساتھ بیٹھنا یقیناً ممکن ہے۔آخر میں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تاجر برادری پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے، ان کے کاروبار، روزگار اور گھروں کو محفوظ رکھے، ان کی مشکلات آسان فرمائے، نیلامی کے اس عمل سے متاثر ہونے والے تاجروں کے لیے آسانی پیدا فرمائے اور ہمارے تمام منتخب عوامی نمائندوں کو باہمی اتحاد، اخلاص اور عوامی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کا مفاد سب سے مقدم۔۔۔ سیاست رہے، اختلاف بھی رہے، مگر عوام اور تاجر برادری کا نقصان کسی صورت نہ ہو۔*