ووٹ کو عزت دو
تحریر: سلمان احمد قریشی
جمہوریت میں ووٹ صرف ایک کاغذ پر ثبت ہونے والی مہر نہیں، یہ عوام کی اجتماعی دانش، امید اور اختیار کی علامت ہے۔ ووٹر جب پولنگ اسٹیشن کا رخ کرتا ہے تو دراصل وہ چند لمحوں کے لیے اقتدار کی کنجی اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ وہ طے کرتا ہے کہ کون اس کی نمائندگی کرے گا، کون اس کے مسائل ایوان میں اٹھائے گا اور کون اس کے اعتماد کا امین بنے گا۔ ہمارے ہاں جمہوریت کا عجیب چلن ہے انتخابات کے دن ووٹر کو بادشاہ بنا دیا جاتا ہے اور نتائج کے اعلان کے بعد اسے پھر رعایا کی صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ یقیناً خوبصورت ہے مگر جمہوریت نعروں سے نہیں، رویوں سے زندہ رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سیاسی رویے واقعی ووٹ کو وہ عزت دیتے ہیں جس کا مطالبہ جلسوں، جلوسوں اور تقریروں میں بڑے جوش سے کیا جاتا ہے؟
حقیقی جمہوریت میں امیدوار کی اہلیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا کردار، سیاسی جدوجہد، عوام سے تعلق، دیانت، صلاحیت، معاملہ فہمی اور اپنے حلقے کے مسائل کا ادراک اس کے انتخاب کا معیار ہونا چاہیے۔ پاکستانی سیاست میں اکثر اہلیت سے پہلے وفاداری، میرٹ سے پہلے قربت اور عوامی مقبولیت سے پہلے قیادت کی پسند کو اہمیت مل جاتی ہے۔ یوں انتخابات عوام کے لیے ہوتے ہیں لیکن امیدواروں کا فیصلہ کبھی کبھی عوام سے پہلے کہیں اور ہو جاتا ہے۔یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے اگر سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے ہی کارکنوں، مقامی تنظیموں اور عوامی رائے کو خاطر میں نہ لائیں تو پھر جمہوریت کا پہلا سبق کہاں پڑھایا جائے گا؟
ہم قومی سطح پر جمہوریت کا درس دیتے ہیں مگر اپنی جماعت کے اندر جمہوری عمل کو اکثر ”قائد کا فیصلہ“ کہہ کر خاموشی سے قبول کر لیتے ہیں۔ اختلاف کرنے والا باغی، سوال اٹھانے والا سازشی اور مشورہ دینے والا مخالف قرار پاتا ہے۔ شاید ہماری سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہاں جمہوریت کا چرچا بہت ہے مگر جمہوری مزاج نسبتاً کم ہے۔سیاسی جماعت کوئی شخصی سلطنت نہیں ہونی چاہیے۔ قائد کی عزت اپنی جگہ مگر جمہوریت میں قائد بھی اصولوں کا پابند ہوتا ہے۔ پارٹی کارکن محض نعرے لگانے، بینر اٹھانے اور انتخابی موسم میں ووٹ مانگنے کے لیے نہیں ہوتے۔ اگر کارکن صرف تالیاں بجانے کے لیے رہ جائیں اور فیصلے صرف چند افراد کے کمروں میں ہونے لگیں تو جماعت تنظیم ضرور رہ سکتی ہے، جمہوری ادارہ نہیں۔پاکستانی سیاست کا ایک اور دلچسپ پہلو ہمارے اخلاقی معیار ہیں۔ مخالف جماعت کا رہنما کوئی فیصلہ کرے تو اسے غیر جمہوری، غیر اخلاقی، عوام دشمن اور آمریت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن وہی فیصلہ اگر اپنی جماعت کرے تو اسے سیاسی بصیرت، قائدانہ حکمت، جماعتی نظم اور حالات کی نزاکت کا تقاضا قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا اخلاقیات بھی جماعتی وابستگی کے ساتھ رنگ بدلتی ہیں۔مخالف کی کردار کشی کو سیاست سمجھ لیا گیا ہے۔ دلیل کمزور ہو تو الزام مضبوط کر دیا جاتا ہے، کارکردگی کا جواب نہ ہو تو ذاتی حملہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہم اپنے سیاسی مخالف سے فرشتوں جیسا کردار چاہتے ہیں اور اپنے پسندیدہ رہنما کے لیے معمولی سے معمولی اخلاقی معیار بھی کافی سمجھتے ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے سیاست کو مکالمے کے بجائے محاذ آرائی بنا دیا ہے۔اس سارے منظرنامے میں عوام بھی مکمل طور پر بے قصور نہیں۔ ہم نے سیاسی شعور کو اکثر سیاسی عقیدت سے بدل دیا ہے۔ ہمارے ہاں لیڈر غلط ہو سکتا ہے مگر میرا لیڈر غلط نہیں ہو سکتا۔ مخالف کی دلیل کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اسے دشمن کی سازش سمجھا جاتا ہے۔ اپنے قائد کی کمزوری بھی حکمتِ عملی اور مخالف کی کامیابی بھی دھاندلی بن جاتی ہے۔یہ اندھی تقلید جمہوریت کے لیے شاید سب سے خطرناک بیماری ہے۔ کیونکہ جمہوریت باشعور ووٹر مانگتی ہے مرید نہیں، تقلید نہیں، اصولوں پر قائم تنظیم اور نظم کا تقاضا کرتی ہے۔
اب ذرا آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ سیاسی منظرنامے کو دیکھیے۔ حالیہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) نے حکومت سازی کی پوزیشن حاصل کی اور اس کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کا مرحلہ آیا۔ بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنے اور بعد ازاں ایوان کی اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔یہاں اصل بحث کسی فرد کی اہلیت یا شخصیت پر اعتراض نہیں۔ پارلیمانی طریق کار اپنی جگہ آئینی ہے اور اسمبلی کے ارکان کو وزیراعظم منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ سوال اس سے بڑا ہے عوامی سیاست اور جماعتی فیصلوں کے درمیان تعلق کیا ہے؟اگر عوام نے براہِ راست کسی امیدوار کو منتخب نہیں کیا، لیکن وہ مخصوص نشست کے ذریعے ایوان میں پہنچا اور پھر ایوان کی اکثریت نے اسے وزیراعظم منتخب کر لیا تو یہ آئینی عمل ضرور ہے مگر سیاسی طور پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کے فلسفے میں عوامی مینڈیٹ کی روح کہاں کھڑی ہے؟یہ سوال مسلم لیگ (ن) ہی سے نہیں، ہر سیاسی جماعت سے پوچھا جانا چاہیے۔مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے انتخاب پر جماعت کے اندر سے بھی تحفظات سامنے آئے۔ بعض سینئر رہنماؤں نے مرکزی قیادت کے فیصلے سے اختلاف کیا۔ یہاں پھر وہی سوال کھڑا ہوتا ہے جماعت میں مشاورت کتنی ہے اور فیصلہ سازی کتنی؟اگر مقامی قیادت، منتخب نمائندے اور کارکن اپنی رائے دے سکتے ہیں مگر فیصلہ بہرحال وہی ہونا ہے جو اوپر سے طے ہو چکا ہے تو پھر مشاورت کا یہ عمل کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف جمہوری ماحول کی سجاوٹ کے لیے رکھا گیا ہو؟ہمارا المیہ یہ ہے کہ اقتدار سے باہر ہوتے ہی ہمیں ووٹ کی حرمت یاد آتی ہے، پارلیمنٹ کی بالادستی یاد آتی ہے، عوامی مینڈیٹ یاد آتا ہے اور جمہوری اصولوں کی کتاب کھل جاتی ہے۔ اقتدار میں آتے ہی وہی کتاب شاید کسی الماری کے نچلے خانے میں رکھ دی جاتی ہے جہاں اسے اگلے سیاسی بحران تک کوئی تلاش نہیں کرتا۔
”ووٹ کو عزت دو“ اگر واقعی اصول ہے تو اس کا امتحان صرف مخالف حکومت کے سامنے نہیں، اپنی حکومت اور اپنی جماعت کے اندر بھی ہونا چاہیے۔ اگر عوامی رائے ہمارے حق میں ہو تو اسے مینڈیٹ کہنا اور ہمارے خلاف ہو تو اسے سازش کہنا ووٹ کی عزت نہیں، ووٹ کی سیاسی تشریح ہے۔جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت کا مطلب ہے اختلافِ رائے کا احترام، اداروں کی مضبوطی، سیاسی جماعتوں کے اندر مشاورت، امیدوار کے انتخاب میں میرٹ، سیاسی مخالف کے ساتھ اخلاقی رویہ اور سب سے بڑھ کر عوام کو فیصلہ کرنے کا حقیقی اختیار جموریت ہے۔اگر کسی جماعت کے اندر اختلاف کی گنجائش نہیں اگر امیدوار کے انتخاب میں کارکن کی رائے نہیں، اگر قیادت کے فیصلے پر سوال اٹھانا جرم ہے اور اگر سیاسی مخالف کے لیے وہی اخلاقی اصول نہیں جو اپنے لیے ہیں تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم جمہوریت چاہتے ہیں یا صرف جمہوری اصطلاحات کے ذریعے اقتدار کی سند مقصد ہے؟
ووٹ کو عزت دینا دراصل ووٹر کو عزت دینا ہے۔ ووٹر کو عزت دینا صرف انتخابی دن اس کے گھر جا کر ہاتھ ملانا نہیں اس کی رائے کو فیصلوں میں اہمیت دینا ہے۔ اسے صرف ”ووٹ بینک“ نہیں بلکہ ایک باشعور شہری سمجھنا ہے اور شاید سب سے مشکل بات یہ ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کا آغاز مخالف کے ووٹ سے کرنا ہوگا۔ اپنے حامی کا ووٹ تو ہر سیاست دان کو عزیز ہوتا ہے، اصل جمہوری امتحان مخالف کے ووٹ کی حرمت تسلیم کرنا ہے۔لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ”ووٹ کو عزت دو“ کو سیاسی نعرے سے نکال کر سیاسی کردار کا حصہ بنایا جائے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت پیدا کریں، امیدواروں کے انتخاب میں میرٹ لائیں، فیصلوں میں مشاورت کو حقیقی بنائیں اور سیاسی مخالفین کو دشمن نہیں، جمہوری عمل کا حصہ سمجھیں۔ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ہم ہر پانچ سال بعد بیلٹ باکس تو بدلتے رہیں گے، چہرے بھی بدلتے رہیں گے، حکومتیں بھی بدلتی رہیں گی مگر جمہوریت وہیں کھڑی رہے گی جہاں اسے ہم نے برسوں پہلے چھوڑا تھا۔ووٹ کو عزت دینے کے لیے صرف نعرہ بلند کرنے کی ضرورت نہیں اپنے فیصلوں، اپنے رویوں اور اپنے سیاسی کردار کو اس نعرے کے قابل بنانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ جمہوریت میں اصل طاقت ووٹ کی نہیں، ووٹ دینے والے انسان کی ہوتی ہے۔ اور جس دن عوام نے یہ سمجھ لیا کہ ان کا ووٹ کسی شخصیت، جماعت یا قائد کی جاگیر نہیں بلکہ ان کا اپنا اختیار ہے، اسی دن ووٹ کو عزت دو ایک نعرہ نہیں رہے گاجمہوری کلچر بن جائے گا۔













