قومی خزانے کی لوٹ مار پر شکنجہ، احتساب کا عمل بلاامتیاز ہونا چاہیے

تحریر : محمد زاہد مجید انور

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والا ہر روپیہ ایک قومی امانت ہے۔ یہی سرمایہ سڑکوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، صاف پانی، نکاسی آب اور دیہی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ لیکن جب یہی ترقیاتی منصوبے مبینہ کرپشن، بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی نذر ہو جائیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ماڈل ویلج منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر کی جانے والی کارروائی اسی تناظر میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرفراز وڑائچ کی قیادت میں، وزیر اعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم کی ہدایت پر کی گئی اس کارروائی میں قومی خزانے کو 7 کروڑ 59 لاکھ روپے سے زائد کا مبینہ نقصان پہنچانے کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔گرفتار ہونے والوں میں فیصل آباد کے ڈویژنل کوآرڈینیٹر پراجیکٹ ماڈل ویلج حافظ طلعت محمود، ٹھیکیدار امیر ندیم، اے آر ای محمد عرفان، سائٹ انسپکٹرز محمد عرفان منیر، عمیر اصغر اور سروئیر عمر سفیان قادر شامل ہیں۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ان افراد کے خلاف مبینہ طور پر ناقص تعمیراتی کام، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری فنڈز میں بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ماڈل ویلج منصوبے کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں کے عوام کو جدید اور معیاری سہولیات فراہم کرنا تھا تاکہ دیہات بھی ترقی کے سفر میں شہروں کے شانہ بشانہ آگے بڑھ سکیں۔ اگر ایسے منصوبوں میں بدعنوانی یا غفلت کا عنصر شامل ہو جائے تو اس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف، غیر جانبدار اور بلاامتیاز تحقیقات ناگزیر ہیں۔یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ اگر احتسابی ادارے کسی دباؤ یا مصلحت کے بغیر اپنا آئینی اور قانونی کردار ادا کریں تو اس سے بدعنوان عناصر کے لیے واضح پیغام جاتا ہے کہ سرکاری وسائل میں خرد برد کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تاہم احتساب کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر ملزم کو قانون کے مطابق صفائی کا پورا حق دیا جائے اور حتمی فیصلہ عدالتوں کے ذریعے ہی سامنے آئے۔ جب تک کسی عدالت سے جرم ثابت نہ ہو، ہر ملزم قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف گرفتاریوں تک محدود رہنے کے بجائے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی، نگرانی، ادائیگیوں کے نظام، تکنیکی جانچ اور معیارِ تعمیر کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ شفافیت، دیانت داری اور مؤثر نگرانی ہی ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔قوم کی امید یہی ہے کہ اس کیس کی تحقیقات میرٹ، انصاف اور قانون کے مطابق مکمل کی جائیں گی، اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، قومی خزانے کا نقصان پورا کیا جائے گا اور اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے انصاف فراہم کیا جائے گا۔ مضبوط احتسابی نظام ہی ایک مضبوط، خوشحال اور بااعتماد پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔