استاد محترم مہر قیصر لک
۔۔۔ ( معلم، پنجاب پیٹرولنگ پولیس)
مہر قیصر لک کو اٹھارہ ہزاری کا ہر شخص آج بھی بطور پولیس ملازم سے زیادہ ایک کامیاب اور مخلص استاد کے طور پر جانتا اور یاد کرتا ہے۔ مہر قیصر لک نے اپنی ابتدائی تعلیم کوٹلہ نیک احمد سے حاصل کی۔ بچپن ہی سے تعلیم سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ 1996ء میں گورنمنٹ ہائی سکول واصو سے میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ کالج جھنگ سے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ دوران تعلیم وہ نہایت محنتی، بااخلاق اور ذمہ دار طالب علم کے طور پر جانے جاتے تھے، جس کی جھلک بعد کی عملی زندگی میں بھی نمایاں رہی۔تعلیمی سفر مکمل کرنے کے بعد انھوں نے اٹھارہ ہزاری کے معروف تعلیمی ادارے شاہین پبلک سکول میں بطور استاد اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ تدریس ان کے لیے صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ تھی۔ وہ طلبہ کو صرف کتابی علم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں اخلاق، نظم و ضبط، خود اعتمادی اور معاشرے کا مفید شہری بننے کی بھی تلقین کرتے تھے۔ ان کا اندازِ تدریس انتہائی سادہ، مؤثر اور طلبہ کی ذہنی استعداد کے مطابق ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہر طالب علم ان سے بے حد محبت اور احترام کرتا تھا۔
سال 2005ء میں انہوں نے پنجاب پیٹرولنگ پولیس میں شمولیت اختیار کی۔ پولیس کے شعبے میں بھی انھوں نے اپنی ذمہ داریاں نہایت ایمانداری، فرض شناسی اور خلوص نیت کے ساتھ ادا کیں۔ قانون کی پاسداری، عوام کی خدمت اور اپنے فرائض سے وفاداری ان کی شخصیت کا نمایاں وصف رہی۔ انھوں نے ثابت کیا کہ جہاں بھی ذمہ داری ملے، اگر نیت خالص ہو تو ہر شعبے میں عزت اور احترام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ وہ کئی برسوں سے پولیس کے شعبے سے وابستہ ہیں، لیکن اٹھارہ ہزاری کا ہر شخص آج بھی انہیں بطور پولیس ملازم سے زیادہ ایک کامیاب اور مخلص استاد کے طور پر جانتا اور یاد کرتا ہے۔ ان کی تربیت اور رہنمائی سے فیض یاب ہونے والے بے شمار شاگرد آج پنجاب کے مختلف اداروں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے قابل فخر شاگردوں میں ڈاکٹر ساجد خان، ڈاکٹر صوبیہ، ڈاکٹر شمیلہ اسلم، ڈاکٹر کرن، ڈاکٹر نرجس، مخدوم عمران ایڈووکیٹ ، آصف شعور، عون عباس خان، مخدوم عرفان طاہر، ثاقب خان، سومیہ خان،مخدوم زادہ عطاء حسنین، کشور،رباب اور دیگر بہت سے نام شامل ہیں، جو اپنے اپنے شعبوں میں کامیابی سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ سب ان کی علمی محنت، بہترین تربیت اور مخلصانہ رہنمائی کا ثمر ہیں۔
ایک استاد کی اصل کامیابی اس کے شاگرد ہوتے ہیں، اور مہر قیصر لک کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے۔ انہوں نے ہمیشہ علم بانٹنے، نوجوان نسل کی رہنمائی کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کو اپنی ترجیح بنایا۔ ان کے شاگرد آج بھی ان کی محبت، شفقت، خلوص اور رہنمائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔مجھے ذاتی طور پر اس بات پر بے حد فخر ہے کہ میں بھی استادِ محترم مہر قیصر لک کا شاگرد رہا ہوں۔ انہوں نے ہمیں صرف نصابی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ زندگی میں محنت، دیانت داری، نظم و ضبط اور انسانیت کی خدمت کا درس بھی دیا۔ ایسے اساتذہ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ استاد محترم مہر قیصر لک کو صحتِ کاملہ، خوشیوں بھری طویل زندگی، عزت، وقار اور مزید کامیابیوں سے نوازے، اور انہیں اسی طرح آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنائے۔ آمین۔













