اقراء ناصر سابق اسسٹنٹ کمشنر کمالیہ فرض شناس، باصلاحیت اور عوام دوست خاتون افسر
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*پاکستانی بیوروکریسی میں بعض افسران اپنی دیانت، محنت، عوامی خدمت اور مثالی کارکردگی کی بدولت لوگوں کے دلوں میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ انہی قابل اور باصلاحیت افسران میں سابق اسسٹنٹ کمشنر کمالیہ اقراء ناصر کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے مختصر مگر انتہائی مؤثر دورِ تعیناتی میں ثابت کیا کہ اگر نیت صاف، قیادت مضبوط اور خدمت کا جذبہ بے لوث ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔اقراء ناصر نے بطور اسسٹنٹ کمشنر کمالیہ اپنے فرائض نہایت دیانتداری، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ انجام دیے۔ ان کی اولین ترجیح عوامی مسائل کا فوری حل، سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور حکومتی منصوبوں کی بروقت تکمیل تھی۔ انہوں نے دفتری روایتی انداز سے ہٹ کر فیلڈ میں جا کر عوام کے مسائل سنے، ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کی اور متعلقہ محکموں کو جوابدہ بنایا۔ان کے دور میں کمالیہ میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے جنہوں نے شہر کی خوبصورتی، صفائی، بنیادی سہولیات اور شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت، نکاسیٔ آب کے منصوبے، تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائیاں، سرکاری اراضی کا تحفظ، پرائس کنٹرول، بازاروں کی نگرانی اور عوامی سہولت کے متعدد اقدامات آج بھی کمالیہ کے شہریوں کو یاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آج بھی کمالیہ کے عوام احترام اور محبت کے ساتھ لیتے ہیں۔اقراء ناصر نے صرف ترقیاتی منصوبوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ رمضان بازاروں، گرانفروشی کے خلاف کارروائیوں، ناجائز منافع خوروں کے احتساب، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر سرکاری دفاتر کے اچانک دوروں کے ذریعے بھی یہ پیغام دیا کہ عوامی خدمت محض فائلوں تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں نظر آنی چاہیے۔ان کی انتظامی صلاحیت، بہترین فیصلے اور قانون کی بلاامتیاز عملداری نے انہیں ایک مضبوط اور باوقار خاتون افسر کے طور پر متعارف کرایا۔ وہ ہر طبقۂ فکر کے لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آتیں، شکایات کو توجہ سے سنتیں اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کرتی تھیں۔ یہی خوبیاں کسی بھی کامیاب سرکاری افسر کی اصل پہچان ہوتی ہیں۔پنجاب میں باصلاحیت اور فرض شناس خاتون افسران کی جب بھی بات ہوگی، اقراء ناصر کا نام ضرور لیا جائے گا۔ ان کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مخلص اور قابل افسران اپنی کارکردگی سے نہ صرف حکومتی نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ آنے والے افسران کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کرتے ہیں۔آج اگر کمالیہ کے عوام ان کے دور کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں تو یہ ان کی دیانت، محنت اور عوام دوستی کا عملی اعتراف ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اقراء ناصر کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے، انہیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مزید عزت، ترقی اور کامیابیوں سے نوازے تاکہ وہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کی خدمت کرتی رہیں اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہیں۔*













