مون سون میں عوامی ریلیف اولین ترجیح، واسا کی کارکردگی قابل تحسین
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*برسات اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، لیکن جب نکاسیٔ آب کا نظام کمزور ہو تو یہی نعمت شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن جاتی ہے۔ پنجاب حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے مون سون سیزن کے آغاز سے قبل تمام ضلعی انتظامیہ، واسا، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات جاری کیں کہ بارشوں کے دوران شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں خصوصی مون سون پلان ترتیب دیے گئے، کنٹرول روم قائم کیے گئے اور فیلڈ ٹیموں کو ہمہ وقت متحرک رہنے کی ہدایت کی گئی۔ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر محترمہ ماہم آصف ملک نے منیجنگ ڈائریکٹر واسا چوہدری کامران کاہلوں کے ہمراہ مون سون کیمپ، ڈسپوزل اسٹیشنز اور شہر کے مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں مون سون پلان، نکاسیٔ آب کے انتظامات، ڈی واٹرنگ مشینری، ہیوی پمپس، فیلڈ آپریشنز، ایمرجنسی رسپانس اور حساس مقامات پر کیے گئے خصوصی اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ایم ڈی واسا چوہدری کامران کاہلوں نے بتایا کہ واسا کا تمام عملہ چوبیس گھنٹے الرٹ ہے، تمام مشینری مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ شہر کے نشیبی علاقوں، اہم شاہراہوں، بازاروں، سرکاری اداروں اور رہائشی آبادیوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ بارش کے پانی کی فوری نکاسی ممکن بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر محترمہ ماہم آصف ملک نے واسا کے افسران اور فیلڈ اسٹاف کی انتھک محنت، فرض شناسی اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازم کی اصل پہچان عوام کی خدمت ہے۔ انہوں نے واضح ہدایت کی کہ مون سون کے دوران کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام افسران اور اہلکار اپنے اپنے علاقوں میں موجود رہیں، شکایات کا فوری ازالہ کریں اور بارش کے پانی کی نکاسی کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو مشکلات سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اسی لیے تمام اداروں کو جدید وسائل، مشینری اور افرادی قوت مہیا کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ، واسا، ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر کارروائی کی جا سکے۔حقیقت یہ ہے کہ مون سون کا موسم صرف واسا یا ضلعی انتظامیہ کا امتحان نہیں بلکہ شہریوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر لوگ سیوریج لائنوں، نالوں اور سڑکوں پر کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کریں، تجاوزات سے اجتناب کریں اور صفائی کے اصولوں پر عمل کریں تو نکاسیٔ آب کا نظام مزید بہتر ہو سکتا ہے۔ عوام اور اداروں کا باہمی تعاون ہی ایک صاف، خوبصورت اور محفوظ شہر کی ضمانت ہے۔واسا ٹوبہ ٹیک سنگھ کے منیجنگ ڈائریکٹر چوہدری کامران کاہلوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے دوران کسی بھی مقام پر پانی جمع ہونے کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی اور تمام ٹیمیں عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتی رہیں گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اقدامات صرف مون سون کے دنوں تک محدود نہ رہیں بلکہ سال بھر سیوریج سسٹم کی صفائی، نالوں کی ڈی سلٹنگ، نئی ڈرینج سکیموں کی تکمیل اور شہری منصوبہ بندی پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے شہری مسائل میں کمی آئے گی اور عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا بلاشبہ ڈپٹی کمشنر محترمہ ماہم آصف ملک کی مؤثر نگرانی اور ایم ڈی واسا چوہدری کامران کاہلوں کی عملی قیادت اس امر کی غماز ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مون سون کے دوران شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ اگر یہی جذبہ، نگرانی اور عوامی خدمت کا تسلسل برقرار رہا تو ٹوبہ ٹیک سنگھ نہ صرف ایک صاف ستھرا بلکہ ایک منظم، محفوظ اور مثالی ضلع بن سکتا ہے، جو وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے ترقی یافتہ اور خوشحال پنجاب کے وژن کی عملی تصویر ہوگا۔*













