“اولمپئین رشید الحسن کی ہاکی بحالی مہم، صدر پی ایچ ایف سے اہم ملاقات میں قومی کھیل کے مستقبل پر غور”

*تحریر وترتیب: محمد زاہد مجید انور*

*پاکستان کی ہاکی ایک شاندار تاریخ کی حامل ہے۔ ایک وقت تھا جب دنیا بھر میں پاکستان کا نام ہاکی کے میدانوں میں عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ قومی ٹیم نے متعدد عالمی اعزازات، ورلڈ کپ، ایشین گیمز اور اولمپکس میں کامیابیاں حاصل کرکے ملک کا پرچم بلند کیا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران قومی کھیل ہاکی کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا جس کے باعث اس کا معیار متاثر ہوا۔ ایسے حالات میں سابق اولمپئینز اور قومی ہیروز کی جانب سے ہاکی کی بحالی کے لیے کی جانے والی کاوشیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اسی سلسلے میں پاکستان ہاکی کے مایہ ناز ستارے، سابق کپتان قومی ہاکی ٹیم اور 1984ء لاس اینجلس اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ رشید الحسن نے اسلام آباد میں صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان ہاکی کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت، گراس روٹ سطح پر کھیل کے فروغ اور قومی ٹیم کی بہتری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں شخصیات نے پاکستان ہاکی کو دوبارہ عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے کے عزم کا اظہار کیا۔رشید الحسن کا شمار ان عظیم کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کھیل، قائدانہ صلاحیتوں اور قومی جذبے کے ذریعے پاکستان کے لیے یادگار خدمات انجام دیں۔ 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستان کی گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کا حصہ ہونا ان کے کھیل کی عظمت اور قومی خدمات کا روشن ثبوت ہے۔ آج بھی وہ ہاکی کے فروغ اور نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ملاقات کے دوران رشید الحسن نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ہاکی کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف منظم منصوبہ بندی، جدید تربیت اور کھلاڑیوں کی سرپرستی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکولوں، کالجوں اور ضلعی سطح پر ہاکی کے مقابلوں کو فروغ دیا جائے تو ملک بھر سے بہترین کھلاڑی سامنے آسکتے ہیں جو مستقبل میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھی ہاکی کے فروغ کے لیے جاری منصوبوں اور اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے، کوچنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی سطح پر قومی ٹیم کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق اولمپئینز اور قومی ہیروز کی مشاورت سے ہاکی کے مستقبل کو مزید روشن بنایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر رشید الحسن نے صدر پی ایچ ایف کو “رشید الحسن ہاکی” کی یادگاری شیلڈ (سووینئر) بھی پیش کی جو باہمی احترام اور قومی کھیل کے فروغ کے جذبے کی خوبصورت علامت تھی۔ یہ لمحہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے سابق اور موجودہ ہاکی رہنما قومی کھیل کی بہتری کے لیے متحد ہیں۔پاکستان ہاکی کی بحالی محض ایک کھیل کی بحالی نہیں بلکہ قومی وقار کی بحالی بھی ہے۔ ہاکی نے پاکستان کو عالمی سطح پر بے شمار فتوحات اور اعزازات دلائے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ہاکی فیڈریشن، سابق کھلاڑی، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر قومی کھیل کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ جب تک نچلی سطح پر کھیل کے ڈھانچے کو مضبوط نہیں بنایا جاتا اور نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک دیرپا کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔رشید الحسن جیسے مخلص اور تجربہ کار اولمپئینز کی موجودگی پاکستان ہاکی کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کی تجاویز، تجربات اور رہنمائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی کھیل کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس ملاقات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور پاکستان ہاکی ایک بار پھر اپنے شاندار ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے عالمی میدانوں میں کامیابیوں کے نئے باب رقم کرے گی۔*