آزاد علی تبسم ایم پی اے
جدوجہد، خدمت اور ترقی کا سفر
تحریر = جاوید اقبال ناصر
تاریخ میں وہی شخصیات زندہ رہتی ہیں جو اپنی ذات سے بڑھ کر معاشرے، عوام اور آنے والی نسلوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے کردار، خدمات اور اخلاص کی وجہ سے محض افراد نہیں رہتے بلکہ ایک ادارے اور ایک فکر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ آزاد علی تبسم بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے زندگی کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں، محنت اور عوامی خدمت کے جذبے کا عملی ثبوت دیا۔
ان کی زندگی ایک عام محنت کش گھرانے سے شروع ہونے والے اس سفر کی داستان ہے جو علم، ادب، صحافت، سیاست اور عوامی خدمت کی منزلوں سے گزرتا ہوا عوامی اعتماد اور قیادت کے مقام تک پہنچا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی شخصیت کو سنوارا بلکہ اپنے علاقے، اپنے حلقے اور اپنے لوگوں کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلی پیدا کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
آزاد علی تبسم ایک محنت کش اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انکے والد محترم سردار علی چوہان ایک عام دوکاندار تھے جنہوں نے رزق حلال سے اپنے بچوں کی پرورش کی یہی وجہ تھی کہ آزاد علی تبسم میں بچپن ہی سے ان میں ذہانت، تجسس اور سیکھنے کا جذبہ نمایاں تھا۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے تعلیم کو اپنی زندگی کا سب سے اہم ہتھیار بنایا۔
پرائمری، مڈل اور ہائی سکول کے زمانے میں ان کی تعلیمی کارکردگی ہمیشہ نمایاں رہی۔ مختلف تعلیمی وظائف حاصل کرنا ان کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت تھا۔ اساتذہ انہیں غیر معمولی ذہانت کا حامل طالب علم قرار دیتے تھے جبکہ ساتھی طلبہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں سے متاثر رہتے تھے۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف اپنے اساتذہ کرام سے بے پناہ احترام اور عقیدت تھا۔ وہ ہمیشہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی زندگی میں جو بھی کامیابیاں آئیں، ان کی بنیاد والدین کی دعائیں اور اساتذہ کی تربیت ہیں۔
طالب علمی اور قیادت کی ابتدا
سکول اور کالج کے زمانے میں آزاد علی تبسم نہ صرف ایک کامیاب طالب علم تھے بلکہ ایک متحرک نوجوان رہنما بھی تھے۔ مختلف تقریبات میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے انہوں نے اپنی انتظامی اور ابلاغی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
وہ مختلف طلبہ تنظیموں میں عہدیدار اور سرگرم کارکن رہے۔ طلبہ کے مسائل کو اجاگر کرنا، تعلیمی سہولیات کے لیے آواز بلند کرنا اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ان کی طالب علمی کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
یہی دور ان کی سیاسی اور سماجی سوچ کی بنیاد بنا جس نے بعد ازاں انہیں ایک عوامی رہنما کے طور پر متعارف کروایا۔
ادب اور بچوں کے لیے خدمات
آزاد علی تبسم کی شخصیت کا ایک اہم اور کم معروف پہلو ان کی ادبی خدمات ہیں۔ انہوں نے کم عمری ہی سے لکھنے کا آغاز کیا اور بچوں کے ادب کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مرکز بنایا۔
انہوں نے بچوں کے لیے بے شمار کہانیاں، مضامین اور تربیتی تحریریں لکھیں جن میں اخلاقیات، تعلیم، محنت، حب الوطنی، سچائی اور انسانی اقدار کو موضوع بنایا گیا۔
ان کی تحریریں پاکستان کے معروف بچوں کے رسائل اور جرائد میں شائع ہوتی رہیں جن میں روزنامہ آفتاب ملتان ہفت روزہ انسانیت وہاڑی روزنامہ آزاد لاہور روزنامہ وفاق لاہور روزنامہ مساوات لاہور ماہنامہ جگنو، کھلونا، تعلیم و تربیت، بچوں کی دنیا، باغ، بچوں کا ڈائجسٹ، چاند تارا، ہونہار، گوشۂ اطفال لاہور بچوں کی باجی فیصل آباد اور دیگر رسائل شامل ہیں۔
بچوں کے ادب میں ان کی خدمات نے نئی نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں ایک سنجیدہ اور ذمہ دار قلمکار کے طور پر شناخت عطا کی۔
صحافت کا سفر
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور آزاد علی تبسم نے اس شعبے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
انہوں نے مختلف قومی اور علاقائی اخبارات میں بطور رپورٹر خدمات انجام دیں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے صحافت کو ایک مؤثر ذریعہ بنایا۔
روزنامہ نوائے وقت، امروز، سنگ میل، مساوات، پاکستان، فرنٹیئر پوسٹ، اوصاف اور ایکسپریس جیسے معروف اخبارات میں ان کی صحافتی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
اسی طرح بطور کالم نگار بھی انہوں نے معاشرتی، سیاسی اور عوامی مسائل پر مؤثر انداز میں قلم اٹھایا۔ اخبار پنجاب، اردو ایکسپریس، جرات، عوام اور ایام سمیت مختلف اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے رہے۔
سیاسی سفر کا آغاز
عوامی خدمت کا جذبہ انہیں سیاست کے میدان میں لے آیا۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا جہاں انہوں نے سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
بعد ازاں 2008ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی اور قائد میاں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔
اوورسیز پاکستانیوں کو منظم کرنے اور پارٹی کے نظریے کو فروغ دینے کے لیے انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) شارجہ کا صدر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔
ان کی وفاداری، تنظیمی صلاحیتوں اور کارکنوں سے مضبوط تعلقات نے انہیں پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شامل کردیا
اں 2008ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی اور قائد میاں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے لیے سرگرم کردار ادا کرنا شروع کیا۔ ان کی سیاسی بصیرت، تنظیمی صلاحیتوں اور کارکنوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کے باعث انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) شارجہ کا صدر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو پارٹی کے پلیٹ فارم پر منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی مسلسل محنت، وفاداری اور سیاسی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے 2013ء کے عام انتخابات میں میاں نواز شریف، رانا ثناء اللہ خان اور چوہدری نور الحسن تنویر نے ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے انہیں حلقہ پی پی 51 سے پارٹی ٹکٹ دیا۔ آزاد علی تبسم نے اس اعتماد پر پورا اترتے ہوئے اپنے سیاسی مخالف، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے شکست دی اور کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی ان کی عوامی مقبولیت اور سیاسی بصیرت کا واضح ثبوت تھی۔
بعد ازاں 2024ء کے جنرل انتخابات میں پارٹی قیادت نے ان کی خدمات اور عوامی رابطے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا۔ انہوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی اور ضلع بھر میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ کامیابی ان کی سیاسی جدوجہد اور عوامی اعتماد کا مظہر تھی۔
2025ء کے انتخابات میں آزاد علی تبسم نے ایک بار پھر اپنی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ حلقہ پی پی 98 سے انتخاب لڑتے ہوئے انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اور ایک سابق وزیر کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر شاندار کامیابی حاصل کی۔ یہ فتح ان کی مسلسل عوامی خدمت، کارکنوں سے مضبوط تعلق اور عوامی اعتماد کا نتیجہ تھی۔
آج آزاد علی تبسم پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع فیصل آباد کے ضلعی جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی متحرک اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ پارٹی کو نچلی سطح تک مضبوط بنانے، کارکنوں کے مسائل حل کرنے اور تنظیمی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔
عوامی خدمت کے میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہیں اوورسیز پاکستانیز کمیشن فیصل آباد کا ضلعی چیئرمین مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے دن رات محنت کی۔ ان کے دور میں متعدد اوورسیز پاکستانیوں کے قانونی، انتظامی اور جائیداد سے متعلق مسائل حل ہوئے جس پر انہیں عوامی سطح پر بے حد سراہا گیا۔
اسی طرح جب پارٹی قیادت نے انہیں محکمہ صحت میں ذمہ داریاں سونپیں تو انہوں نے ڈویژنل چیئرمین پنجاب ہیلتھ ٹاسک فورس کے طور پر فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور چنیوٹ کے اضلاع میں صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے، عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور محکمانہ امور کی نگرانی میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔
فیصل آباد میں آزاد علی تبسم کو ورکرز لیڈر اور کارکنوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے پارٹی میں ایک عام کارکن کے طور پر جدوجہد کا آغاز کیا اور مسلسل محنت، وفاداری اور خلوص کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا۔ وہ ہمیشہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ آج جو عزت، مقام اور کامیابیاں انہیں حاصل ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، عوام کی محبت اور پارٹی قیادت کے اعتماد کا نتیجہ ہیں۔
آزاد علی تبسم کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ محدود وسائل رکھنے والا ایک عام گھرانے کا فرد بھی علم، محنت، دیانت داری، ادب، صحافت، سیاست اور عوامی خدمت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ ان کی شخصیت جدوجہد، خدمت، وفاداری اور عزم و استقلال کا ایک خوبصورت استعارہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل
بطور رکن صوبائی اسمبلی عوامی خدمت اور ترقیاتی وژن
آزاد علی تبسم کی سیاسی زندگی کا سب سے روشن اور نمایاں پہلو ان کی عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اس نظریے پر عمل کیا کہ سیاست کا اصل مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں حلقے کے عوام کی نمائندگی کا موقع ملا تو انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کر دیں۔
تحصیل چک جھمرہ، جو کئی دہائیوں تک بنیادی سہولیات سے محروم رہا، آزاد علی تبسم کی قیادت میں ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ انہوں نے صحت، تعلیم، کھیل، انفراسٹرکچر اور مواصلات کے شعبوں میں ایسے منصوبے مکمل کروائے جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات
آزاد علی تبسم کا ماننا ہے کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے تحصیل چک جھمرہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی ازسرِنو تعمیر اور توسیع کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا۔
انہوں نے خستہ حال اور محدود سہولیات کے حامل ہسپتال کو جدید طبی سہولیات سے آراستہ ایک مثالی ہسپتال میں تبدیل کیا۔ پچاس بیڈز پر مشتمل ہسپتال کی گنجائش بڑھا کر ڈیڑھ سو بیڈز تک منظور کروائی اور اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اس توسیع کے بعد ہزاروں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات اپنے علاقے میں میسر آئیں۔
گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے جدید ڈائیلسز سنٹر قائم کروایا جس سے مریضوں کو فیصل آباد یا دیگر شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہو گئی۔ اسی طرح خواتین کی صحت کے لیے جدید ترین زچہ و بچہ سنٹر کا قیام بھی ان کی ایک اہم کامیابی ہے، جہاں حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
دیہی آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے چک نمبر 189، 156، 153، 102، 133، 20 اور دیگر متعدد دیہات میں بنیادی مراکز صحت (بیسک ہیلتھ یونٹس) تعمیر کروائے گئے۔ ان مراکز نے دیہات کے عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کیں۔
اس کے علاوہ مختلف دیہات میں مفت ڈسپنسریوں کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ غریب اور نادار افراد علاج کی بنیادی سہولیات سے محروم نہ رہیں۔
ایمرجنسی طبی امداد کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ریسکیو 1122 کی سہولت بھی چک جھمرہ میں متعارف کروائی گئی، جس کے ذریعے حادثات اور ہنگامی حالات میں مریضوں کو فوری طور پر مقامی اور ضلعی ہسپتالوں تک منتقل کیا جاتا ہے۔
مواصلات اور انفراسٹرکچر کی تاریخی ترقی
آزاد علی تبسم کے دور میں سب سے نمایاں ترقیاتی منصوبہ کینال ایکسپریس وے کی تعمیر ہے۔ تقریباً ساڑھے چھ ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ پورے خطے کی معاشی اور تجارتی ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔
انہوں نے چک جھمرہ کو کینال ایکسپریس وے سے منسلک کرنے کے لیے براستہ نلے والا جدید ڈوئل کیرج وے تعمیر کروایا، جس سے سفری سہولیات میں نمایاں بہتری آئی اور علاقے کے عوام کو تیز رفتار اور محفوظ سفری نظام میسر آیا۔
چک جھمرہ کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ سانگلہ ہل۔چک جھمرہ۔فیصل آباد روڈ کی توسیع تھا۔ تقریباً پچاس سال تک مختلف سیاسی ادوار میں یہ مطالبہ پورا نہ ہو سکا۔ آزاد علی تبسم نے 2013ء میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے ہی اس منصوبے کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور فیصل آباد تک جدید ترین ڈوئل کیرج وے تعمیر کروا کر ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا۔
یہ منصوبہ نہ صرف سفری سہولتوں میں اضافے کا باعث بنا بلکہ تجارت، صنعت، تعلیم اور روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں بہتری لایا۔
مزید برآں متعدد دیہات میں جدید کارپٹ روڈز تعمیر کروائی گئیں اور دیہی علاقوں کو مرکزی شاہراہوں سے منسلک کیا گیا، جس سے دیہی آبادیوں کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔
تعلیم کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات
تعلیم کے شعبے میں آزاد علی تبسم نے خصوصی دلچسپی لی۔ ان کا یقین ہے کہ تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا اصل ذریعہ ہے۔
انہوں نے حلقے میں موجود لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں اور کالجوں کی اپ گریڈیشن کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ متعدد تعلیمی اداروں کو ہائی اور ہائیر سیکنڈری سطح تک ترقی دی گئی جبکہ نئے سکولوں کی تعمیر بھی عمل میں لائی گئی۔
سکولوں میں مسنگ فسیلٹیز جیسے اضافی کلاس رومز، فرنیچر، لیبارٹریاں، واش رومز، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں علاقے میں تعلیمی معیار اور داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے فروغ کا مشن
آزاد علی تبسم نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے حامی ہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے کھیلوں کے فروغ کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے۔
مختلف دیہات میں کھیلوں کے میدان تعمیر کروائے گئے جبکہ چک جھمرہ شہر میں کروڑوں روپے کی لاگت سے جدید ملٹی پرپز سپورٹس سٹیڈیم اور سپورٹس کمپلیکس تعمیر کروایا گیا۔
ان منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں کو کھیلوں کی جدید سہولیات میسر آئیں اور علاقائی سطح پر کھیلوں کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ ان کا مقصد نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف منتقل کرنا اور انہیں صحت مند معاشرے کا فعال حصہ بنانا ہے۔
جاری ترقیاتی منصوبے اور مستقبل کا وژن
آزاد علی تبسم کی ترقیاتی سرگرمیاں آج بھی جاری ہیں۔ اس وقت اربوں روپے کے متعدد ترقیاتی منصوبے زیرِ تعمیر ہیں جن میں سہولت بازار، ماڈل بازار، تحصیل کمپلیکس اور جدید شہری سہولیات کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔
علاوہ ازیں تقریباً بیس دیہات میں جدید کارپٹ سڑکوں کی تعمیر پر کام جاری ہے جبکہ متعدد دیہات کو ماڈل ویلج بنانے کے منصوبوں پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے تحت تقریباً چھ ارب روپے کی لاگت سے چک جھمرہ کو جدید اور مثالی شہر بنانے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد چک جھمرہ پنجاب کے جدید ترین اور ترقی یافتہ حلقوں میں شمار ہوگا۔
مزید برآں مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بھی چک جھمرہ اور اس کے گردونواح کی ترقی کے لیے متعدد نئے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں جن میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، نکاسی آب، شہری سہولیات اور مواصلاتی نظام کی بہتری شامل ہے۔
عوامی سیاست کا روشن استعارہ
آزاد علی تبسم کی سیاسی اور سماجی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ عوامی خدمت، مسلسل محنت اور عملی کارکردگی ہی ایک سیاستدان کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔ وہ آج بھی خود کو ایک کارکن سمجھتے ہیں اور یہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔
ان کی ترجیحات میں ہمیشہ چار بنیادی شعبے نمایاں رہے ہیں: صحت، تعلیم، کھیل اور ذرائع آمدورفت۔ ان کے دورِ نمائندگی میں ان چاروں شعبوں میں جو نمایاں ترقی ہوئی، وہ ان کے وژن، محنت اور عوامی خدمت کے جذبے کا عملی ثبوت ہے۔
بلاشبہ آزاد علی تبسم کی شخصیت جدوجہد، خدمت، دیانت داری، عوامی وابستگی اور ترقیاتی سوچ کا ایک روشن استعارہ ہے، اور ان کی خدمات چک جھمرہ اور فیصل آباد کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی










