ہر بارش کے بعد ڈوبتا ٹوبہ ٹیک سنگھ
تحریر رانا خالد محمود
بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، مگر جب یہی رحمت شہریوں کے لیے پریشانی، نقصان اور بے بسی کا سبب بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ قدرت میں نہیں بلکہ ہماری منصوبہ بندی میں ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہر مون سون میں اسی حقیقت کا سامنا کرتا ہے۔ چند گھنٹوں کی بارش پورے شہر کو مفلوج کر دیتی ہے۔ سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، بازار زیرِ آب آ جاتے ہیں، دکانوں میں پانی داخل ہو جاتا ہے، ٹریفک جام ہو جاتی ہے اور شہری یہ سوال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ آخر ہر بارش کے بعد یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے۔اس مسئلے کی جڑیں آج کی نہیں بلکہ برسوں پر محیط ناقص منصوبہ بندی میں پیوست ہیں۔ شہر کی مرکزی شاہراہیں بار بار تعمیر ہو کر بلند ہوتی رہیں، مگر ان سے ملحقہ گلیوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں کی سطح کو متوازن بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ نتیجتاً پانی کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا اور نشیبی علاقے بارش کے پانی کا مستقل ٹھکانہ بن گئے۔ ترقیاتی منصوبے صرف خوبصورت ٹائلیں لگانے، سجاوٹ کرنے یا افتتاحی تقریبات منعقد کرنے کا نام نہیں ہوتے۔ کسی بھی منصوبے کی کامیابی اس وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ عوام کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔ اگر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ایک بارش شہر کے نظام کو مفلوج کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں منصوبہ بندی، نگرانی یا عملدرآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں ۔خصوصاً مشرقی صدر بازار، کمیٹی بازار اور غلہ منڈی جیسے تجارتی مراکز شہر کی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ جب یہی علاقے پانی میں ڈوب جائیں تو نقصان صرف تاجروں کا نہیں بلکہ پورے شہر کی معاشی سرگرمیوں کا ہوتا ہے۔ غلہ منڈی، جہاں روزانہ کروڑوں روپے کی زرعی تجارت ہوتی ہے، بارش کے دنوں میں شدید مشکلات کا شکار رہتی ہے۔ ایسے معاشی مراکز کو محفوظ بنانا کسی بھی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے خوش آئند بات یہ ہے کہ شہر میں نئی سیوریج اسکیم پر غور کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ منصوبہ صرف ایک ترقیاتی سکیم نہیں بلکہ مستقبل کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا فیصلہ ہے۔ اگر اس بار مکمل سروے، جدید انجینئرنگ، شفافیت، میرٹ اور سخت نگرانی کو یقینی بنایا گیا تو یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوگا۔ بصورتِ دیگر، اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو ہر آنے والی بارش ایک بار پھر انہی ناکامیوں کی یاد تازہ کرے گی۔یہ بھی ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں سیاسی مصلحت کے بجائے فنی مہارت کو ترجیح دی جائے۔ منصوبے انجینئرنگ اصولوں کے مطابق تیار ہوں، معیاری میٹریل استعمال کیا جائے، اور ہر مرحلے پر آزادانہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہری اب صرف بیانات، وعدوں اور نمائشی منصوبوں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جو ہر موسم میں ان کے جان و مال، کاروبار اور روزمرہ زندگی کا محافظ بنے۔ ترقی کا حقیقی معیار وہ شہر ہوتا ہے جہاں بارش کے بعد زندگی رکتی نہیں بلکہ معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مسائل کا وقتی نہیں بلکہ مستقل حل تلاش کیا جائے۔ اگر آج درست فیصلے کر لیے گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی، لیکن اگر غفلت کا یہی سلسلہ جاری رہا تو ہر بارش ہماری کوتاہیوں کا نوحہ سناتی رہے گی۔













