بل باطوری کی خاموش رخصتی عینک والا جن کی مقبول اداکارہ نصرت آرا کی دردناک داستان

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی تاریخ میں بعض کردار ایسے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود ہمیشہ ناظرین کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ انہی لازوال کرداروں میں ایک نام “بل باطوری” کا بھی ہے، جسے باصلاحیت اداکارہ نصرت آرا نے اپنی منفرد اداکاری سے امر کر دیا۔ 1990 کی دہائی میں نشر ہونے والا بچوں کا شہرۂ آفاق پروگرام “عینک والا جن” نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی بے حد مقبول ہوا، اور اس کے ہر کردار نے ناظرین کے دلوں میں اپنی الگ جگہ بنائی۔ ان کرداروں میں “بل باطوری” بچوں اور بڑوں سب کی پسندیدہ شخصیت تھی۔نصرت آرا نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1960 کی دہائی کے آخر میں کیا۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے متعدد ڈراموں، اسٹیج ڈراموں اور مختلف پروڈکشنز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی اداکاری میں فطری پن، برجستگی اور کردار میں مکمل ڈھل جانے کی صلاحیت نمایاں تھی، لیکن انہیں اصل شہرت “عینک والا جن” میں ادا کیے گئے “بل باطوری” کے کردار سے ملی۔ اس کردار نے انہیں گھر گھر متعارف کرایا اور وہ بچوں کی محبوب ترین فنکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ جس فنکارہ کو کبھی لاکھوں ناظرین محبت اور داد دیتے تھے، وہی وقت گزرنے کے ساتھ بے روزگاری، مالی مشکلات اور بیماریوں کے گرداب میں پھنس گئیں۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد انہیں مسلسل کام نہ مل سکا، جس کے باعث ان کی معاشی مشکلات بڑھتی چلی گئیں۔ وہ فالج کے مرض میں مبتلا ہوئیں، سانس کی تکالیف نے بھی انہیں گھیر لیا اور علاج کے اخراجات پورے کرنا ان کے لیے انتہائی دشوار ہو گیا۔ مختلف اوقات میں میڈیا کے ذریعے ان کی حالتِ زار سامنے آئی تو اہلِ دل نے ان کے لیے آواز بلند کی، جبکہ پاکستان بیت المال کی جانب سے بھی ان کے علاج کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔تاہم بیماری اور غربت سے جاری یہ طویل جدوجہد بالآخر 14 اکتوبر 2017 کو اختتام پذیر ہوئی، جب لاہور کے جناح ہسپتال میں دورانِ علاج دل کا دورہ پڑنے سے نصرت آرا اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی وفات نے لاکھوں مداحوں کو غمزدہ کر دیا۔ سوشل میڈیا اور قومی سطح پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ ایک مرتبہ پھر یہ سوال شدت سے اٹھا کہ برسوں عوام کو ہنسانے، خوشیاں بانٹنے اور ثقافتی ورثہ تخلیق کرنے والے فنکار بڑھاپے اور بیماری میں کس قدر تنہا کیوں ہو جاتے ہیں۔نصرت آرا کی زندگی ہمارے معاشرے کے لیے ایک اہم سبق بھی ہے۔ فنکار کسی بھی قوم کا ثقافتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی صلاحیتوں سے معاشرے کو خوشیاں، شعور اور مثبت تفریح فراہم کرتے ہیں، اس لیے ان کی عزت، معاشی تحفظ اور علاج معالجے کی ذمہ داری صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فنکاروں کے لیے مستقل فلاحی نظام، پنشن، طبی سہولیات اور مالی معاونت کے مؤثر انتظامات کیے جائیں تاکہ کوئی بھی عظیم فنکار زندگی کے آخری ایام میں بے بسی اور محرومی کا شکار نہ ہو۔آج بھی جب “عینک والا جن” کا ذکر ہوتا ہے تو “بل باطوری” کا کردار فوراً ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ نصرت آرا اگرچہ اس دنیا میں موجود نہیں رہیں، مگر ان کی فنکارانہ صلاحیت، ان کی مسکراہٹ اور ان کی یادیں ہمیشہ پاکستانی عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔اللہ تعالیٰ مرحومہ نصرت آرا کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔*