صاف ستھرا ضلع، صحت مند معاشرہ ستھرا پنجاب کی جانب ایک اہم قدم
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
کسی بھی مہذب، ترقی یافتہ اور فلاحی معاشرے کی پہچان صرف بلند و بالا عمارتیں، کشادہ سڑکیں اور جدید سہولیات نہیں ہوتیں بلکہ صاف ستھرا ماحول، صحت مند شہری، منظم شہر اور خوبصورت گلیاں محلے بھی اس معاشرے کی ترقی کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ صفائی کا تعلق صرف ظاہری خوبصورتی سے نہیں بلکہ براہِ راست انسانی صحت، ماحولیات، شہری نظم و ضبط اور معیارِ زندگی سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی یوم صفائی کے موقع پر صفائی ستھرائی کی اہمیت کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک اور مینجنگ ڈائریکٹر ستھرا پنجاب و ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میونسپل سروسز ڈاکٹر محمد طارق عثمان نے عالمی یوم صفائی کے موقع پر اپنے مشترکہ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ضلع بھر کو صاف، سرسبز اور اہلِ ضلع کو صحت مند بنانا اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صفائی ہر مسلمان کے لیے نصف ایمان کا درجہ رکھتی ہے جبکہ صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ صفائی محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ حکومت صفائی کا نظام قائم کر سکتی ہے، عملہ تعینات کر سکتی ہے، مشینری فراہم کر سکتی ہے اور نگرانی کا مؤثر نظام وضع کر سکتی ہے، لیکن صفائی کو مستقل برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کا تعاون ناگزیر ہے۔ اگر شہری اپنے گھروں کا کچرا مقررہ مقامات پر ڈالیں، گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر کوڑا پھینکنے سے گریز کریں اور صفائی کے عملے کے ساتھ تعاون کریں تو صفائی کا نظام کہیں زیادہ مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ستھرا پنجاب پروگرام اسی سوچ کی عملی تصویر ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے پنجاب کے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی آبادیوں کو بھی صفائی کے منظم نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق پہلی مرتبہ شہروں کے ساتھ ساتھ 25 ہزار دیہات کی صفائی کا منظم پروگرام شروع کیا گیا ہے، جو صوبے میں صفائی کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس سے یہ تصور مزید مضبوط ہوتا ہے کہ صاف پنجاب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر آبادی کا حق ہے۔جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پنجاب کی سڑکوں، گلی محلوں اور دیگر علاقوں میں سیف سٹی کیمروں کے ذریعے صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کا یہ نظام نہ صرف انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ صفائی سے متعلق شکایات اور مسائل کی بروقت نشاندہی بھی ممکن بناتا ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے ضلع میں ستھرا پنجاب پروگرام کی کامیابی کے لیے ضلعی انتظامیہ، میونسپل اداروں، ستھرا پنجاب کے متعلقہ افسران و عملہ اور شہریوں کے درمیان مضبوط رابطہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کی انتظامی نگرانی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میونسپل سروسز ڈاکٹر طارق عثمان کی متعلقہ شعبے میں ذمہ داری اس امر کی متقاضی ہے کہ صفائی کے نظام کی نگرانی کے ساتھ ساتھ عوامی شکایات کے ازالے اور فیلڈ میں عملی کارکردگی کو بھی مسلسل مانیٹر کیا جائےصفائی کا سب سے بڑا فائدہ انسانی صحت سے وابستہ ہے۔ گندگی، کچرے کے ڈھیر، کھڑا پانی اور ناقص صفائی مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے برعکس صاف ستھرا ماحول شہریوں کو بہتر اور صحت مند زندگی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے صفائی کو صرف خوبصورتی کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے صحت عامہ اور انسانی فلاح کا بنیادی جزو تصور کیا جانا چاہیے۔ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت پائیدار اور ماحول دوست اقدامات بھی اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ آج دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور شہری آبادی میں اضافے کے باعث صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں جدید، منظم اور ماحول دوست صفائی کا نظام مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صفائی کرانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، لیکن صفائی برقرار رکھنا شہریوں کا فرض ہے۔ اگر ایک طرف صفائی کا عملہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دوسری طرف شہری بھی اپنے طرزِ عمل میں مثبت تبدیلی لائیں تو گلیاں، بازار، پارکس، شاہراہیں اور رہائشی علاقے مستقل طور پر صاف رکھے جا سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی یوم صفائی کو صرف ایک دن کی سرگرمی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے مستقل شہری شعور کی تحریک بنایا جائے۔ تعلیمی اداروں، مارکیٹوں، تاجروں، سماجی تنظیموں، میڈیا اور شہری نمائندوں کو صفائی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بچوں میں شروع ہی سے صفائی کی عادت پیدا کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں صاف اور صحت مند ماحول کو اپنا بنیادی حق اور اپنی ذمہ داری دونوں سمجھیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ ستھرا پنجاب پروگرام کی کامیابی میں ضلعی انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز کا کچرا سڑکوں یا نالیوں میں پھینکنے کے بجائے مقررہ طریقہ کار کے مطابق تلف کیا جائے، صفائی کے عملے سے تعاون کیا جائے اور جہاں کہیں صفائی سے متعلق مسئلہ درپیش ہو وہاں متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہ کیا جائے۔بلاشبہ صاف ستھرا ماحول بیماریوں سے بچاؤ، صحت مند زندگی اور بہتر معیارِ زندگی کی ضمانت ہے۔ ستھرا پنجاب صرف ایک صفائی پروگرام نہیں بلکہ ایک ایسے پنجاب کی تشکیل کی کوشش ہے جہاں شہریوں کو صاف ماحول، بہتر صحت اور باوقار طرزِ زندگی میسر ہو۔ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور شہری اگر اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں تو ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت پورا پنجاب نہ صرف صاف بلکہ زیادہ خوبصورت، صحت مند اور ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے۔صفائی نصف ایمان ہے، لیکن صاف معاشرے کی تکمیل اجتماعی ذمہ داری سے ہوتی ہے۔













