صحافت ایک دینی اسلامی ملی اور قومی ذمہ داری اور فریضہ،
صحافی خلیفتہ فی الارض، وارث رسول معاشرے اور ملک و ملت کا معلم، مربی، محسن، مسیحا، معالج, رہنما، تاریخ ساز اور مورخ۔۔۔
(تحریر: بشیر کوکب ترابی کاشمیری)
صحافی صحیفہ سے مشتق ہے۔۔۔
صحیفہ آسمانی اور آفاقی کتاب کو کہا جاتا ہے جو اللہ رب العزت ازل سے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اپنے آخری نبی رسول اور پیغمبر اسلام امام الانبیاء و ختم المرسلین رحمتہ العالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تک وقتا فوقتاً اپنے بندوں کی ہدائیت اور رہنمائی کے لیئے نازل فرماتا رہا اور اس عظیم ذمہ داری اور فریضے کی ادائیگی کے لیئے مختلف زمانوں میں مختلف علاقوں اور قوموں میں اپنے برگزیدہ بندوں کو بطور رسول نبی اور پیغمبر منتخب فرما کر انھیں اس فریضے کے لیئے مبعوث فرما کر ان پر نازل فرماتا رہا ہے جن کے ذمہ انسانوں خاندانوں نسلوں اور قوموں کی علمی اخلاقی تعلیم و تربیت اور ان معاشروں کے لیئے تہذیب و اقدار، تمدن کو تشکیل دینا ہوتا ہے اور یکے بعد دیگرے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جب ان میں الہامی تعلیمات و ہدایات میں کمی بیشی، ان سے سے روگردانی، انحراف نافرمانی اور یا بحران کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو پھر نئے رسول نبی یا پیغمبر کے ذریعہ ان تعلیمات اور تہذیب و معاشرت اور تمدن کا احیاء، داغ بیل ڈالی جاتی ہے پھر ان ہی احکامات ہدایات اور تعلیمات کی روشنی میں انسانی اخلاق کردار، مزاج اور رویوں کو ڈھالا جاتا ہے تاکہ وہ انسان ایک دوسرے کے لیے سود مند اور مفید شہری ثابت ہو سکیں۔۔۔
ہر دور کے رسول نبی اور پیغمبر نے اللہ کی تعلیمات سے متصادم تعلیمات تہذیب و معاشرت رسم و رواج اور ان سے تشکیل پانے والے دوسرے تمام منفی رویوں کا سدباب اور بیخ کنی کی ہے اور ہمیشہ اس کی تعلیم دی جاتی رہی ہے جن سے ناہمواریاں پیچیدگیاں پریشانیاں اور برائیاں پیدا ہوں فتنے اور فساد اور نظام حیات جنم لیں اور پروان چڑھیں جو نظام فطرت اور قدرت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اللہ کے بندے اور انسان اور اللہ کی پیدا کی ہوئی دوسری ساری مخلوق تذبذب پریشانی اور بدامنی کا شکار ہو جائے۔۔۔
پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں خطبہ حجتہ الوداع پر نو ذوالحجہ کو اور یوم النہر دس ذوالحجہ کو بھی باقاعدہ طور پر اپنے اس نبوی مشن کو جاری رکھنے کی تلقین فرمائی اور متعدد مرتبہ اللہ وحدہ لا شریک اور موجود تمام حاضرین کو گواہ فرما کر اس کا اعادہ فرمایا اور اس مشن کو جاری رکھنے کی بابت ھدایات اور رہنمائی فرمائی اور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد عزوہ بدر کے بعد اپنی زندگی کے باقی آٹھ سال دنیا سے ظلم ناانصافی جہالت جبر و استبداد کے جڑ سے خاتمے اور بیخ کنی کے ساتھ ساتھ اعلی انسانی اخلاقی معاشرتی علمی قدروں کے تہذیب و معاشرت اور تمدن کے احیاء، تشکیل جدید، فروغ، تعمیر و ترقی، انسانوں کی تعلیم و تربیت، رہنمائی، فلاح و بہبود، خدمت اور امن و سلامتی کے قیام کے لیئے وقف کیئے رکھی اور انسانوں پر سے انسانوں کی حکومت جبر و استبداد ظلم و نا انصافی کے خونی پنجوں کو اکھاڑ پھینکا اور دنیا میں امن سلامتی، تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔۔۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب بھی دنیائے بے ثبات کا نظام جب بھی فطرت اور قدرت کے تقاضوں سے ذرا بھر بی سرمو بھی انحراف کرنا شروع کر دے اور خدائی تعلیمات سے ھٹنا شروع ہو جائے تو اس نظام باطل فتنہ و فساد کی بیخ کنی شروع کر دی جائے اور اس فساد زدہ نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا جائے اور اس نظام کا احیاء فروغ اور نفاذ کیا جائے جو اللہ رب ذوالجلال نے اپنے بندوں کے لیئے منتخب کر کے بھیجا ہے۔۔۔
یہی ذمہ داری اللہ رب العزت اپنے سب سے افضل، مخلص، معتبر اور برگزیدہ بندوں کو چن کر نبی رسول اور پیغمبر بنا ان کے زمہ لگا کر بھیجتا رہا ہے اور ان اللہ نے عظیم بندوں نے اپنی جان لڑا کر بھی اس عظیم کام کو کیا ہے اور اپنے ہیروکاروں کو بھی اسی کام کے کماحقہ جاری و ساری رکھنے کا حکم دیا جاتا رہا ہے کوئی ساتھ کھڑا ہواء یا نہ ہواء کسی نے ساتھ دے یا نہیں دیا ہر دور اور زمانے کے نبیوں رسولوں اور پیغمبروں نے تن تنہا بھی یہ کام کرنا تھا اور انھوں نے کر کے دم لیا ہے۔۔۔
صحافی معلم استاد پیر عالم واعظ کی بھی یہی ذمہ داری اور فریضہ ہے صحافی بھی بدرجہ اتم ایک خلیفہ ہے اور صحافی، ادیب، اخبار نویس، لکھاری عالم، استاد، پیر اور محراب و منبر کا ہے جو ایک نبیوں رسولوں اور پیغمبروں کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد اس مشن کے وارث اور زمہ دار ہوتے ہیں اور وہی تعلیم و تربیت اور رہنمائی کا فریضہ ایک صحافی ادیب اور دانشور نے ادا کرنا ہوتا ہے جو اس کی بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے مانے یا نہ مانے اس نے بہرحال اپنا فرض ادا کرنا ہے جیسے کہ۔۔۔
کوئی نماز پڑھنے کو آئے یا نہ آئے مؤذن نے اذان دینی ہے۔۔۔
کوئی پڑھے نہ پڑھے صحافی نے لکھنا ہے اور سچ اور حق لکھنا ہے۔۔۔
کوئی سنے نہ سنے عالم اور واعظ نے محراب و منبر سے حق و صداقت، عدل اور انصاف کی صدا بلند کرنی ہے لوگوں کے حقوق کی بات کرنی ہے۔۔۔
پیر اور مرشد نے معاشرے کی ناہمواریوں کا پردہ چاق کرکے عدل اور انصاف کی داغ بیل ڈالنی ہے۔۔۔
معلم اور استاد یعنی ہڑھانے اور سکھانے والے نے سچ اور جھوٹ، حق اور ناحق، صیحیح اور غلط، ظلم اور انصاف کا فرق بتانا ہے اور مظلوموں کو ظلم کے خلاف کا کھڑا کرنا ہے۔۔۔
صحافی ادیب دانشور، معلم استاد اور پیر کا بھی یہی کام ذمہ داری مشن اور مقصد حیات صحافی اور ادیب کا ہے لکھاری کا ہے۔۔۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں الحمدللہ تعالی،
ہم صحافی بھی نبی آخر زمان پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور وارث ہیں،
ہم صحافی اور معلم صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی حیدر کرار، حسن، حسیں، ابو عبیدہ بن جراح، سعد بن ابی وقاص، زبیر، طلحہ، خالد بن ولید، محمد بن قاسم، خالد بن ولید، طارق بن زیاد، موسی بن نصیر، بدربن مغیرہ، نورالدین زنگی، صلاح الدین ایوبی، محمد بن فاتح، سلطان ٹیپو، سید احمد شہید، میجر طفیل، سرور شہید، کرنل شیر خان اور لالک جان شہید رحمہ اللہ علیھم اجمعین دین اسلام اور اسلامی ریاست وطن عزیز مملکت خداداد پاکستان کے نام پر مر مٹنے والے لاکھوں شہدوں کی امانت ہے ہم ان عظیم ہستیوں اور قدسی روحوں کے وارث ہیں ان کی امانتوں کے امین، نگہبان، پاسبان، نقیب اور علمبدارہیں۔۔۔
ہم خدیجہ، عائشہ، سمیہ، فاطمہ، صفیہ، زینب، بتول، خولہ بنت ازوار، فاطمہ ثانی، زینب غزالی، فاطمہ جناح، مریم جمیلہ، بانو قدسیہ رحمتہ اللہ علیھم اجمعین اور ڈاکٹر عافیہ کے بیٹے اور ان کی چادروں عزتوں عصمتوں اور ناموس کے محافظ اور نگہبان ہیں۔۔۔
ذرا اپنی نسبت تو پہچانیں۔۔۔؟
ہوش میں آئیں مدہوشی اور غفلت سے تو نکلیں۔
قلم، کتاب، روشنائی صحیفے اور صحافی کی عظمت کو تو جانیں اور پہچانیں۔۔۔؟
اپنی نسبت شان بلندی اور رفعت کا تو اندازہ لگائیں۔۔۔؟
ن۔ والقلم۔ وما یسطرون۔۔۔۔
قلم اور کتاب اللہ پاک کی مخلوق نہیں اس کے لوح و قلم ہیں اس کی قدرت اور اس کی عظمت کے شاہکار اور مینارہء نور ہیں نر یزداں ہیں۔۔۔
قلم اور کتاب قانون، اصول، ضابطے، قواعد، زندگیاں، تقدیر اور قسمتیں لکھتے بناتے اور سنوارتے ہیں یا مٹاتے اجاڑتے، تباہی و برباد کر کے ملیا میٹ نیست و نابود اور ختم کر کے رکھ دیتے ہیں۔۔۔
یہ انسان، خاندان، معاشرے اور قوموں کے قانون، مقدر، تقدیر، قسمت اور نصیب بناتے، لکھتے ، بگاڑتے اور سنوارتے ہیں۔۔۔
یہ عشق مشق کی خبریں، بادشاہوں کے قصیدے لکھنے کے لیئے نہیں۔۔۔
یہ الف لیلی کی داستان، ہیر رانجھے کے قصے، لیلی مجنوں کی عشق و محبت کی کہانیاں لکھنے کے لیئے بھی نہیں بنائے گئے۔۔۔
یہ قلم و قرطاس، صحیفہ و کتاب، روشنائی اور قلمدان یہ اللہ رب العزت کی خاص نشانیاں ہیں۔۔۔
اللہ پاک ازل سے ابد تک زندگی موت تقدیر اور تاریخ لکھتا چلا جا رہا ہے۔۔۔
ہر انسان پر کرام الکاتبین اس کی داستان حیات لکھنے کو مقرر کر رکھے ہیں۔۔۔
لکھنے کا ہنر حق اور سچ لکھنے کی توفیق اللہ پاک کی عطائے بے بہا رحمت بیکراں اور اس کا فضل کرم اور احسان عظیم ہے جس کو چاہے اس کو نواز دے۔۔۔
اللہ قلم و قرطاس سے تقدیریں بنانے اور قسمتوں کے عروج و زوال مرتب کرنے کا ہنر ہر ایک کو عطا نہیں کرتا اور جسے عطا کرتا ہے اسے اندھا بہرہ گنگا بے حس، شقی القلب اور کوتاہ بین نہیں بناتا اسے علم و حکمت دانائی شعور اور احساس زیاں کی دولت بھی عطا کرتا ہے۔۔۔
ایک صحافی، ادیب، دانشور، استاد، خطیب عالم، رہبر پیر اور رہنما کو اللہ پاک اس دنیا میں ایک انسان، خاندان، معاشرے اور قوموں کے بنانے سنوارنے، سدھارنے بگاڑنے، تعمیر و تو سیع کرنے، عظمتوں کے مینار بنانے اور پھر تہہ و بالا، زوال انحطاط، زبوں حالی و مسکنت سے آشکار کر کے تباہ و برباد، تہس نہس ملیا میٹ کر کے رکھ دینے کا ہنر سلیقہ ڈھنگ اور طریقہ عطا کرتا ہے۔۔۔
اللہ پاک جسے اس عظیم ہنر سے نوازتا ہے جس پر وہ بے انتہا مہربان ہو جاتا ہے
یا پھر اسے نوازتا ہے جس کا بہت ہی بڑا امتحان مقصود ہوتا ہے۔۔۔
قلم کی دولت عطا بھی کرتا ہے اور پھر کڑی آزمائش میں بھی ڈال دیتا ہے۔۔۔
ہمارے ہاتھ میں جو قلم ہے وہ اس کائنات کے خالق مالک اللہ وحدہ لا شریک کی امانت ہے۔۔۔
ہمارے ہاتھ میں وہ قلم ہے جس کی حرمت، سچائی، پاکیزگی کی قسم شہادت اور گواھی خود اس کائنات کے خالق و مالک اللہ رب العزت نے خود کھائی ہے۔۔۔
قلم و قرطاس جو ہمارے ہاتھ میں ہیں یہ اللہ نے اس دنیا میں انسانوں اور قوموں کو بھیجنے کے بعد ان کی تقدیر کے کچھ فیصلے کرنے کا اختیار اللہ نے صحافیوں اور ادیبوں کو دے دیا ہے لکھاریوں کو دے دیا ہے کہ وہ اپنا اور اپنے اہل و عیال، خاندان، برادری، قبیلے، معاشرے اور ملک و قوم کی عروج و زوال کے راستے متعین کریں، مرتب کریں اور ان کی تاریخ اپنے قلم اور ہاتھوں سے مرتب کریں اور نوشتہء دیوار بنا کے رکھ دیں۔۔۔
ہمارے پاس جو قلم ہے وہ تو امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی امانت ہے۔
امام احمد بن حنبل اور شافعی کی امانت ہے۔
امام بخاری اور امام مسلم کی امانت ہے۔
امام نسائی اور ترمزی کی امانت ہے۔
امام سیرین اور امام تیمیہ کی امانت ہے۔۔۔
ہمارا قلم تو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، سید احمد شہید، مولانا شبلی نعمانی، ڈپٹی نذیر احمد، مولانا عبدالحق، مولانا ظفر علی خان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوھر اور مولانا ظفر علی خان اور مولانا مودودی رحمہ اللہ علیھم اجمعین کی امانت ہے۔۔۔
ہمارے پاس جو قلم ہے وہ مفکر اسلام مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال کی امانت ہے جس نے اپنے قلم سے برصغیر پاک وہند کا سینہ چاک کر کے اپنے سے چار گنا بڑی دشمن قوتوں کو چاروں شانے چت کر کے دوقومی نظریئے کا احیاء کیا اور اپنے سوز قلب کے قرطاس بنا کر اپنے خون جگر کی روشنائی سے جہالت کے اندھیروں میں اسلامی قومیت کے نور کی آبیاری کی اور مملکت خداد پاکستان کی مضبوط ترین بنیاد رکھ دی۔۔۔
یہ قلم بانیئ مملکت خداد پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی امانت ہے جس نے مکار ہندو ہرھمنوں کے باپو موہن داس کرم چند گاندھی، نہرو اور پٹیل کے دجل و فریب اور مکاریوں کو تاراج کر کے انگریزی
سامراج کو دلیل و براہین اور استدلال کی قوت سے اپنے پاؤں پر جھکا کر مملکت خداداد پاکستان کو برھمن ھندوؤں کے سمندروں سے قدرت کے سبز ہلالی جزیرے کی صورت سبز ہلالی پرچم گاڑھ کے رکھ دیا اور اب ایک اور تیسرے پاکستان کے نقشے میں کلمے والا سبز ہلالی رنگ بھرا جا رہا ہے۔۔۔اور
قلم سے ہم نے اپنے وطن عزیز مملکت خداداد کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی جنگ کرنی ہے اپنے وطن عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے۔۔۔
ہم نے اپنے قلم سے اللہ کا نام لے کر اس کی رحمت سے اپنے عہد کو وفا کرنا ہے اور اسی جنگ میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دینی ہے۔۔۔
برصغیر پاک و ھند میں ایک اور مملکت خداداد پاکستان کے نقشے میں سبز ہلالی رنگ بھرنا ہے اور بھارت کے ترنگے کو اپنے قلم سے تاراج کرنا ہے اور اس کا ایک ایک دھاگہ الجھا کر شوریدہ ہواوءں کے رخ پر ڈال دینا ہے ان شاءاللہ ان شا ءاللہ۔۔
افسوس ہے کہ ہمیں اس پلٹ فارم پر کوئی رہبرو رہنما نہیں ملا، کوئی مہربان اور استاد نہیں ملا، حتی کہ کوئی غمگسار بھی نہیں ملا، کوئی کوئی روشنی، کوئی دیا سلائی، کوئی کرن جس کے سہارے ہم ان ذلالت و گمراہی کے اندھیروں میں اک ایک بالشت ہی آگے چلتے جاتے اسلام پاکستان اور انسانیت کے دشمنوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے جاتے اور ان کو رنگے ہاتھوں اسفلاسافیلین میں پہنچا کر دم لیتے۔۔۔
ان شاء اللہ، ان شا ءاللہ۔۔۔
یہ قلم میرے رب، رسول، اسلاف اور بزرگوں کی امانت ہے اور اس کا حق ادا کرنا میری زمہ داری اور میرا فرض ہے اور میرا فرض فرض میرا شوق ہے اور میرا شوق میرا جنون ہے اور اس شوق و جنون میں سچ کو سچ، حق کو حق، ظلم کو ظلم، عدل کو عدل، انصاف کو انصاف لکھنا ہے۔۔۔
ظالم کو ظالم، مظلوم کو مظلوم، چور کو چور، ڈاکو کو ڈاکو، غاصب کو غاصب، کرپٹ کو کرپٹ لکھنا ہے اور بہر صورت اپنا انفرادی،اجتماعی، دینی،اسلامی، اخلاقی، ملی اور قومی فرض کو کماحقہ فرض کے طور پر ادا کرنا ہے۔۔۔
ان شاء اللہ، ان شاء اللہ، ان شاءاللہ۔۔۔
ہم صحافت برائے صحافت اور ادب برائے ادب کے قائل نہیں ہیں۔۔
عصمت چغتائی اور رضیہ بٹ وغیرہ کے ہم وارث نہیں ہیں اور نہ ہی یہ مملکت خداداد پاکستان عصمت چغتائی اور رضیہ بٹ کے وارثوں کا ہے۔۔۔
مملکت خدادادداد پاکستان ہمارے بزرگوں اور شہیدوں کی کی امانت ہے اور اس فریضے کی ادائیگی کے لیئے ہم نے نہ ہی پہلے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ کیا ہے اور نہ ہی ائیندہ کریں گے۔ ان شا ء اللہ تعالی۔۔۔
کوئی ہماری یہ بازگشت سنے یا نہ سنے،
کوئی ہماری کوئی تحریر پڑھے یا نہ پڑھے،
کوئی ہمارا کوئی مضمون چھاپے یا نہ چھاپے،
کوئی ہماری حوصلہ افزائی کرے یا نہ کرے،
کوئی مذھبی کہے یا غیر مذہبی،
کوئی مجنوں کہے یا لیلی،
کوئی دنیادار کہے یا سیاسی،
کوئی کہ غیر مذہبی، کوئی رجعت پسند کہے یا ترقی پسند،
یا دقیانوسی،
کوئی ہمارے ساتھ چلے یا نہ چلے،
کوئی ہمیں اپنے ساتھ رکھے یا نہ رکھے۔۔۔
ہم نے تو بہرحال یہ مشن جاری رکھنا ہے کہ یہی ہماری زندگی کا مشن ہے کہ ہمارا مقصد حیات بھی ہے۔۔۔
“ملک و ملت کے پتوار جو تھا میں گے اس طور
ہم ان کی گرد پا کو بنالیں گے سرمہ حیات”
“گر یہ نہیں ہو گا تو وہ بھی نہیں ہو گا اے کاتب سطح آب
دنیا کی بے ثباتی کی طرح وہ خواب بکھر جائیں گے اک دن”
ہم بدلیں گے رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
اس موقع پر ایک غزل کے چند اشعار یاد آ رہے ہیں۔۔۔
کب میر ا نشمین اہل چمن گلشن میں گوارہ کرتے ہیں۔۔۔
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس کے لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے سامان اتارا کرتے ہیں۔۔۔
(تحریر۔۔
سید بشیر کوکب ترابی کاشمیری،
پونچھ جموں وکشمیر
03335151463 ، اسلام آباد پاکستان)













