بلال جستجو، بلال اک سفر
(صدائے منہاس)۔۔۔۔۔۔
کالم نگار غلام شبیر منہاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاست پاکستان کے وفاقی دارالحکومت قرار دئیے جانے والے اس شہر ، جس کا نام بھی اسلام کے نام پر رکھا گیا ھے۔ اس کے سینے میں بے شمار راز دفن ہیں۔ یہ شہر اقتدار ھے اور یہ جہاں بے شمار سازشوں، ان گنت منافقتوں اور مکروہ عزائم رکھنے والوں کا گڑھ ھے۔ وھیں بے لوث خدمت گاروں ، اسلام اور ملک و ملت کا درد رکھنے والے بھی اس کے باسی ہیں۔ خیر وشر کا یہ سفر کئی دہایئوں سے جاری ھے۔
اس شہر اقتدار کے در و دیوار بہت سے حادثوں کے عینی شاہد بھی ہیں اور بے شمار رازوں کے مدفن بھی۔ اس شہر نے جہاں بھٹو جیسے لیڈر پر مقدمہ چلتے اور پھانسی گھاٹ تک کے سفر کو دیکھا وہیں 11 سال تک اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک جنرل ضیاء الحق شہید کی ٹکڑوں میں بٹی لاش کو بھی اپنی پناہ میں لیا۔ اس شہر ستم گر نے جس نواز شریف کو تخت حکمرانی پہ بیٹھے دیکھا اسی نواز شریف کو ہتھکڑیوں میں جکڑے قومی مجرم کیطرح اٹک قلعے جاتے ہوئے بھی ملاحظہ کیا۔ اس شہر بے نیاز میں لال مسجد کا سانحہ بھی ھوا اور اسی پہاڑوں کے دامن میں بسے شہر نے 12 برس تک بلا شرکت غیرے مشرف کا عہد فرعونی بھی دیکھا جو مکے لہرا لہرا کر اپنی طاقت دکھاتا تھا مگر پھر عدالتوں سے بھاگتا ہوا دیار غیر میں جابسا۔۔ اس شہر نے معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے غیرملکیوں کو بھی دیکھا جو یہاں صرف حکومت کرنے آئے۔ اور عہد حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی واپس اپنے ملکوں کو سدھار گئے۔ اسی جابجا سنگ مرمر لگے پتھر دل شہر نے دو بار وزیراعظم رہنے والی بے نظیر کو بھی اپنے پڑوس میں خاک و خوں میں لت پت دیکھا۔جس کا باپ کیطرح یہاں سے جسد خاکی ہی واپس آبائی علاقے میں گیا۔ الغرض اس شہر اقتدار نے بڑے ہی عجیب و غریب مناظر دیکھے اور دہایئوں کے ایسے سربستہ راز اپنے سینے میں دفن کرتا چلا جارھا ھے۔ جن کو وقت اور مورخ کسی دور میں گرد جھاڑ کر تاریخ کے افق پہ ضرور اجاگر کریں گے۔ ایسا ہی ایک راز آج سے ٹھیک ایک سال پہلے 16 جون کی شام اسی شہر میں زبح ھونے والے حافظ بلال خان کا بھی ھے جو اس شہر کے زمہ واجب بھی ھے اور اس شہر کے درو دیوار اس خون ناحق کے مقروض بھی ہیں۔
بلال خان جس نے یکم جنوری 1997ء کے دن جنم لیا تھا محض 22 سال بعد اس ظالم سسٹم کی بھینٹ چڑھ گیا جہاں سچ انسان کا سب سے بڑا جرم کہلاتا ھے۔ بلال خان جو کہ ایک حافظ قرآن، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا ایک طالب علم، صحافی، بلاگر ، اور سوشل میڈیا پہ ھر ظلم ھر ناہمواری اور ھر نانصافی پہ ایک مضبوط اور توانا آواز تھا۔ یہ نوجوان اس ارض پاک کے ساتھ اس حد تک مخلص تھا کہ کہیں سے اشارے کنایوں میں بھی اگر ریاست پاکستان کے خلاف کوئی آواز اٹھتی تو یہ لڑکا بنا یہ پرواہ کئیے کہ اگلا کتنا طاقتور ھے خم ٹھونک کے میدان میں اتر آتا۔ اور اس کا پورا پورا پیچھا کرتا۔ اسی طرح یہ مسالک کے مابین اختلافات کو وقت اور توانایئوں کا ضیاع سمجھتے ہوئے ھمیشہ اتحاد و یگانگت کا پرچار کرتا نظر آتا۔ اس نے کبھی بھی بریلوی دیوبندی اھلحدیث بحث کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔ بلکہ اس نے جو حق سمجھا اور جس مسلک کے فرد کو حق کا راہی خیال کیا اسی کیساتھ جا کھڑا ہوا۔
بلال خان میں یوں تو بے شمار خوبیاں تھیں۔ مگر اس کی دو خوبیاں ایسی تھیں جو اس دور خزاں میں ناپید سی ہوتی جارہی ہیں۔ اس میں سے ایک یہ کہ یہ کم سن شہزادہ اسلام کی نظریاتی سرحدوں کا ایسا بے باک پاسبان و نگہبان تھا جو بڑے بڑے برجوں سے الجھ جاتا تھا۔ اس ضمن میں دو مثالیں میں ضرور دینا چاہوں گا کہ ایک بار جب شہلا رضا نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں حضرت امیر معاویہ رض کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تو اس وقت سب سے پہلے میدان عمل میں آکر اس بااثر عورت کو للکارنے والا یہی بلال خان تھا۔ اس نے اس پہ پروگرام کیئے ، ویڈیوز اپ لوڈ کیں اور ٹرینڈ چلائے جس کے بعد شہلا رضا نے معذرت کی تھی۔ اسی طرح شروع شروع میں جناب عمران خان نے ایک بار قوم سے خطاب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کو نعوذ باللہ بزدل اور بھاگ جانے والا کہہ دیا، اگرچہ یہ ناسمجھی اور نادانستگی میں کہا گیا تھا مگر اس موقعہ پہ بھی سب سے پہلے آواز اٹھانے والا یہی بلال خان تھا۔ یہ ایسا مرد قلندر تھا جو حق بات پہ اپنوں سے بھی الجھ جایا کرتا تھا۔ مولانا طارق جمیل صاحب سے اس نے 55 منٹ طویل گفتگو کی اور دلائل کے ساتھ کی تھی۔ اسی طرح اگر کوئی عالم کسی وجہ سے ڈنڈی مارتا تو یہ اس کے سامنے بھی آکھڑا ہوتا تھا۔ سوشل میڈیا پہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توھین ، ناموس رسالت اور ختم نبوت پہ حملہ آور ہونے کیلئے بھینسے جیسے مختلف پیج بنائے گئے تو یہی خوبرو نوجوان ان مغربی پروردہ طاقتوں کے سامنے بھی سینہ سپر ہوا تھا۔ اور دوسری اس کی خوبی یہ تھی کہ پاکستان اس کا عشق تھا۔ اس ارض پاک کے خلاف وہ ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا تھا۔وہ اس مٹی کے تقدس کو جانتا اور سمجھتا تھا اسی لئیے دشمنان پاکستان کیلئے اس کا خون کھولتا رہتا۔ ان دو محازوں پہ یہ ڈٹ کے کھڑا رھا اور جب تک سانس میں سانس رہی پوری دلجمعی سے ڈٹا رھا۔
اس کے بہت اعلی و ارفع عزائم تھے۔ خدا نے اس کو بے پناہ صلاحیتں عطا کیں تھیں اور وہ ان صلاحیتوں کو صیح سمت میں بروئے کار لانا چاہ رھا تھا مگر اس کے پاس وقت بہت کم تھا شاید اس کو بھی اندازہ تھا اسی لئیے وہ رات دن کسی بے چین و مضطرب روح کیطرح بھٹکتا رھا۔۔وہ کسی پل بھی چین سے نہیں بیٹھا۔اور خاردار جھاڑیوں کا سینہ چیرکر امت کیلئے راستہ بناتا رھا۔ اور پھر بہت جلد وہ حادثہ رونما ھوگیا جس کیلئے دل تو اکثر دھڑکتا تھا مگر یہ وہم وگماں میں بھی نہیں تھا کہ اتنا جلد یہ سب کچھ ہو جائے گا۔
آج سے ٹھیک ایک سال قبل آج ہی کے دن 16 جون 2019ء کی شام بلال خان کو فون کرکے گھر سے باھر اسلام آباد کے مضافات میں بلایا گیا جہاں پہلے سے گھات میں بیٹھے سفاک اور بزدل دشمن نے اس کو چاقو کے پئے در پئے وار کرکے شدید زخمی کردیا اور ہسپتال میں پہنچنے سے قبل ہی وہ اپنی 22 سالہ مختصر مگر بھرپور زندگی گذار کے واپس اپنے خالق حقیقی کے پاس جاچکا تھا۔ اس کی وصییت کے مطابق پہلا جنازہ مولانا مسعود الرحمان عثمانی صاحب اسلام آباد کی ایک اہم شاہراہ پہ پڑھایا۔ جبکہ اسی دن دوسرا جنازہ ایبٹ آباد میں بلال خان کے والد محترم نے پڑھایا اور وھیں دفن کیا گیا۔
اس کی یوں مظلومانہ شہادت کو دنیا بھر کے زرائع ابلاغ نے نمایاں جگہ دی۔۔انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ نے بھی اس قتل اور سچ کی آواز کا یوں گلا گھوٹنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے تعزیت کا پیغام ٹویٹ کیا اور پسماندگاں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود ایک تلخ حقیقت یہ بھی ھے کہ آج اس نیک دل ، خودار ، جرات کے پیکر ایک سچے پاکستانی اور کھرے مسلمان کو ھم سے بچھڑے ایک سال کا عرصہ بیت چکا ھے۔۔اور آج تک اس کے قاتل منظرعام پہ نہیں آسکے۔ آج ایک سال بعد جہاں قانون کی گرفت قاتلوں کی منتظر ھے وہیں بلال خان کو چاہنے والے بے شمار لوگ بھی منتظر ہیں کہ قاتل کب پکڑے جایئں گے۔۔یہ ریاست کے سامنے بھی ایک سوال ھے اور اسلام کے نام پہ بسائے گئے اس شہر اقتدار کے نام بھی۔
کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں (ادارہ)










