انگریزی میرے علمی راستے میں دیوار بن گئی ۔۔۔ گل بخشالوی
  میری مادری زبان پشتو اور قومی زبان اردو ہے۔میں نے آٹھویں جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور فوج میں بھرتی ہو گیا ۔لیکن دل نہیں لگا اس لئے پانچ سال بعد فوجی ملازمت چھوڑ کر واہ فیکٹری میں چپڑاسی بھرتی ہو گیا۔ شعوری طور پر اردو سے محبت تھی واہ فیکٹری کے ہفتہ وار پرچے واہ کاریگر میں میری پہلی نظم اور ایک کہانی شائع ہوئی تو افسرِ اعلیٰ نے دفتر بلا کر مجھ سے میری تعلیم کا پوچھا میرے بتانے پر افسِ اعلیٰ نے کہا تم اگر میٹرک کا امتحان پاس کر لو تو کلرک بھرتی ہو سکتے ہو تمہاری اردو ادب سے دوستی مجھے اچھی لگی ہے ۔میں نے تعلیمی اخراجات کا رونا رویا تو کہنے لگے اس کی فکر مت کرو افسرِ اعلیٰ کا شکریہ ادا کر کے میں نے پرائیویٹ امتحان کی تیاری شروع کی پانچ ماہ کی تیاری کے بعد امتحان دیا ریزلٹ آیا تو میرے فرسٹ ڈویژن میں پاس ہونے پر مجھ سے ز یادہ افسرِ اعلیٰ خوش تھے ایک ماہ بعد میں اسی آفس میں چپڑاسی کی کرسی سے اٹھ کر کلرک کی کر سی پر بیٹھ گیا ۔تو افسر اعلیٰ نے کہا کی اگر آپ سائنس گروپ میں میٹرک پاس کر لیں تو سپر وائزر بن سکتے ہو اور صرف تین ماہ بعد سائنس کے دو پر چوں کا امتحان دیا ریزلٹ آیا تو فرسٹ ڈویژن میں پاس تھا 
  مہربان افسر میری اس کامیابی پر بہت خوش تھے میں نے سپروائزری کا امتحان فیکٹری میں دیا میری ترقی کی راہیں کھل گئیں تو مجھے مزید تعلیم کے لئے مشورہ ملا اور میں نے مشورہ دل سے قبول کیا دو سال بعد ایف اے کا امتحان دیا تو ریزلٹ آنے پر میں تمام مضامین میں پہلی پوزیشن میں پاس تھا لیکن انگریزی میں تیس نمبر تھے صرف تین نمبر کم تھے اور فیل ہو گیا انگریزی کا پیپر پاس کرنے کے لئے تین با ر کوشش کی لیکن ناکام رہا تو اس وقت کے گورنر نصیراللہ بابر کو خط لکھا کہ میری مادری زبان پشتو،مذہبی زبان عربی اور قومی زبان اردو ہے میں ایف اے کے دوسرے تمام مضامین میں پاس ہوں لیکن انگریزی میں تین نمبر کم ہونے کی وجہ مجھے فیل کر دیا گیا ہے مجھے تین نمبر اعزازی دیئے جائیں تاکہ میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکوں باوجود ہر ممکن کوشش کے میں ایف اے انگریزی کی وجہ سے پاس نہ کر سکا اور میری تعلیم ادھوری رہ گئی اس وقت مجھ پر ایک شعر اترا !!
           بڑی مدت سے زنجیرِ فرنگی کٹ گئی لیکن 
           ہمارے ذہن سے ان کی وہ نگرانی نہیں جاتی 
 کچھ خانگی حالات کی وجہ سے واہ فیکٹری کی ملازمت چھوڑ کھاریاں آیا اور کھاریاں کا ہو کر رہ گیا اور دینائے اردو ادب نے اردو ادب سے محبت میں مجھے
 سبحان الدین گل سے گل بخشالوی بنا دیا ،اردو ادب سے محبت میں تیس تصنیفات اور تالیفات کے اعزاز سے سرفراز ہوا میرے پاس کوئی تعلیمی ڈگری نہیں لیکن 
،،،،گل بخشالوی کی ادبی خدمات
پر ایم فل کی ڈگری حاصل کی چکی ہے جو کہ میرا سب سے بڑا اعزاز ہے
گل بخشالوی ناظم اعلیٰ قلم قافلہ کھاریاں پاکستان