*بڑی منزلوں کے مسافر*
سردیوں کی ٹھنڈی شام اور تاحدِ نگاہ قبریں میرے سامنے تھیں۔ دونوں مل کر میری اداسی اور تنہائی کو بڑھانے میں مصروف تھیں، لیکن سامنے بیٹھے بزرگ کی آواز میرے لیے امید کا چراغ تھی۔ سات دن کی خاموشی آج ٹوٹی اور میں اپنی عرضی کو آج پیش کر رہا تھا۔ ایک سوال کے جواب کے لیے لمبا انتظار کرنا پڑا۔ پورے سات روز میں شام پانچ بجے سے رات بارہ بجے تک ان کے سامنے بیٹھ جاتا اور ایک ہی سوال دہراتا کہ ’’زندگی میں اتنے مسائل ،دکھ اور رکاوٹیں کیوں ہیں؟ وہ خاموشی سے سر ہلاکر آنکھوں کے اشارے سے انتظار کرنے کو کہتے ۔ میں نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا کہ ابلاغ الفاظ اور جملوں کے بغیر بھی ممکن ہے، کیوںکہ اس کا عملی مظاہرہ میرے سامنے سات دن سے ہورہا تھا۔
آخر وہ آٹھویں دن بولے اور ان کا بولنا ایسے ہی لگا جیسے ایک ادھوری عمارت مکمل ہوگئی ہو۔ وہ بولے ’’بیٹا…یہ قبرستان دیکھو! یہاں کتنے لوگ دفن ہیں لیکن ان کو کوئی دکھ نہیں۔کوئی رکاوٹ اور کوئی مشکل اب ان کے راستے میں نہیں کھڑی۔ مسائل ،رکاوٹیں اور پریشانیاں تو صرف زندہ لوگوں کو پیش آتی ہیں اور یہی زندگی کی اصل قیمت ہوتی ہے۔ یہ رکاوٹیں بدل بدل کر آتی ہیں ،کبھی *تنقید* کرنے والوں کی شکل میں، کبھی *ناموافق حالات* کی شکل میں، کبھی اپنی نا اہلی اور کبھی دوسرے کی نالائقی کی شکل میں۔ کئی دفعہ یہ *حاسد* کے روپ میں بھی ظاہر ہوجاتی ہیں۔ کبھی *کسی کی ناسمجھی* راستے کی رکاوٹ بن جاتی ہے اور تو اور کبھی ہم خود ہی اپنے راستے کی رکاوٹ بنے ہوتے ہیں۔ بیٹا کبھی نہ بھولنا کہ *یہ سب بڑی منزل کے مسافر کے راستے کے امتحان ہیں*۔ یہی تو فیصلے کا وقت ہوتا ہے کہ *آپ بڑی منزل کے مسافر بننا چاہتے ہیں یا عام سی زندگی گزار کر جانا چاہتے ہیں۔‘‘*
باہر اندھیرا اور میرے اندر روشنی بڑھنے لگی۔ باباجی دوبارہ بولے ’’بیٹا درویش واصف علی واصف نے ہی تو کہا ہے کہ *بڑی منزلوں کے مسافر چھوٹے جھگڑوں میں نہیں پڑتے* اور نہ ہی دل چھوٹا رکھتے ہیں۔‘‘ باباجی دوبارہ خاموش ہوگئے تو مجھے اس وقت یہ علم ہوا کہ روح کی خوراک اور روح کا ہاضمہ کیا چیز ہے۔ وہ جملے جو آنکھوں کو نم کرتے ہیں وہ روح تک سرایت کرجاتے ہیں. خیال بدل دیتے ہیں اور خیال کا بدلنا آپ کے حال اور مستقبل کو بدل دیتا ہے۔
باباجی بولے ’’بیٹا آپ ڈاکٹر ہو یا انجینئر، ٹیچر ہو یا سٹوڈنٹ، آفیسر ہو یا ماتحت، بزنس میں ہو یا مزدور۔ آپ کچھ بھی ہو، روز قدرت آپ کو مسئلے مسائل بھیج کر آزماتی ہے کہ میرے بندے کی ہمت بڑی ہے یا مسئلہ؟ آپ اگر بڑی منزل کے مسافر ہو توآپ کو مسئلہ چھوٹا لگنے لگتا ہے اور چھوٹی منزل والے کی ہمت کم ہوتی ہے اس لیے مسئلہ اس کے لیے بہت بڑا ہوجاتا ہے‘‘۔
باباجی نے ایک سوال مجھے بھی داغ دیا کہ ’’یہ بتاؤ کہ قرآن پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا تذکرہ کیوں کیا گیا؟‘‘میں نے جواب دیا کیوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے اور یہ تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔ باباجی مسکرائے اور بولے اس واقعہ کو قرآن میں بیان کرنے کی اس لیے بھی ضرورت تھی کہ ہم میں سے ہر شخص کو روز یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی صف میں شامل ہیں یا فرعون کا ساتھ دے رہے ہیں۔کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بڑی منزل کے مسافر تھے اور اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کے ذریعے یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی کو چھوٹے چھوٹے جھگڑوں، مسئلے مسائل، لالچ، حسد اور نا امیدی کے نام نہ کردینا یہ زندگی بہت قیمتی ہے اسے کسی بڑی منزل اور بڑے مقصد کے ساتھ گزارنا۔
میرا تجسس اور بڑھ گیا اور میں نے سوال کیا کہ ’’باباجی بڑی منزل کے مسافر کی کچھ نشانیاں بتادیں؟‘‘ میرے سوال کو سن کر باباجی چند ساعتیں خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئے کہ *’’بیٹا بڑی منزل کے مسافر کی پانچ نشانیاں ہیں۔* در اصل یہ اشارے ہیں اور میں نے دنیا کی دس ہزار سال کی تاریخ میں جتنے بھی بڑے انسان اور بڑی منزل کے مسافر دیکھے ہیں ان میں یہ خوبیاں ضرور موجود تھیں۔‘‘ اس سے پہلے کہ باباجی یہ راز آشکار کرتے میں نے جیب سے کاغذ اور قلم نکال لیا اور باباجی نے بھی حکم دینے کے انداز میں بآواز بلند کہا ’’نوٹ کرلو‘‘۔
دنیا کے تمام بڑے انسان معاف کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر معافی مانگ لیتے ہیں اور دوسرے کی غلطی معاف کردیتے ہیں۔ در اصل معاف کرنا علامت ہے کہ آپ کوئی بہت اہم کام کرنے جا رہے ہو۔ وہ کام اتنا ضروری ہے کہ راستے میں آنے والے کی غلطی کو آپ نظر انداز کرکے آگے چل پڑے ہو۔ بڑے لوگ نہ بوجھ بنتے ہیں اور نہ غیر ضروری بوجھ اٹھاتے ہیں اور گلہ شکوہ ایک غیر ضروری بوجھ ہے۔
بڑی منزل کا مسافر دوسروں کے لیے جیتا ہے۔ اسے خبر ہوجاتی ہے کہ زندگی کے بعد بھی زندہ رہنے کا راز خدمت میں ہے۔ وہ سب کی خیر سوچتا ہے اس لیے قدرت اس کے نصیب میں خیر لکھ دیتی ہے۔
خوش اخلاق انسان ہی خوش قسمت انسان ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کسی خوش مزاج انسان کو اپنی قسمت پر نہیں رونا پڑا۔ دوسروں کو عزت دینے والا، نرمی اور پیار سے بات کرنے والا اور آسانیاں بانٹنے والا دراصل بڑی منزل کا مسافر ہوتا ہے۔
بڑی منزل کا مسافر سب میں رہتا ہے، سب میلے دیکھتا ہے، لیکن اس کی نظر اپنی آخری منزل پر ہوتی ہے۔ جناح سے کسی نے پوچھا کہ اگر آپ ہار گئے؟ جناح نے اعتماد سے جواب دیا کہ ’’اتناہی کافی ہوگا کہ روز قیامت میرا اللہ کہہ دے کہ جناح تم نے کمال کیا۔‘‘ آخری منزل پر نظر آپ کو چھوٹی موٹی ہار جیت سے نکال دیتی ہے۔
بڑی منزل کا مسافر اس کام کو تلاش کرلیتا ہے، جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اپنی شناخت کے بغیر کوئی انسان عظمت حاصل نہیں کرسکا۔ کامیابی کا سفر خودشناسی سے شروع ہوتا ہے اور خودشناسی کسی خودشناس سے شروع ہوتی ہے۔
باباجی خاموش ہوگئے اور میرا قلم بھی رک گیا۔ میں نے تھوڑا انتظار کیا کہ شاید مزید کچھ ارشاد فرمائیں، لیکن انھوں نے ہاتھ سے اٹھنے کا اشارہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ’’یہ باتیں تیرا حصہ تھیں…تیرا انتظار تو صرف سات دن کا تھا مگر میں نے سات سال تیرا انتظار کیا۔ اب چلا جا یہاں سے ‘‘میں اٹھا آنسوؤں کے ساتھ…یہ آنسو شکریہ اور سرشاری کے آنسو تھے۔ ساتھ ہی ساتھ اس عزم کے بھی کہ میں اب بڑی منزل کا مسافر بنوں گا۔













