انگریزی میڈیم ادارے تعلیمی درسگاہیں نہیں ہیں۔۔یہ تعلیم کے نام پر فحاشی اور عریانی کے اڈے ہیں!

پاکستان کے انتہائی مہنگے انگریزی میڈیم سکول میں ایک استاد کی طرف سے طالبات کو جنسی ہراسگی کا جو واقعہ پیش آیا ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ان انگریزی میڈیم اداروں نے پاکستان کو علم تو کایا دینا تھا انہوں نے پاکستان کی تہذیبی اقدار کی پامالی کردی۔ یہ ادارے مجرم ہیں پاکستانی طلباء کو اپنے مذہب ‘ تاریخ سے دور کرنے کے۔ ان اداروں نے ابتدائی سطح سے لے کر اعلی تعلیم تک مخلوط تعلیم کا تصور فروغ دیا۔ جب یہ ادارے بیکن ہاؤس’ ایل جی ایس’ لاکاس’ بلوم فیلڈ وغیرہ وجود میں نہیں ائے تھے تو پاکستان میں سکول و کالج کی سطح پر مخلوط تعلیم رواج نہیں پائئ تھی حالانکہ انگریزی میڈیم سکول تو پہلے بھی موجود تھے سینٹ انتھونی’ سیکرڈ ہارٹ’ ڈی پی ایس وغیرہ لیکن یہاں مخلوط تعلیم نہیں تھی۔ اس لئے یہاں کے طلباء بہرحال اپنی اقدار سے کسی حد تک شناسائی رکھتے تھے۔۔لیکن جب سے ایل جی ایس ‘ بیکن ہاؤس جیسے تعلیم کے نام پر تجارت کرنے والے ‘ حیاء باختہ ادارے وجود میں آئے انہوں نے تعلیم کے نام پر معاشرے میں عریانیت ‘ فحاشی’ مخلوط دوستی’ جنسی بے راہ روی کو فروغ دیا۔۔ اب ایل جی ایس سکول کی یہ تازہ واردات دیکھئے جہاں ایک مرد استاد طالبات کو جنسی پیغام اور فحش تصاویر بھیجتا تھا ۔۔۔بچیوں کو امتحان میں فیل کرنے کی دھمکی دے کر ان کو جنسی طور پر ہراساں کرتا تھا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس مہنگے سکول کا یہ سیکینڈل
بی بی سی جیسے روشن خیال ابلاغی ادارے سے نشر ہوا۔۔اگر یہ پاکستان کے کسی ادارے سے نشر ہوتا تو اب تک اس واقعے کی ” “سودے بازی” ہوچکی ہوتی۔
ورنہ ہمیں ذاتی طور سے ان سکولوں کے “کرتوت” تو بخوبی معلوم ہیں۔ لیکن سکولوں کے مالکان ہمیشہ “اقتدار حکومت” میں رہے اس لیے عوام الناس تک یہ واقعات نہ پہنچ سکیں۔ ہماری ایک دوست جو بلوم فیلڈ میں پڑھاتی تھی۔اس کو جماعت پنجم کے بچے نے “عشقیہ خط” لکھا!
اج سے کوئی بیس سال پہلے سلامت اکیڈمی کے ایک استاد نے بتایا کہ دوران تدریس ان کے کچھ طلباء موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ لیکن وہ طلباء کو کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ طلباء بہت امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ والدین نے سکول میں طلباء کو سزا دینے سے منع کیا ہے! یہ اس وقت کی بات ہے جب موبائل فون سننے پر بھی بل بنتا تھا!
مخلوط بیکن ہاؤس سکول کی ہشتم جماعت کی طالبہ اس تعلیمی ادارے کی اقدار کی زبوں حالی’ فحاشی ‘ عریانیت کی بھینٹ چڑھ کر حاملہ ہوگئ۔۔ماں مہنگے سکول میں بیٹی کی اس حرکت کی وجہ سے زندہ درگور ہوگئ۔ ان اداروں کے اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں۔۔ یہ ادارے ہماری نوجوان نسل کو ہماری تہذیب’ مذہب ‘ تاریخی ورثے سے دور کر رہےہیں!
ان اداروں نے مخلوط ناچ گانے’ عریاں و مختصر لباس کو فروغ دیا ہے۔۔ان اداروں کی پیدا کردہ اس عریانیت و فحاشی کے نمونے ہمیں جابجا معاشرے’ سڑکوں’ بازاروں’ میڈیا پر نظر آتا ہے۔۔
ورنہ یہی پاکستانی تعلیمی ادارے تھے جہاں طالبات کے لئے دوپٹہ ‘ چادر لازمی تھی۔۔کسی قسم کے بھی ناچ گانے کی اجازت نہیں تھی لیکن طلباء کی تفریح کے لئے کھیلوں’ تحریری’ تقریری پروگرام ہوتے تھے۔ ۔ ہمیں یاد ہے کہ ہمارے دور طالبعلمی میں ایک طالبہ نے بھارتی گانے پر رقص کیا پرنسپل صاحبہ کوخبر ہوئی تو انہوں نے فورا سے پیشتر طالبہ کو سکول سے خارج کردیا۔ باقی طالبات کو بھی اس سے تنبیہہ ہوگئ۔!
معزز اہل وطن! زبان صرف زبان نہیں ہوتی تہذیب کا دروازہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں انگریزی کے تسلط سے ہم زباں نہیں سیکھ رہے ہیں ۔۔ ویلنٹائن ڈے’ فادرز ڈے’
مدرز ڈے سب کچ مغربی تہذیب اور مغربی تعلیمی اداروں کی دین ہے۔۔ یورپ نے تمام علوم عربوں سے سیکھے لیکن اپنی تہذیب بچانے کے لئے عربی کو اپنی درس گاہ میں داخل نہ ہونے دیا۔۔
ہم لوگ زریعہ تعلیم کی وجہ سے اپنی تہذیب سے جڑے ہوئے تھے ۔۔جب ہم نے اپنی زبان کو چھوڑا تو اپنی تہذیب سے بھی دور ہوگئے۔۔ورنہ برصغیر میں انگریزی لادنے کا ” بانی” لارڈ میکالے نے خود تسلیم کیا ہے ” میں نے پورے برصغیر کا دورہ کیا۔ مجھے اتنی تہذیبی لحاظ سے اتنی زرخیز قوم پوری دنیامیں نہیں ملی۔ پورے ھندوستان میں ‘ میں نے ایک فقیر نہیں دیکھا۔ اس قوم کو پسماندہ کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔۔کہ یہاں پر انگریزی لاد دی جائے اس سے یہاں وہ غلام پیدا ہونگے جو رنگ و نسل میں ہندوستانی اور افکار میں برطانوی ہونگے”
یہ تھی وہ سوچ جو برصغیر میں انگریزی مسلط کرنے کا سبب بنی۔
اگر اپ اپنی نسلوں کی تہذیبی آبیاری چاہتے ہیں آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد آپ کے لئے صدقہ جاریہ بنے’ اپ کا ملک ترقی خوشحالی کی طرف گامزن ہو تو پاکستان میں ہر سطح پر نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پاکستان قومی زبان تحریک کے ہم اواز بن جائیں!
فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک