انگ ریزی کے بارے میں نوجوانوں میں پائی جانے والی کچھ غلط فہمیاں!
(پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)

1۔ انگ ریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔
یہ ہر گز بھی پاکستان کی سرکاری زبان نہیں ہے۔ 1973 کے ائین کی شق 251 پڑھیں۔
آئین پاکستان کی شق :251
251. National language.
(1) The National language of Pakistan is Urdu, and arrangements shall be made for its being used for official and other purposes within fifteen years from the commencing day.
(2) Subject to clause (1), the English language may be used for official purposes until arrangements are made for its replacement by Urdu.
(3) Without prejudice to the status of the National language, a Provincial Assembly may by law prescribe measures for the teaching, promotion and use of a Provincial language in addition to the National language.

(ترجمہ)
آئین پاکستان کی شق 251
251. قومی زبان.
(1) پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، اور اسے سرکاری و دیگر مقاصد کی خاطر استعمال کرنے کے لئے (آئین کے) اجرا کے پندرہ سال کے اندر اندر انتظامات کئے جائیں۔
(2) شق (1) کو مد نظر رکھتے ہوئے انگریزی کو سرکاری مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے تا آنکہ اس کو اردو کے ذریعے بدل دینے کے انتظامات کئے جائیں۔
(3) قومی زبان سے کوئی تعصب برتے بغیر ایک صوبائی اسمبلی قانون سازی کے ذریعے قومی زبان کے ساتھ ساتھ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، فروغ اور استعمال کے لئے اقدامات تجویز کر سکتی ہے۔

اس شق میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس آئین کے اجرا کے پندرہ سال کے اندر اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ اس دوران انگریزی سے ایک متبادل زبان کے طور پر کام چلایا جائے گا اور اس مدت کے بعد جہاں جہاں انگ ریزی ہے اس کو بے دخل کر کے اردو کو نافذ کر دیا جائے گا۔ 1988ء کے بعد اس زبان کے پاکستان پر مسلط رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ تاہم اگر کوئی جواز تھا بھی تو وہ 8 ستمبر 2015ء کے عدالت عظمیٰ کے فیصلےکے بعد کلی طور پر ختم ہو چکا ہے۔اس وقت پاکستان پر اس زبان کا تسلط ناجائز، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ پاکستان کے لئے یہ زبان متروک، مردود اور کالعدم حیثیت رکھتی ہے۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے نکات 19 اور 20
عدالت عظمی’ پاکستان کے 8 ستمبر 2015ء کے فیصلے کے نکات نمبر19 اور 20 پیش خدمت ہیں۔

یہ فیصلہ پاکستان میں اس کی زبان یعنی اردو کے نفاذ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا فیصلہ بھی تھا۔ اس وقت کے عاقبت نااندیش حکمران اس فیصلے کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنے سے قاصر رہے، نتیجہ یہ کہ پاکستان کی برق رفتار ترقی کا وہ سفر ابھی تک شروع نہیں ہو سکا جو اس فیصلے کے نتیجے میں شروع ہونا تھا۔

اب آپ متعلقہ شقوں کا مطالعہ فرمائیے
عدالت عظمی’ پاکستان کے 8 ستمبر 2015ء کے فیصلے کی
شق نمبر 19
(آئین کے) آرٹیکل 5 اور آرٹیکل 251 میں بیان کئے گئے احکامات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اور ان کے نفاذ میں یکے بعد دیگرے کئی حکومتوں کی بے عملی کو سامنے رکھتے ہوئے، ہمارے سامنے سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ ہم مندرجہ ذیل ہدایات اور حکم جاری کریں۔
1۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر اور پوری طاقت سے فورا” نافذ کریں۔
2۔ اس آرٹیکل کے نفاذ کے اقدامات کے لئے جو معیاد مذکورہ بالا مراسلہ ((مورخہ 6 جولائی 2015، (یہ مراسلہ نفاذ اردو کے ضمن میں وفاقی حکومت نے جاری کیا۔ س ہ)ٗ میں، خود حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی ہے، اس کی ہر صورت پابندی کی جائے۔
3۔ قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔
4۔ تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کر لیا جائے۔
5۔ بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باہمی روابط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس آرٹیکل کا نفاذ یقینی بنائیں۔
6۔ وفاقی سطح پر مقابلہ کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی اداروں کی مندرجہ بالا سفارشات پر بلا تاخیر عمل کیا جائے۔
7۔ ان عدالتی فیصلوں کا جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں یا جو آرٹیکل 189 کے تحت اصول قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازما” اردو میں ترجمہ کروایا جائے۔
8۔ عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتی الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ وہ موثر طریقے سے اپنے قانونی حقوق نافؔذ کروا سکیں۔
9۔ اس فیصلے کے اجراء کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔
شق نمبر 20
اس فیصلے کی نقل تمام وفاقی اور صوبائی معتمدین کو بھیجی جائے تاکہ وہ آرٹیکل 5 کی روشنی میں آرٹیکل 251 پر عمل درآمد کے لئے فوری اقدام اٹھائیں۔ وفاق اور صبوں کی جانب سے اس ہدایت پر عمل درآمد کی پہلی رپورٹ تین ماہ کے اندر تیار کر کے عدالت میں پیش کی جائے۔
اس وقت پاکستان میں انگ ریزی کے ذریعے جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے وہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ اول تو عدالتوں کو اس صورت حال کا از خود نوٹس لے کر اس زبان کے تسلط کو کالعدم قرار دینا چاہئے تاہم اگر وہ ایسا نہیں کر رہیں تو کوئی بھی پاکستانی اس کے خلاف درخواست دے کر اس کو ختم کرنے کی استدعا کر سکتا ہے۔
2۔ یہ بین الاقوامی زبان ہے۔
انگ ریزی زبان کی کوئی منفرد بین الاقوامی حیثیت نہیں ہے۔ پورے یورپ میں یہ برطانیہ کے سوا کہیں نہیں ہے ۔ یہ یورپی یونین کی زبان نہیں ہے۔ پورے ایشیا میں یہ کسی ملک میں عام بول چال کی زبان نہیں ہے۔ براعظم جنوبی امریکہ میں یہ کہیں نہیں ہے۔شمالی امریکہ میں آدھے کینیڈا میں یہ زبان نہیں ہے۔ انگ ریزی نہ بولنے والے ملکوں میں پوری دنیا میں پاکستان کے علاوہ کسی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں؛ کہیں ایسا نہیں ہے کہ وہاں پر اپنی زبان کو ترک یا محدود کر کے انگ ریزی کو اپنایا گیا ہو۔پاکستان کی طرح افریقہ کے چند ممالک میں جو کسی زمانے میں غلاموں کی منڈیا ںہوتے تھے انگ ریزی یا کوئی دوسری غیر ملکی زبان مسلط ہے۔ وہاں بھی پاکستان کی طرح جہالت، ناخواندگی، غربت، بے روزگاری، بد عنوانی اور بدانتظامی ہر حد کو عبور کئے ہوئے ہے۔ جب آپ اپنی تہذیب و معاشرت اور زبان کو چھوڑتے ہیں تو دراصل آپ فراڈ، دھوکہ دہی اور نوسربازی کے راستے پر چل پڑتے ہیں جس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ان ملکوں میں نکل رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی چھے سرکاری زبانیں ہیں جن میں سے ایک انگ ریزی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اردو جو دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے اقوام متحدہ کی زبان کیوں نہیں ہے، اس کا جواب ہمارے حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی ہے، وہ اگر اردو کو بروقت پاکستان کی زبان کے طور پر نافذ کر دیتے تو آج اردو نہ صرف اقوام متحدہ اور سارک ممالک کی سرکاری زبان ہوتی بلکہ یہ دنیا میں رابطے کی سب سے بڑی زبان بھی ہوتی۔
دنیا کا ہر ملک اپنے معاملات کے لئے، بین الاقوامی تعلقات کے لئے اپنی زبان استعمال کرتا ہے۔ جہاں دو مختلف زبانیں بولنے والے ملکوں کی بات ہوتی ہے وہ گفتگو کے لئے ترجمانوں کا سہارا لیتے ہیں اور جہاں تک دستاویزات کی بات ہے وہ اپنی اپنی زبانوں میں لکھ کر اس کا ترجمہ دوسری زبان میں کرتے ہیں۔ دو انگ ریزی نہ بولنے والے ملکوں کا معاہدہ انگ ریزی میں لکھا جائے ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔ اس قسم کے طرز عمل کو ہر ملک اپنی توہین سمجھتا ہے؛ اس کا ارتکاب نہیں کرتا۔ حال ہی میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں طالبان نے اس معاہدے کو افغانی میں تحریر کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ جو فہم اور ابلاغ اپنی زبان میں ہوتا ہے وہ کسی دوسری زبان میں ممکن ہی نہیں ہے۔
اگر ہم یہ تصور کر ہی لیں کہ انگ ریزی کوئی بین الاقوامی زبان ہے تو اسے بین الاقوامی معاملات میں استعمال کیا جائے، وہ لوگ سیکھیں جنہوں نے بین الاقوامی معاملات طے کرنے ہیں ۔اس زبان کو پہلے لازمی مضمون کی حیثیت دے کر اور اب ذریعہ تعلیم بنا کر پوری قوم کو جاہل کیوں بنایا جا رہا ہے، کیوں علم سے محروم رکھا جا رہا ہے؟ اس نام نہاد بین الاقوامی زبان کا پاکستان کے اندر کیا کام ہے؟ ایک عام طالب علم، دکان دار یا سرکاری ملازم نے اس زبان کو کیا کرنا ہے، اس سے کون سا کام لینا ہے۔
انگ ریزی کا تعلیم پر تسلط ختم کر دیا جائے مجھے یقین کامل ہے کہ پوری پوری زندگی گزر جائے گی ہمیں اس زبان کا ایک لفظ بھی بولنے یا لکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جب ہم اردو میں یا اپنی علاقائی زبان میں سب کچھ کہہ سکتے ہیں تو ہمیں اس زبان کی کیا ضرورت ہوگی۔ہم اپنی روزمرہ زندگی میں، خط کتابت میں، علم حاصل کرنے میں روسی، فرانسیسی، جرمن، ہسپانوی، ولندیزی، چینی، جاپانی یا ترکی کا کتنا استعمال کرتے ہیں، اگر ان زبانوں کا ایک لفظ بھی جانے بغیر زندگی بسر ہو سکتی ہے تو انگ ریزی کے بغیر بھی زندگی بسر ہو سکتی ہے، بہت بہتر بسر ہو سکتی ہے۔
دنیا کی ہر فلم اردو میں ڈب ہو کر آ رہی ہے، ہر ناول، کہانی کی ہر کتاب اردو میں ترجمہ ہو کر مل رہی ہے۔ تعلیم کے لئے ہم نے ہر طالب علم کو ترجمان بنایا ہوا ہے۔ کیا یہ صریح ظلم نہیں کہ ایک بچہ جس کو اس زبان پر کسی قسم کی کوئی قدرت حاصل نہیں ہے اس کو اس زبان کا ترجمان بنایا ہوا ہے۔
3۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان ہے۔
اس سے بڑا جھوٹ بولنا شاید ممکن ہی نہیں ہے۔ دنیا کی ہر زبان سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان ہے۔ دنیا کا ہر ملک (سوائے پاکستان کے) سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ دنیا کا ہر ملک اپنی اپنی زبان میں ابتدا سے انتہا تک تمام تعلیم دے رہا ہے۔ کسی ملک میں یہ تصور ہی نہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم اپنی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں دی جا سکتی ہے۔ آپ ملکوں کے نام لیتے جائیں (امریکہ، برطانیہ، روس، جرمنی، جاپان، چین، ترکی، ایران، فرانس، سپین، فن لینڈ، یوکرائن، چیک، سلوواک، ہنگری، بلغاریہ، سویڈن، ڈنمارک، ناروے، کوریا، ویت نام، کمبوڈیا، برما، تھائی لینڈ، سربیا، بونیا، یونان، پرتگال، انڈونیشیا، ملائیشیاوغیرہ) آپ دیکھیں گے کہ ہر ملک اپنی اپنی زبان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم بشمول راکٹ سائنس دے رہا ہے۔ جہاں تک یہ خیال ہے کہ ہمارے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ساری کتابیں برطانیہ یا امریکہ سے آتی ہیں اور وہ انگ ریزی میں چھپی ہوتی ہیں اس لئے ہمیں انگ ریزی کی ضرورت ہے، یہ ایک انتہائی احمقانہ بات ہے۔ جو کام چند ہزار ترجمانوں کا ہے کہ وہ ان کتابوں کا اردو میں ترجمہ کر دیں اس پر ہم نے اپنی پوری نوجوان نسل کو لگایا ہوا ہے۔ وہ ترجمہ تو نہیں کر سکتے رٹا لگا کران کتابوں کا کچھ حصہ یاد کر لیتے ہیں۔ اس طرح علم ان تک کبھی نہیں پہنچتا جو پاکستان کا اصل المیہ ہے۔ اگر ترجمان کتابوں کا ترجمہ کریں، طلبا کو اردو میں چھپی کتابیں ملیں تو پھر وہ ان کتابوں کی مدد سے علم حاصل کریں گے صرف رٹا نہیں لگائیں گے۔ اس کے بعد پاکستان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جہاں پہنچے گا کیا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
اگر ہم 73 سال بعد چند ہزار ترجمانوں کا بندوبست نہیں کر سکتے، اس کام کو بہت مشکل سمجھتے ہیں تو پھر اس ملک کا ترقی کرنا، خوشحال ہونا ناممکن ہے، دائمی غلامی بھی ہم سے کوئی زیادہ دور نہیں ہے، کیا آپ کو بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کا کچھ علم ہے، ہماری حالت ان سے بھی ابتر ہوگی وہ تو پیدا ہی غلامی میں ہوئے ہیں جو آزاد ہو کر اپنی آزادی کا تحفظ نہ کر سکے ان کا جو حشرہوگا میں تو تصور کر سکتا ہوں کیا آپ میں اتنی اہلیت ہے؟
4۔ پاکستان پراس زبان کے تسلط کے ذریعے ترقی کی جا سکتی ہے۔
یہ ایک ناممکن بات ہے۔ لنڈے کے کپڑے پہن کر آدمی کا خود کو معزز سمجھنا ناممکن ہے، لنڈے کی زبان اوڑھ کر کیا خاک ترقی ہوگی۔ معاملہ یہ ہے کہ کیا ہم 22 کروڑ لوگوں کی زبان بدل سکتے ہیں، کیا وہ امریکہ اور برطانیہ میں رہنے والوں کی طرح فر فر انگ ریزی بول سکتے ہیں، روزمرہ گفتگو میں، بازاروں میں، منڈیوں میں، گھروں میں۔ اچھا کیا انگ ریزی بولنے کی صلاحیت رکھنا ہی ترقی ہے، اگر ایسا معاملہ ہے تو نائیجیریا، کینیا، فلپائن، یوگنڈا ترقی یافتہ کیوں نہیں سمجھے جاتے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک جدید ترین اور ترقی یافتہ ترین زبان کے ہوتے جو ہم سب کی زبان ہے جس میں ہم دنیا جہاں کا علم سمیٹے ہوئے ہیں جو ابلاغ کے ہر تقاضے کو پورا کرتی ہے ہمیں کسی دوسری زبان کو اپنانے کی کیا ضرورت ہے۔ کوئی ان وزرائے تعلیم سے حکمرانوں سے پوچھے تو سہی، ان کا راستہ روک کر پوچھے کہ جب ہماری زبان اردو ہے تو یہ تعلیم کی زبان کیوں نہیں۔ انگ ریزی کس پاکستانی کی زبان ہے، یہ آپ نے ہمارے اوپر ،ہمارے نوجوانوں کے اوپر کیوں مسلط کی ہوئی ہے۔ آخر آپ کے پاس کیا جواز ہے کہ آپ پاکستان کے عوام کو ان کی زبان کو، آئین کو، عدالت عظمیٰ کے حکم کو روندتے چلے جائیں، آپ کیا سوچ اور سمجھ کر یہ سب کر رہے ہیں اور ان کو اس وقت تک جانے نہ دیا جائے جب تک وہ اعتراف نہ کر لیں کہ یہ ان کی غلط سوچ ہے اور پاکستان پر انگ ریزی کا جبری تسلط ایک احمقانہ اور ظالمانہ قدم ہے اور یہ کہ وہ جلد از جلد اس زبان سے پاکستان کو نجات دلائیں گے۔ ان کو دو چار بار اس طرح روکا جائے مجھے یقین ہے کہ انگ ریزی کا ناپاک سایہ اس ملک سے چھٹتے دیر نہیں لگے گی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہوگی کہ وہ انگ ریزی کو اس ملک سے نکالنے کا خود کو ذمہ دار قرار دیں گے۔
اب تک جس نے اس ملک پر انگ ریزی مسلط کی ہوئی ہے اس کااس ملک، اس کے عوام اور ان کے مسائل کے حل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک مجرمانہ طرز عمل ہے جو اس ملک میں اختیار کیا گیا ہے۔ جو بین الاقوامی ادارے ہمارے حکمرانوں اور اداروں کوانگ ریزی مسلط کرنے کے لئے فنڈ دے رہے ہیں ان سے پوچھیں تو سہی آپ ہمیں یہ فنڈ انگریزی مسلط کرنے کے لئے کیوں دے رہے ہیں؟ خود میں ان کو انکار کرنے کی ہمت پیدا کریں۔
5۔ ہم انگ ریزی سیکھ کر ان ملکوں کا مقابلہ کریں گے۔
یہ اس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ اس پر سوائے ہنسنے کے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ملازم اپنے مالک کی بولی بولے، اس کی اترن پہنے، اس کا پور پور اس کے دیے قرضوں میں ڈوبا ہو اور وہ یہ دعویٰ کرے کہ میں یہ جو قرض لے رہا ہوں، میں یہ جو اترن پہن رہا ہوں، میں یہ جو اس کا دیا کھا رہا ہوں تو میں اس کا مقابلہ کروں گا۔ اس پر ہنسنے کے سو ا کیا کیا جا سکتا ہے۔ کبھی بھٹہ مزدوروں کو دیکھا ہے۔ وہ نسل در نسل اپنے مالکوں کے غلام ہوتے ہیں اور یہ حال کئی اور شعبوں میں بھی ہے۔ علم ان کا، کتابیں ان کی، ملازمتیں ان کی، ہمارا خواب زیادہ سے زیادہ ان میں سے کسی ملک کی شہریت لینے کا اوردعویٰ ان سے مقابلے کا۔ تین سال پہلے ایک صاحب کو آسٹریلیا کی شہریت ملی، انہوں نے فیس بک پر اس خبر کو خوب خوب پھیلایا، خوب جشن منایا، گویا کوئی زندگی بھر کا خواب تھا جو پورا ہوا، انہوں نے لکھا بھی کہ مجھے اس کو حاصل کرنے میں بیس سال لگے۔ تو یہ مقابلہ ہے جو ہم پاکستانی انگ ریزی سیکھ کر ان کا کر رہے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ وہ انگ ریزی کے ذریعے دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ایک مولانا بھی دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے تھے۔ ہر سال یورپ دعوت و تبلیغ کے لئے جاتے تھے، ان کی دعوت و تبلیغ کے نتیجے میں دو یورپی دوشیزائیں ان کے نکاح میں آگئیں یہ ان کا مقابلہ تھا۔ تو ہم انگ ریزی کے ذریعے ان کا مقابلہ کریں گے۔ ہنسنے کی اور بھی باتیں ہیں مگر یہ سب سے پر لطف بات ہے۔ ابھی بہت ہنسی آرہی ہے سنجیدہ بات پھر کبھی کر لیں گے۔
6۔ اردو کا نفاذ علاقائی زبانوں کو کچل کر رکھ دے گا۔
آئین پاکستان کی شق 251 کی ذیلی شق 3 پڑھیں۔
“(3) قومی زبان سے کوئی تعصب برتے بغیر ایک صوبائی اسمبلی قانون سازی کے ذریعے قومی زبان کے ساتھ ساتھ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، فروغ اور استعمال کے لئے اقدامات تجویز کر سکتی ہے”۔
اردو اور علاقائی زبانوں میں کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ اگر 1973 کے آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاتا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا، آج بھی اس پر عمل کیا جائے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ علاقائی زبانیں اپنے اپنے علاقوں تک محدود ہیں، اردو پورے پاکستان کی زبان ہے، ہر پاکستانی کی زبان ہے۔ اس کو کسی لسانی گروہ سے منسلک کرنا بد دیانتی اور بدمعاشی کے سوا کچھ نہیں۔ پھر یہ کہ ہر علاقائی زبان کے اتنے زیادہ الفاظ اردو میں ضم ہو چکے ہیں کہ کسی بھی پاکستانی کو اردو سیکھتے ہوئے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پھر یہ کہ چند حروف اور ان کی آوازوں کے سوا ان سب زبانوں میں حروف تہجی ایک جیسے ہیں، سب زبانیں دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی چینلز ، اخبارات اور سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اردو ہر پاکستانی تک دن رات پہنچ رہی ہے۔ دور افتادہ دیہات، گوٹھوں، ڈھوکوں، گلی کوچوں اور حجروں میں بھی اردو بآسانی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ دو پاکستانیوں کے درمیان اردو بہتریں رابطے کی زبان ہے۔ انگ ریزی کا معاملہ اردو سے بالکل مختلف ہے، اس کے حروف تہجی، آوازیں سب کچھ اردو اور پاکستان کی علاقائی زبانوں سے مختلف ہے، پھر یہ بائیں سے دائیں کو لکھی جاتی ہے، انگ ریزی کی وجہ سے انگ ریزی میڈیم کے بچوں سے اردو بھی دور ہوتی جا رہی ہے، علاقائی زبانیں تو وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
1973 کے آئین کی شق 251 کی ذیلی شق 3 پر پوری نیک نیتی سے عمل کیا جائے تو اردو کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کو بھی فروغ ملے گا، یہ بھی پھلیں پھولیں گی، انگ ریزی کی موجودگی میں تو پاکستان کے ساتھ اس کی سب زبانیں خطرات سے دوچار ہیں۔
7۔ انگ ریزی تہذیب و ثقافت کی زبان ہے۔
اس سوچ سے گھٹیا کوئی سوچ نہیں ہو سکتی۔ یہ سوچ سوچ کرہمیں چاہئے کہ ہم ترقی کرنے کا، دنیا سے آگے نکلنے کا، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا ہر خواب ترک کر دیں۔ کوئی خود کو خود ہی کم تر سمجھ لے، کسی اور کو خود سے برتر سمجھ لے، اس کی تہذیب و ثقافت کو بہتر سمجھ لے وہ دنیا میں زندہ رہنے کا حق کھو دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں دنیا کی ہر چیزسے زیادہ ہمیں اپنا عقیدہ عزیز ہے۔ یہ سوچ آگے چل کر ہمیں ہمارے عقیدے سے کاٹ دیتی ہے۔ مشنری اسکول کچھ نہیں کر رہے مگر ہمارے معاشرے میں الحاد، لبرلزم، سیکولر ازم اور اس قسم کی ہر سوچ کے پیچھے ان لوگوں کا ہاتھ ہے جو ان اداروں سے پڑھے ہوئے ہیں جب ان کو سمجھا دیا گیا کہ ان کی تہذیب اور ثقافت تمہاری تہذیب و ثقافت سے بہتر ہے تو باقی کام تو خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ریڈ انڈینز کو پہلے کھدیڑا گیا، ان کی بستیاں جلائی گئیں، ان کا قتل عام کیا گیا اور پھر جو رہ گئے ان کو باور کروا دیا گیا کہ ہماری تہذیب و ثقافت تمہاری تہذیب و ثقافت سے بہتر ہے ان کو پہلے جسمانی اور پھر ذہنی غلام بنا لیا گیا۔ وہ افریقی جو افریقہ سے پکڑ کر لائے گئے ان کو بھی ان کی تہذیب و ثقافت سے الگ کیا گیا، غلام بنایا گیا، پہلے جسمانی اور پھر ذہنی، اسی لئے برطانیہ کے بعد اگر کہیں انگ ریزی ہے تو وہ ان افریقی ممالک میں ہے۔ آسٹریلیا میں یہی کام ایب اوریجنز سے کیا گیا۔ لاطینی امریکی ممالک میں وہاں کے مقامی باشندوں کے ساتھ یہی سلوک پرتگالی اور اسپینی حملہ آوروں نے کیا، انہوں نے مفتوح قوموں کے ساتھ وہ سفاکانہ اور وحشیانہ برتاؤ کیا کہ آج ان کی تہذیب و ثقافت اور زبان کا کہیں نام و نشان تک نہیں ملتا۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اپنے ملک میں ہم خود اپنے ہاتھوں اپنی تہذیب و ثقافت اور زبان کا گلا گھونٹ رہے ہیں، خود کو خود ہی کم تر قرار دے رہے ہیں، غیر ملکی تہذیب کی نقالی کر کے خود کو ترقی یافتہ اور جدید سمجھ رہے ہیں۔ پاکستان میں کتنے ہی بڈھے تھے جو انگ ریز کی تعریف کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ ان کا دور آج سے بہتر تھا۔ (ان میں سے زیادہ تر مرکھپ چکے ہیں، مگر آج بھی اگر کوئی غلام بڈھا مل جائے تو وہ یہ بتانے میں دیر نہیں کرتا- مصیبت یہ ہے کہ ان لوگوں کو آزادی کا پتا ہی نہیں چلنے دیا گیا، نہ انہوں نے خود کبھی آزاد ہونے کی کوشش کی)۔ مبارک علی سمیت کتنے تاریخ دان(؟) ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ انگ ریز اس لئے برصغیر پر قابض ہوئے کہ ان کی تہذیب و ثقافت ہم سے بہتر تھی۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ وہ چنگیزیت میں، ہلاکت آفرینی میں اور انسانوں کی بے حرمتی میں ہم سے آگے تھے۔ وہ مکر و فریب اور دھوکہ دہی کے ہتھیاروں سے لیس تھے۔ وہ قتل و غارت گری اور خون آشامی میں دنیا کی ہر قوم سے بڑھ کر تھے۔ وہ ان کے برصغیر کے مختلف علاقوں پر قبضے کی داستانیں کیوں نہیں سنا،تے کیوں نہیں بتاتے کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد دلی کو ایک مقتل میں بدل دیا گیا۔
بس کہ فعال لما یرید ہے آج
ہر سلحشوراینگلستاں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر نمونہ بنا ہے زنداں کا
(غالب)
فعال لما یرید: جو جی میں آئے کرے
سلحشور: سپاہی/فوجی
اینگلستاں: انگلینڈ (برطانیہ)
ہماری تہذیب برتر ہے، ہم بہتر ہیں، ہم دنیا کو علم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم دنیا کو تہذیب و ثقافت سے آشنا کریں گے، یہ سوچ ہے تو ہم زندہ ہیں زندہ رہیں گےورنہ وہ وقت بہت نزدیک ہے جب آپ کی گود میں آپ کا پوتا یا نواسا ہوگا اور وہ مسلمان نہیں ہوگا۔
8۔ انگ ریزی سیکھ کر ہمیں بہتر ملازمت مل سکتی ہے۔
یہ بھی ایک ایسی غلط بات ہے جیسی غلط اور باتیں ہیں۔ حکومت پاکستان نے آپ کو ملازمت دینی ہے، وہ کیوں آپ سے انگ ریزی میں مہارت کا تقاضا کر رہی ہے۔پاکستان میں پاکستانیوں سے رابطہ کرنے کے لئے کسی غیر ملکی زبان کی کیا ضرورت ہے؟ پاکستانیوں سے اردو میں یا علاقائی زبانوں میں بات چیت، خط کتابت کی جائے، کام چلتا رہے گا۔
کتنے سرکاری ملازم ہیں جن کو اپنی ساری مدت ملازمت میں کسی برطانوی یا امریکی سے رابطہ کرنے کی ضرورت پڑے۔ پھر یہ ہے کہ اگر وہ اردو بولنے کو تیار نہیں تو ہم انگ ریزی کیوں سیکھیں، درمیان میں ایک ترجمان کو کیوں نہ ڈالیں جو ہمارے درمیان ترجمانی کا کام کرے۔ ہمارے کھلاڑی انگ ریزی کیوں بولنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ کسی دوسرے ملک کا کھلاڑی اردو میں بات کرنے کا سوچتا تک نہیں۔ یہ اپنی گفتگو، بیان سب اردو میں دیں جب کسی کو ان کے خیالات سے آگاہی کی ضرورت ہوگی تو وہ خود ترجمہ کر لے گا، انہیں اتنا گرنے کی کیا ضرورت ہے کہ اپنی گفتگو میں مسلسل غلط سلط انگ ریزی بولیں وہ جو میدان میں جھنڈے گاڑ کر آیا ہوتا ہے، میچ جیت کر، سو رنز بنا کر، بارہ وکٹیں لے کر غیر ملکی زبان میں گفتگو کرنے کے چکر میں کلین بولڈ ہو جاتا ہے۔
جہاں تک غیر ملکی یا کثیر القومی کمپنیوں کی بات ہے جب پاکستان میں ہر جگہ اردو کا چلن ہوگا تو وہ اردو میں ہی سارا کام کریں گے، کیا ساری کثیر القومی کمپنیوں کی تشہیری مہم اردو میں نہیں چلائی جا رہی۔ جس نے پاکستان میں کاروبار کرنا ہے جانتا ہے کہ یہاں کس زبان میں کام چلے گا۔ زبانیں لادنے کا کسی کو شوق نہیں ہوتا۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان میں طباعت و اشاعت کے لحاظ سے اردو میں بہترین کتابیں چھاپ رہا ہے۔
جہاں تک دوسرے ملکوں میں ملازمت کا تعلق ہے، حکمرانوں سے پوچھا جانا چاہئے کہ جب پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ ہے تو یہاں پر بائیس کروڑ لوگوں کے لئے وسائل ہونا چاہئے، جب آپ دیانت داری سے بائیس کروڑ لوگوں کے لئے وسائل مہیا کریں گے تو یہاں کوئی بے روزگار نہیں رہے گا۔ ہمارے ملک کے معیشت دانوں کو اس ملک کے معاشی مسائل اور ان کے حل کی سمجھ ہی نہیں ہے۔ وہ بیرون ملک سے صرف ڈگریاں لاتے ہیں ان کے پاس علم نہیں ہوتا، علم ہو تو پاکستان کا وہ حال ہو جو ہے۔ پاکستان کے وسائل کو درست طور پر استعمال کیا جائے تو یہاں کوئی آدمی بے روزگار نہیں رہے گا۔ جتنے وزیر ہیں، جتنے بیوروکریٹ ہیں، جتنے فوجی افسر ہیں کیا کسی کا کوئی بیٹا یا بیٹی بے روزگار ہے اگر نہیں ہے اور یقینا” نہیں ہے تو پھر پوچھنا چاہئے کہ ہمارے بیٹوں بیٹیوں کے نصیب میں بے روزگاری کی آگ میں جلنا کیوں ہے، جب ہم روزگار مانگتے ہیں تو تم ہمیں بیرون ملک جانے کا راستہ دکھا دیتے ہو، تم اور تمہاری اولادیں اس ملک میں کیوں ہیں، تم اس ملک کے مسائل حل نہیں کر سکتے، تم اس ملک کے نوجوانوں کو روز گار نہیں دے سکتے تو تمہیں اس ملک سے جانا چاہئے نا کہ ہمیں۔
پاکستان سے لوگ تعلیم حاصل کرنے باہر جا رہے ہیں، پاکستان سے لوگ ملازمتوں کے لئے باہر جا رہے ہیں (بڑے رنج اور دکھ کے ساتھ شکوہ بھرے انداز میں کہتے ہیں سعودی عرب کے باشندے ہماری عزت نہیں کرتے، وہ کیوں تمہاری عزت کریں، تم کس قابل ہو کہ وہ تمہاری عزت کریں، یہ جو سڑکوں سے کوڑا چنتے ہیں، یہ جو بھیک مانگتے ہیں، کیا تمہارے نزدیک ان کی کوئی عزت ہے، کیا ان لوگوں کے نزدیک تمہاری کوئی عزت ہے؟)۔
پاکستان سے لوگ علاج کے لئے باہر جاتے ہیں، لوگ کیوں علاج کے لئے باہر جاتے ہیں؟ ہمارے پاس اتنی شاندار اور اہل علم سے بھری ہوئی درسگاہیں کیوں نہیں جہاں ہمارے سارے نوجوان علم حاصل کر سکیں، ہمارے پاس اتنے اچھے اور اتنے زیادہ ہسپتال کیوں نہیں جہاں ہمارے سب لوگوں کا علاج ہو سکے، ہمارے پاس اتنے ادارے کیوں نہیں جہاں سب لوگوں کو ملازمت مل سکے۔ جتنے وسائل بیرون ملک تعلیم پر، علاج پر ہر سال لٹائے جاتے ہیں ان میں ہزاروں یونیورسٹیاں اور ہسپتال بن سکتے ہیں مگر یہ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں جنہوں نے انگ ریزی کو امرت دھارا سمجھ کر ہمارے اوپر مسلط کیا ہوا ہے۔ ہاں یہ امرت دھارا ہی ہے ہمارے حکمرانوں اور ان کے اقتدار کے تسلسل کے لئے۔ کوئی نہیں بولتا کوئی نہیں بولتا کسی میں اتنی سوچ ہی نہیں رہ گئی، کوئی ادراک ہی نہیں کر سکتا۔ اور جب میرے جیسا کوئی بات کرتا ہے تو وہ باتیں شروع کر دی جاتی ہیں جن کا میں جواب دے رہا ہوں۔ کوئی سوچے کہ غلامی کے حق میں غلامی کے تسلسل کے لئے، غلام رہنے کے لئے کیسی کیسی دلیلیں نوجوانوں کے ذہنوں میں ڈالی جاتی ہیں ان کو ان کے مسائل سے ، ان کے حل سےکیسے بے خبر کیا جاتا ہے۔
مجھے بتائیں کیا پاکستان کے ہر فرد کو علاج کی سہولت میسر ہے، یقینا” جواب نفی میں ہوگا۔ اگر نہیں تو یہاں ہسپتا ل کیوں نہیں بنائے جاتے، یہاں سے ڈاکٹر بیرون ملک کیوں فرار ہو رہے ہیں۔ وہ اپنی بلٹ پروف گاڑیوں، گھروں اور دفتروں کی تزئین و آرائش، کچن کے اخراجات، بیرون ملک دوروں اور علاج پر اربوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، اپنے مشاہروں میں سو فیصد سے چار سو فیصد اضافہ بیک جنبش قلم کر لیتے ہیں وہ آپ کو روز گار کیوں نہیں دیتے، آپ کو تعلیم کیوں نہیں دیتے، آپ کو آپ کے گھر کے نزدیک بہترین علاج کی سہولت کیوں نہیں دیتے۔
مانو یا نہ مانو تم سب سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہو۔
انگ ریزی کے ذریعے دولے شاہ کے چوہے پیدا کرنے کا اس قدر بڑے پیمانے پر تجربہ دنیا میں آج تک نہیں کیا گیا۔ تم پر انتہائی کامیابی سے کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر محمد سلیم ہاشمی