*پاکستانی افواج کا سب سے مہنگا اور مہلک سکواڈ*
کسی بھی ملک کے لیے اپنی سپیشل فورس تشکیل دینا اور انکو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک وقت لیوا اور عام فورسز کی نسبت کافی مہنگا کام ہے۔
لیکن سپیشل سروس گروپ سے بھی زیادہ مہنگا کام “سنائپر دستہ” تشکیل دینا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر پاکستان کی لانگ رینج سنائپر ایم-82 بیرٹ کی فی عدد مارکیٹ قیمت کم ازکم 87 لاکھ روپے ہے۔
دنیا میں بہت کم ممالک سنائپرز کے لیے الگ سے دستے تشکیل دیتے ہیں جبکہ زیادہ تر ممالک اپنے سپیشل سروس گروپ سے چنے ہوئے کمانڈوز کو ہی سنائپنگ سکھا دیتے ہیں۔
کم بجٹ ہونے کے بوجود پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین سنائپر رائفلز اور سنائپر شوٹرز موجود ہیں،اور اس فیلڈ میں پاکستان بھارت سے بہت آگے ہے۔
اس برتری کی سب سے بڑی وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تھی، پاکستان نے امریکا کو چکما دیتے ہوئے کم قیمت پر ہائ ویلیو سنائپر رائفلز خریدیں جبکہ حقیقت میں دہشت گردوں کے خلاف برطانیہ کی بنی رینج ماسٹر سنائپر رائفلز استعمال کیں،
یاد رہے امریکا کو دھوکا دے کر کم قیمت پر خریدی گئیں سنائپر رائفلز کو بھارت کے خلاف ایل او سی پر استعمال کیا جا رہا ہے
پاکستان آرمی ایس ایس جی میں ہر سپاہی کے لیے چھ ماہ کا سنائپر کورس پاس کرنا لازمی ہوتا ہے یعنی ہر کمانڈو سنائپر رائفلز کے استعمال میں ماہر ہوتا ہے۔
اس کورس میں آرمی کے تجربہ کار عام سپاہی بھی شرکت کر سکتے ہیں۔
سنائپنگ ہر گز معمولی کام نہیں، یہ کام صرف تجربہ کار اور بہادر سپاہیوں کو ہی سونپا جاتا ہے۔
یاد رہے
سنائپر رائفلز انتہائ مہنگی ہوتی ہیں لیکن انکا جنگ میں استعمال انتہائ منافع بخش ہے۔مثال کے طور پر
“ویت نام کی جنگ میں امریکی فوجیوں کو ہر ایک ویت نامی سپاہی کو قتل کرنے کے لیے اوسط” 50ہزار گولیاں فائر کرنا پڑیں جبکہ یہی کام سنائپر رائفلز کے سکواڈ نے 1.3 گولیاں فی کس ویت نامی سپاہی کی اوسط سے پورا کیا”
اور پاکستانی افواج آج بھی چائنہ روس اور دیگر ممالک کے افواج کو سنائپنگ سکھا رہا ہے ۔
کیونکہ پاکستانی افواج کی بہت زیادہ تجربہ حاصل ہوا ہے حال ہی میں جو پاک افواج نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کیے ہیں اور سنائپنگ کے ذریعے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں
تو موجودہ وقت میں پاکستانی سنائپروں کا کوئی ثانی نہیں ۔ *الحمداللہ**پاکستان زندہ باد*
🇵🇰🇵🇰🇵🇰












