( سُوۡرَۃٌ التَّوْبَة : ٢٨ )
📖 ارشاد باری تعالیٰ ﷻ :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِہِمۡ ہٰذَا ۚ وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ عَیۡلَۃً فَسَوۡفَ یُغۡنِیۡکُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖۤ اِنۡ شَآءَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۸﴾
📚 ترجمہ :
اے ایمان والو ! مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں ، لہٰذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں ۔ اور ( مسلمانو ! ) اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اگر اللہ چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے ( مشرکین سے ) بے نیاز کر دے گا ۔ بیشک اللہ کا علم بھی کامل ہے ، حکمت بھی کامل ۔
✍ تفسیر :
اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین اپنے پاک دین والے، پاکیزگی اور طہارت والے مسلمان بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ
إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ: مشرک بالکل ناپاک ہیں۔ وہ دین کی رو سے نجس مشرکوں کو بیت اللہ شریف کے پاس نہ آنے دیں۔
یعنی آئندہ کے لئے ان کا حج اور ان کی زیارت ہی بند نہیں بلکہ مسجد حرام کے حدود میں ان کا داخلہ بھی بند ہے تاکہ شرک و جاہلیت کے اعادہ کا کوئی امکان باقی نہ رہے ۔ ”ناپاک“ ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ بذاتِ خود ناپاک ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعتقادات ، ان کے اخلاق ، ان کے اعمال اور ان کے جاہلانہ طریقِ زندگی ناپاک ہیں اور اسی نجاست کی بنا پر حدودِ حرم میں ان کا داخلہ بند کیا گیا ہے ۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ حج اور عمرہ اور مراسمِ جاہلیت ادا کرنے کے لئے حدودِ حرم میں نہیں جا سکتے ۔ امام شافعیؒ کے نزدیک اس حکم کا منشاء یہ ہے کہ یہ مسجد حرام میں جا ہی نہیں سکتے ۔ اور امام مالکؒ یہ رائے رکھتے ہیں کہ صرف مسجدِ حرام ہی نہیں بلکہ کسی مسجد میں بھی ان کا داخل ہونا درست نہیں ۔ لیکن یہ آخری رائے درست نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں ان لوگوں کو آنے کی اجازت دی تھی ۔
یہ آیت ٩ ہجری میں نازل ہوئی، اسی سال آنحضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی کرم اللہ وجہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمعِ حج میں اعلان کر دو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی ننگا شخص بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرے۔ اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر و قیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا، نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ کے گھر کا طواف کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ غلام اور ذمی شخص کو مستثنیٰ بتاتے ہیں۔ مسند کی حدیث میں فرمانِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ہماری اس مسجد میں اس کے بعد سوائے معاہدہ والے اور تمہارے غلاموں کے اور کوئی کافر نہ آئے۔ لیکن اس مرفوع سے زیادہ صحیح سند والی موقوف روایت ہے۔ خلیفة المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمة الله عليه نے فرمان جاری کر دیا تھا کہ یہود و نصرانی کو مسلمانوں کی مسجدوں میں نہ آنے دو۔ ان کا یہ امتناعی حکم اسی آیت کے تحت تھا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حرم سارا اس حکم میں مثل مسجدِ حرام کے ہے۔ یہ آیت مشرکوں کی نجاست پر بھی دلیل واثق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے مومن نجس نہیں ہوتا۔ باقی رہی یہ بات کہ مشرکوں کا بدن اور ذات بھی نجس ہے یا نہیں؟ پس جمہور کا قول تو یہ ہے کہ نجس نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کا ذبیحہ حلال کیا ہے۔ بعض ظاہریہ کہتے ہیں کہ مشرکوں کے بدن بھی ناپاک ہیں ۔ حسن فرماتے ہیں جو ان سے مصافحہ کرے وہ ہاتھ دھو ڈالے۔ اس حکم پر بعض لوگوں نے کہا کہ پھر تو ہماری تجارت کا مندا ہو جائے گا۔ ہمارے بازار بےرونق ہو جائیں گے اور بہت سے فائدے جاتے رہیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ غنی و حمید فرماتا ہے کہ تم اس بات سے نہ ڈرو، اللہ تمہیں اور بہت سی صورتوں سے دلا دے گا، تمہیں اہلِ کتاب سے جزیہ دلائے گا اور تمہیں غنی کر دے گا۔ تمہاری مصلحتوں کو تم سے زیادہ رب جانتا ہے۔ اس کا حکم اس کی ممانعت کسی نہ کسی حکمت سے ہی ہوتی ہے۔ یہ تجارت اتنے فائدے کی نہیں جتنا فائدہ وہ تمہیں جزیئے سے دیتا۔ ان اہلِ کتاب سے جو اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اور قیامت کے منکر ہیں جو کسی نبی کے صحیح معنی میں پورے متبع نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے اور اپنے بڑوں کی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اگر انہیں اپنے نبی پر اپنی شریعت پر پورا ایمان ہوتا تو وہ ہمارے اس نبی پر بھی ضرور ایمان لاتے۔ ان کی بشارت تو ہر نبی دیتا رہا، ان کی اتباع کا حکم ہر نبی نے دیا لیکن باوجود اس کے وہ اس اشرف الرسل ﷺ کے انکاری ہیں۔ پس اگلے نبیوں کے شرع سے بھی دراصل انہیں کوئی دور کا سروکار بھی نہیں۔ اسی وجہ سے ان نبیوں کا زبانی اقرار ان کے لئے بےسود ہے، کیونکہ یہ سیدالانبیاء افضل الرسل خاتم النبین اکمل المرسلین ﷺ سے کفر کرتے ہیں۔ اس لئے ان سے بھی جہاد کرو۔ ان سے جہاد کے حکم کی یہ پہلی آیت ہے اس وقت تک آس پاس کے مشرکین سے جنگ ہو چکی تھی، ان میں سے اکثر توحید کے جھنڈے تلے آ چکے تھے، جزیرۃ العرب میں اسلام نے جگہ کر لی تھی، اب یہود و نصاریٰ کی خبر لینے اور انہیں راہِ حق دکھانے کا حکم ہوا۔
ﷲ رب العزت ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے آور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔












