ابھی ہمیں پاکستان کے سابق وزیر اقلیتی رہنما جے سالک صاحب نے واشنگٹن سے فون کر کے ہمارے کل کے مظاہرے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عنقریب واشنگٹن میں بھی نفاذ اردو کے حق میں ایک مظاہرہ رکھیں گے۔ اس مظاہرے کی ساری تفصیل پاکستان کے ارباب اقتدار کو بھی بھیجیں گے۔ انہوں نے مذید کہا کہ وہ اپنے اثر رسوخ سے اقوام متحدہ سے مطالبہ کر رہےہیں کہ اردو کو اقوام متحدہ کی ساتویں عالمی زبان تسلیم کیا جائے کیونکہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اردو اسوقت چین کے بعد دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان بن چکی ہے۔ جبکہ ابھی تک یہ اپنے ملک میں بھی نافذ نہیں ہوسکی۔اس کے باوجود دنیا کا کوئی ملک ‘ شہر ایسا نہیں ہے جہاں اردو بولنے والے موجود نہ ہوں۔ لہزا دنیا کی اتنی زیادہ آبادی کی بولنے والی زبان کو اقوام متحدہ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔
ہم جے سالک صاحب کے نفاذ اردو مشن پر ہمارے ہم آواز بننے پر تہہ دل سے ممنون ہیں۔ نفاذ اردو کے حوالے سے ان کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے انگریزی غلاموں بالخصوص وفاقی وزیرِ تعلیم سے ملتمس ہیں کہ وہ امریکہ کے دارالحکومت میں بیٹھے ہوئے اس احساس خودی’ قومی حمیت سے بھرپور محب وطن کی بات سن کر اپنے غلامانہ خیالات سے رجوع کرلیں ۔۔انگریزی کا تسلط کرکے پاکستان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے’ اور پاکستان کو جہالت’ بدعنوانی’ رٹابازی’ بوٹی مافیا کے عمیق اندھیروں میں نہ دھکیلیں!
ہم اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اردو پاکستان میں نافذ ہونے سے پہلے اقوام متحدہ کی عالمی زبان بن جائے گی!
یہ بھی اردو کی بقاء کی انوکھی مثال ہوگی۔ اپنے گھر کے غلام تو اس کی سرکاری حیثیت اپنے مخصوص مقاصد کے تحت تسلیم کرنے سے عاری ہیں لیکن دنیا اس کی عالمی حیثیت کے گن گارہی ہے!
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک