پاکستان کا نظام تعلیم کیسا ؟…؟
{ تغیر }
کالم نگار . مبشر نور کامیانہ.

دنیا میں کسی قوم کا معیار، کردار، اخلاق، اوصاف اور نظام کا جائزہ لینا ہو تو اس قوم کی صرف 3 چیزیں دیکھ لو.
1. اس قوم کا معیار تعلیم، نصاب، سلیبس .
2. اس قوم کے حکام کا رہن سہن .
3. اس قوم کے قانون کی گرفت .
بس ان چیزوں سے آپکو پتہ چل جائے گا وہ قوم کس قسم کی حرکات کی مالک ہے.
جس ملک کا نصاب تعلیم اعلی درجے کا، اپنی تہذیب و تمدن اور اپنے مذہبی بنیادوں پر صحیح طرح سے استوار ہو گا وہ قوم زمانے کی اعلی درجے کی غیور قوم ثابت ہو گی.
اور جس قوم کا نظام تعلیم ہی صرف طوطے مینا کی کہانی،  کلیور مرچو، مسٹر چپس، جنگل میں منگل، انگور ابھی کھٹے ہیں. اس جیسی کہانیوں پر مشتمل ہو گا تو وہ قوم بھی ویسی بندروں والی حرکات کی مالک بن جائے گی.
اس کا اندازہ لگانا اتنا مشکل نہیں بلکہ بہت سیدھا سادہ ور آسان حل ہے.
آپ چین، سنگاپور، ملائشیاء، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، جیسی ریاستوں کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں.
1. وہاں نہ تعلیم کا معیار گرا ہوا. نہ سلیبس اور نساب کمزور.
2. وہاں نہ حکمران کرپٹ، عیاش ، غلیظ ترین اور گندے .
3. وہاں نہ قانون کمزور، لاغر، لنگڑا لولا، نہ کسی وڈیرے سرمادار، جاگیردار، جرنیل، چیف جسٹس، وزیراعظم، گورنرز کی لونڈی غلام .
آپ چین کو دیکھ لیں. 1 اکتوبر 1949 میں آزاد ہوا. وہان بھی جمہوری حکومت ہے. آج وہی چین دنیا کی سپرپاور بن گیا.
سنگاپور 9 اگست 1965 کو آزاد ہوا. وہاں بھی جمہوری حکومت ہے. آج وہ خود کفیل، خوشحال، خوبصورت ملک کیسے بن گیا ؟
ملائشیاء 31 اگست 1957 کو آزاد ہوا. وہان بھی جمہوری حکومت ہے . آج اسکی ترقی دنیا کے سامنے ہے. وہ کیسے مضبوط، خوشحال ترقی یافتہ ہو گیا ؟
جنوبی کوریا، شمالی کوریا کی آپس میں 1948 میں جنگ ہوئی. جو 3 سال چھڑی رہی. تو 1950 میں الگ، الگ ہو گئے. وہاں بھی جمہوری حکومت ہے.
آج وہ دونوں دنیا میں بڑی سے بڑی طاقتوں کے آگے سینہ سپر ہیں. ان کے طاقتور دشمن بھی ان سے ڈرتے ہیں.
یہ سب مثالیں بتانے کا مقصد یہ باور کرانا کہ ان ممالک میں ان 3 چیزوں پر مکمل عمل ہوا. جس کی بدولت وہ آگے نکل گئے.
تو اب ہم اپنی حالت کو دکھیں ذرا… ؟
ہم جب آزاد ہوئے تو ہمارے اوپر جاگیردار، سرمایادار، ڈیرہ سسٹم، “حکہ پینے” کا نظام مسلط کر دیا گیا.
ہم جب آزاد ہوئے تو ہمارے اوپر ہمارے دشمنوں کے پٹھو، چاپلوسی، خوشامدی کرنے والے غلیظ اور گھٹیا انسان بٹھا دئیے گئے.
ہم جب آزاد ہوئے تو ہمارے اوپر عیاش، کرپٹ، اور انگریزوں کے کتے نہلانے والے بھیڑیے مسلط کر دئیے گئے. جنہوں نے سارا نظام اپنے قبضہ میں لے لیا.
ہم جب آزاد ہوئے تو ہمارے اوپر قانون وہ لاگو کیا جہاں سے صرف اوپر کا طبقہ رجوع کر سکتا. عام بندہ تھانوں، جیل کی کال کوٹھڑیوں میں سڑتا، پھرتا، مرتا رہے گا. اور انصاف تاحیات نہیں ملے گا.
ہم جب آزاد ہوئے تو ہمارت اوپر مذہب کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا. جہاں نفرت، تعصب، جہالت، فتوی لگا کر پھانسی چڑھانے کا رستہ آسان بنا دیا گیا.
ہم جب آزاد ہوئے تو ہمارے اوپر سکول، کالجز، یونیورسٹی، سرکاری اور پرائیویٹ مسلط کر کے ایک بہت بڑی تفریق پیدا کر کے عوام کو منتشر کرنے کا ایک پختہ منصوبہ تیار کر دیا گیا.
اب آپ خود کو اس سسٹم، اس نظام سے کیسے پاک کر سکتے ہیں؟ ذرا سوچیں.؟ کیسے؟ کوئی حل؟ نہیں… بس.
جو نظام ازل سے تیار کیا گیا تھا. آج وہ اس ملک کے ہر زندہ اور ہر پیدا ہونے والے فرد کے دل و دماغ پر مکمل حاوی ہو چکا ہے. آپ اس نظام سے اب ذہنی و جسمانی طور پہ خود کو آزاد نہیں کرا سکتے.
یہ نظام ایسا کیوں بنایا گیا ؟ کیونکہ. ہمارے حکمرانوں نے “اقتدار پر قابض رہنے کی خاطر” ہمارے ساتھ بھلا کیا چال چلی؟ ہمیں ایک نعرہ دے دیا. وہ یہ کہ “جاگ پنجابی جاگ، سندھو دیش، مہاجر بھائی ایک ہو جاؤ، پختونستان، اور عظیم بلوچستان” جیسے القابات سے نواز کر قوم کو پاش، پاش کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی. صوبوں پر اپنی اجارہ داری قائم رکھ لی. دنیا کے عظیم لیڈر، دنیا کے عظیم انسان ہمارے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم، خلفائے راشدین، قائداعظم، علامہ اقبال کی پختہ سوچ، حقیقی تعلیمات، ٹھوس نظریات، ہمارے سلیبس میں پنہاں کرنے کی بجائے عاشقانہ شاعری، پرانے قصے، کہانیاں ڈال کر قوم کو خالی و کھوکھلی تعلیمی ڈھانچہ کھڑا کر ذہنی غلام بنا لیا. وار رے، تمہاری مکاریاں، تمہاری چالاکیاں.
بس. یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک ایک قوم نہ بن سکے. ذات، پات، نسل پرستی، رنگ، لباس، زبانوں اور علاقوں کی تقسیم میں بٹ گئے.
یاد رہے کہ ہم ایک کلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آئے. لیکن اپنی، اپنی ذات اور اپنے، اپنے مسلکوں میں کھو گئے. آج کوئی سُنی، کوئی شیعہ، کوئی وہابی، کوئی دیوبندی، کوئی بریلوی، کوئی سید، تو کوئی اور کچھ. لیکن. ایک قوم ؟
پھر بھی ہم خالی نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم ایک قوم ہیں. کیسے ایک قوم ہیں؟ ہر بندہ کسی فرقے، کسی مسلک، کسی جماعت، کسی پارٹی میں جکڑا ہوا ہے. اور وہ انہیں کا ذہنی و جسمانی غلام بھی ہے. وہ اس سے باہر نہیں نکل سکتا، نہ سوچ سکتا، نہ بول سکتا، نہ حرکت کر سکتا.
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغاں بھی ہو.
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلماں بھی ہو ؟
بندہ ناچیز کی ایک طالب علم اور پاکستانی شہری کی حیثیت سے جنابِ وزیراعظم محترم عمران خان صاحب سے گزارش ہے پاکستان کا نظام تعلیم اب بدل دیں. حقیقی بنیادوں اور ٹھوس نظریات پر استوار کر دیں. تا کہ قوم ذہنی الجھنوں سے پاک ہو کر سکھ کا سانس لے سکے. اگر آپ اس مقصد پر کام کر جاتے ہیں تو یہ اللہ و رسول کے ہاں آپکی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہو گا . انشاءاللہ.