ہم دوراندیش نہیں اندھے ہیں

{ نقطہ نظر }
کالم نگار ۔۔ عل امجد چوہدری

مان لیتا ہوں اب 1970 نہیں ہے 2020 ہے لیکن جھنگ کے سیاستدانوں کی سوچ ابھی تک 1970 والی ہی ہے پچاس سال ضرور گزرے ہیں مگر سوچ کی ترقی کے حوالے سے ایک سال بھی نہیں گزرا
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں انتہائی اہمیت کی حامل جھنگ سے تعلق رکھنے والی اس شخصیت سے ہماری پہلی ملاقات تھی اور جھنگ کے معروف جرنلسٹ چوہدری یونس نومی کے علاوہ سہیل راحت حجاز علی بٹ اسامہ ریاض ورک اور زیشان حیدر بھی اس بااثر شخصیت کہ جن کے ہاں گزشتہ جڑواں سالوں میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان سریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کے علاوہ وطن عزیز کی اہم مقتدر شخصیات آ چکی ہیں اور سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری سمیت غیر ملکی شخصیات ان کے حلقہ احباب میں شامل ہیں کے بے لاگ تبصرے پر دم بخود تھے
دوران گفتگو ہمارے دلائل کا محور جھنگ یونیورسٹی ہیڈ تریموں کی ایکسٹینشن باہو بریج اور کچھ دیگر ترقیاتی منصوبے تھے تاہم جھنگ سے تعلق رکھنے والی اس بااثر شخصیت کا موقف یکسر مختلف تھا ان کا خیال تھا کہ جھنگ آج بھی 1970 کی دہائی میں کھڑا ہے جھنگ کے سیاستدان آج بھی مخالف سیاستدانوں کو نیچا دکھانے کے اپنے پروٹوکول تک کو نظر انداز کر دیتے ہیں یہ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں کہ عہدہ اور پروٹوکول بھی شرما جاتا ہے عوامی ترقی ان سیاستدانوں کی آخری ترجیح اور مخالف کو نیچا دکھانا ان کی اولین ترجیح ہے
ان مقتدر شخصیات نے کبھی آواز بلند نہیں کی کہ موٹروے کا کوئی بھی انٹر چینج جھنگ سے منسوب نہیں ہے جہاں آج بھی ضلعی ہیڈ کوارٹر معولی بارش کو بھی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا جہاں آج بھی غریب رعایا کو پانچ سو روپے ماہوار پر ملازمت کے لیئے زبردستی مجبور کیا جاتا ہے جہاں تھانوں میں تشدد آج بھی معمول ہے جہاں کے نوجوانوں کو مزدوری بھی ضلع کی حدود کی بجائے فیصل آباد لاہور کراچی اور دیگر شہروں میں کرنا پڑتی ہے تاہم اپنے حقوق کے لیئے یہ لوگ ایک ڈی پی او کے خلاف بھی میدان جنگ سجا لیتے ہیں ایک سابق ڈی پی او جھنگ سابق وفاقی وزیر کو چائے کیا پلا بیٹھے یہ بھی بہت بری بات ٹھہری یہ چائے بھی وزیر اعظم اور وزیر اعلی سے ملاقات میں اہم موضوع ٹھہری
جس دھرتی میں غریب کے گرے ہوئے مکانات غریب پر ہوتا ہوا ظلم غریب کی عزت کی پامالی غریب کے حقوق کا استحصال غریب پر پٹواری اور تھانیدار سے اعلی افسران کا ظلم مقتدر حلقوں میں زیر بحث نہ رہے مگر حزب مخالف کے سیاستدان کی ڈی پی او آفس میں چائے اور ڈی پی او کی زاتی حکم عدولی زیر بحث بھی رہے اور بات تحریک استحقاق اور اس سے بڑھ کر استحقاق کمیٹی میں چیخنے چلانے کے دوران پروٹوکول تک کو نظر انداز کرنے تک جا پہنچے اس دھرتی کو شاہراہ پر گامزن ہوئے دیکھنا دور اندیشی نہیں اندھے پن کی نشانی ہے
اقتدار کے اعلی ایوانوں میں انتہائی بااثر اس شخصیت کی گفتگو ختم ہو چکی تھی تاہم ان کی گفتگو کے بعد ان کے سامنے بیٹھے ہم سب کو یوں لگ رہا تھا کہ ہم واقعی اندھے ہیں جو یقین کیئے ہوئے تھے کہ جھنگ 2020 میں بدل چکا ہے

والسلام ۔علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ واٹس ایپ 03036559570