عالمی موسمیاتی تبدیلی: وجوہات،اثرات اور حل
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں نے زمین کو تباہی کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔سائنس دانوں نے آگاہ کردیاہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔یہ تبدیلیاں انسان کی وجہ سے بھی پیدا ہو رہی ہیں۔تیل، گیس اورکوئلے کے استعمال سے ان تبدیلیوں میں اضافہ ہوا ہے۔گرین ہاؤس گیسیں زمین پر خطرہ بڑھا رہی ہیں۔گرین ہاؤس گیسیں ایسی قدرتی اور مصنوعی گیسیں ہیں،جو زمین کے ماحول میں داخل ہونے والی سورج کی حرارت کو اپنے اندر جذب کر کے قید کر لیتی ہیں۔یہ عمل زمین پر رہنے کے قابل بناتا ہے،لیکن ان گیسوں میں اضافہ گلوبل وارمنگ (عالمی حدت) کا سبب بنتا ہے. تیل اور گیس کا کارخانوں یا ٹرانسپورٹ میں استعمال تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے۔کاربن ڈائی اکسائیڈ کے علاوہ میتھین اور نایٹروس آکسائیڈ سے زمین پر رہنے والوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔سورج کی روشنی دن کو زمین پر پڑتی ہے،رات کو زمین یہ روشنی واپس خلا کی طرف خارج کرتی ہے تو یہ گیسیں اس حرارت کو روک لیتی ہیں اور اسے قید کر لیتی ہیں۔اس طرح زمین کا درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔اضافے کو اگر روکا نہ گیا تو مستقبل میں بہت زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کہیں زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں اور کہیں قحط سالی کا سامنا ہے۔فصلوں پر بھی ان کے اثرات پڑ رہے ہیں۔2030 تک اگر کنٹرول نہ کیا گیا تو شاید بعد میں کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔سائنسدان کوشش کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے کس طرح بچاؤ ممکن ہے؟
موسمیاتی تبدیلیاں بہت ہی خطرناک ثابت ہوں گی۔ان تبدیلیوں کو انسانی کوششوں سے روکا جا سکتا ہے۔ایندھن کا استعمال کم کرنا ہوگا،اگر ضروری ہو تو ایندھن کے فضلات کو اس طرح تلف یا فلٹر کیا جائے کہ وہ زندگیوں کے لیے نقصان دہ نہ رہیں۔اب بھی بہت سی گاڑیاں تیل پر چل رہی ہیں اور مستقبل میں ان کی تعداد بے تحاشہ بڑھ جائے گی۔وجہ یہ ہے کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی زیادہ ضرورت ہوگی اور ٹرانسپورٹ کے لیے تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔زیادہ گاڑیاں زیادہ تیل استعمال کریں گی،جس سے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔موجودہ دور میں صنعتوں کے بغیر گزاراکرنا مشکل ہے اور مستقبل میں صنعتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملے گا،جس کا نقصان بھی زیادہ ہوگا۔ہو سکتا ہے مستقبل میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کو اس طرح قابل استعمال بنا لیا جائے کہ وہ زمین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو،لیکن اب تو زمین کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔بہتر یہی ہے کہ ایسے طریقے استعمال کیے جائیں جس سے زمین کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں گلیشئر کو بھی تیزی سے پگھلانے کا سبب بن رہی ہیں۔گلیشیئر تیزی سے پگھنا شروع ہوگئے تو بہت بڑے نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔گلیشیئر پگھل کر سیلابوں کی صورت اختیار کر لیں گے اور یہ سیلاب انسانی ابادیوں کو تباہ کردیں گے۔سمندروں میں بھی طغیانی بڑھ جائے گی اور یہ طغیانی ناقابل برداشت ہوگی۔کئی علاقوں میں بارشیں زیادہ ہونا شروع ہو جائیں گی۔بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں رہائش اور زراعت کا عمل مشکل ہو جائے گا۔بعض علاقوں میں گرمی کی لہر میں اضافہ ہو جائے گا اور یہ گرمی کی لہر بھی بہت ہی خوفناک ہوگی۔موسمیاتی تبدیلیاں ترقی پذیر اور غریب ممالک کے لیے تو خاصہ خطرناک ثابت ہوں گی۔ترقی یافتہ ممالک ان تبدیلوں کا مقابلہ کر سکیں گے،لیکن ترقی پذیر ممالک کاحال بہت ہی پریشان کن ہوگا۔
موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے لیے ابھی سے اقدامات شروع کر دینے چاہیے۔کوئلے اور تیل کی بجائے شمسی (Solar)،ہوائی(Wind) اور پن بجلی(Hydropower) جیسے ذرائع کا استعمال کیا جائے۔سولر اور ہوائی ذرائع کے استعمال سے موسمیاتی آلودگیوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔توانائی کی بچت بھی ضروری ہے،جیسے بلب اور الیکٹرانک آلات کا استعمال کم کیا جائے۔پیدل سفر کو ترجیح دینے سے بھی بچت ہو سکتی ہے۔تیل پر چلنے والی گاڑیوں کی نسبت انسان دوست ماحول تونائی پر گاڑیاں چلانی ضروری ہیں۔اس وقت کوئلے اور تیل ایندھن کے خاص ذرائع ہیں لیکن ان سے چھٹکارا پانا ہوگا تاکہ بڑے نقصانات سے بچا جا سکے۔کارخانوں سے نکلنے والے دھوئیں کو بھی فلٹرکیاجائے۔پلاسٹک کا استعمال بھی آہستہ آہستہ کم کر کے بالکل ختم کرنا ہوگا۔پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا اس لیے ضروری ہےکہ یہ ماحول کے لیے سخت خطرناک ہے۔پلاسٹک زمینی حیات کے لیے بھی خطرناک ہے اور سمندری حیات کے لیے بھی۔بڑے پیمانے پر شجرکاری بھی کرنا ہوگی۔زیادہ سے زیادہ درخت اگا کر موسمیاتی تبدیلوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔پانی کے ضیاع کو بھی روکنا ہوگا۔موسم کے مطابق فصلات کاشت کرنی ہوں گی۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فصلات کو نقصان پہنچے گا،جیسے کہ بہت سی فصلیں ٹھنڈے ماحول میں اگتی ہیں،اگر موسم گرم ہو جائے تو فصلات نہیں اگ سکیں گی۔اس لیے موسم کے مطابق فصلیں کاشت کرنی ہوں گی۔موسمیاتی تبدیلوں کا مقابلہ جلد از جلد شروع کرنا ہوگا ورنہ بہت بڑے نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔











