چونیاں اسپورٹس گراؤنڈ کا خاتمہ: نااہل افسران کی عیاشی یا نوجوانوں کے مستقبل کا قتل؟
تحریر میاں عدیل اشرف
کھیلوں کے فروغ، یوتھ ڈویلپمنٹ اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کا دعویٰ تو ہماری حکومتیں روز کرتی ہیں، لیکن جب ہم زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ تمام دعوے کاغذ کا ایک ٹکڑا محسوس ہوتے ہیں۔ آج دنیا جدید سے جدید ترین ہوتی جا رہی ہے، ترقی یافتہ ممالک تو دور کی بات، دنیا کے چھوٹے چھوٹے خطوں میں بھی ہر علاقے کی سطح پر جدید طرز کے اسٹیڈیمز بنائے جا رہے ہیں جہاں نہ صرف شاندار آؤٹ فیلڈ ہوتی ہے بلکہ تماشائیوں کے بیٹھنے کا بہترین انتظام، پینے کا صاف پانی، واش رومز اور کھلاڑیوں کے لیے کٹس اور سامان رکھنے کے لیے جدید کمرے (لاکر رومز) موجود ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے علاقوں میں بھی ایسے اسٹیڈیمز بنتے جہاں روزانہ کی بنیاد پر صرف کرکٹ ہی نہیں، بلکہ فٹ بال، ہاکی، سنوکر اور دیگر تمام کھیلوں کی پریکٹس کا باقاعدہ انتظام ہوتا۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جہاں دنیا آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے ہاں پہلے سے موجود انفراسٹرکچر بھی تباہی اور بربادی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
اس کی سب سے بڑی اور زندہ مثال ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کا “ستلج اسٹیڈیم چونیاں” ہے، جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنا تو دیا گیا لیکن عرصہ دراز سے حکومتی بے حسی، ضلعی انتظامیہ کی خاموش تماشائی والی پالیسی اور محکمہ اسپورٹس کی اندھیر نگری کا منہ بولتا ثبوت بن چکا ہے۔ یہاں کسی جدید سہولت یا تمام کھیلوں کی پریکٹس کا تو تصور ہی نہیں، بلکہ یہ پورا گراؤنڈ ایک کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں صرف کرکٹ کھیلنے کے لیے کھلاڑی آتے ہیں۔ مقامی کھلاڑی کسی حکومتی سپورٹ کے بغیر اپنی مدد آپ کے تحت جیسے تیسے کر کے کھیلتے ہیں۔ چونیاں کے ساتھ ساتھ الہ آباد جیسے بڑے اور گنجان آباد علاقے میں تو نوجوانوں کے لیے سرے سے کوئی کھیل کا میدان یا گراؤنڈ موجود ہی نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہاں کا ٹیلنٹ گلی کوچوں میں ضائع ہو رہا ہے۔
”ستلج اسٹیڈیم چونیاں” کی حالتِ زار دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ جہاں سینکڑوں نوجوان روزانہ اپنی آنکھوں میں کھلاڑی بننے کے خواب سجائے آتے ہیں، وہاں بنیادی انسانی ضرورت یعنی واش روم تک کی سہولت موجود نہیں ہے۔ نہ کھلاڑیوں اور شہریوں کے لیے بیٹھنے کا کوئی مناسب انتظام ہے، نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی کھلاڑیوں کے لیے اپنا سامان محفوظ رکھنے کا کوئی کمرہ ہے۔ اجڑے ہوئے میدان اور سہولیات کے اس فقدان کی وجہ سے شہری اور نوجوان نسل تیزی سے مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ حکومت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے تو انہیں اسپتالوں کو ویران کر ے کے لیے کھیل کے گراؤنڈ آباد کر کے دینے ہوں گے۔ گراؤنڈز میں ہری بھری گھاس (گراس) اور ایک ایسا اچھا اور پاکیزہ ماحول ہونا چاہیے جہاں جا کر انسان پرسکون محسوس کرے۔ اگر ریاست یہ پرسکون ماحول فراہم نہیں کرے گی، تو ہمارے نوجوان مایوسی کا شکار ہو کر منشیات کی لعنت میں مبتلا ہوتے رہیں گے اور اپنی قیمتی زندگیاں گنواتے رہیں گے۔
سب سے بڑا اور سنگین سوالیہ نشان چونیاں کے اسپورٹس آفیسر کی کارکردگی اور ضلعی انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی پر ہے۔ جب گراؤنڈ میں بیٹھنے کا انتظام نہیں، پینے کے پانی کا انتظام نہیں، واش رومز اور کمرے نہیں، تو پھر اسپورٹس محکمہ کا یہ پورا عملہ آخر کس بات کی ماہانہ تنخواہیں، مراعات اور سرکاری فنڈز لے رہا ہے؟ موجودہ سپورٹس وزیر ٹی وی پر بیٹھ کر دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر اس پورے علاقے میں اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کا وجود کہیں نظر نہیں آتا۔ گراؤنڈ کی دیکھ بھال کرنا، پچ کی تیاری سنبھالنا اور مقامی کھلاڑیوں کی سرپرستی کرنا تو دور کی بات، موصوف اسپورٹس آفیسر نے آج تک کسی قسم کی سرکاری اسپورٹس ایکٹیویٹی، میچ یا ٹورنامنٹ کروانے کی زحمت تک نہیں کی، جس کی وجہ سے یہ کروڑوں کا اسٹیڈیم ایک ناکارہ سفید ہاتھی بن چکا ہے۔
اهلِ چونیاں اور الہ آباد، چھانگا مانگا ،کنگن پور کے رہائشیوں، سماجی حلقوں اور نوجوان کھلاڑیوں کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب، وزیرِ اسپورٹس اور سیکرٹری اسپورٹس سے پرزور مطالبہ ہے کہ تحصیل چونیاں کے اسپورٹس آفیسر کی اس غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے اور “ستلج اسٹیڈیم” میں ہنگامی بنیادوں پر واش رومز، پینے کے صاف پانی، کھلاڑیوں کے لیے کمرے، ہری گھاس اور واکنگ ٹریک کا انتظام کر کے اسے دنیا کے جدید تقاضوں کے مطابق ایک پرسکون اور صحت مند ماحول میں تبدیل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی الہ آباد، چھانگا مانگا ،کنگن پور کے نوجوانوں کے لیے ایک نئے اور جدید کھیل کے میدان کا فوری بندوبست کیا جائے جہاں تمام کھیلوں کی پریکٹس ممکن ہو سکے، تاکہ ہمارے نوجوانوں کو منشیات اور بیماریوں کے اندھیروں سے نکال کر صحت مند مستقبل کی طرف لایا جا سکے۔
اگر سپورٹس کا محکمہ عام علاقوں میں ایسی کوئی ڈیویلپمنٹ نہیں کر سکتا کھلاڑیوں کے ساتھ تعاون نہیں کر سکتا تو پھر تحصیل اور ضلعی لیول پر تعینات تمام عملے اور آفیسرز کو ختم کیا جائے اور ان کی تنخواہوں پر استعمال ہونے والے فنڈز کو مقامی انتظامیہ کو دیا جائے۔ کیونکہ فارغ رہنے کی تنخواہیں دینے پر فنڈ جاری کرنے کی بجائے مقامی انتظامیہ کو استعمال کو دیا جائے تاکہ عوام کا پیسہ ناکارہ آفیسرز پر ضائع نہ ہو۔ حکومت فوری طور پر اس مسلئے کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دے اور اس اسٹیڈیم کے حالت زار کو بہتر کیا جائے تاکہ ہماری نوجوانوں کا ٹیلنٹ گلی کوچوں میں ضائع نہ ہو۔ اور یہاں تمام قسم کے کھیلوں کے لیے سرگرمیاں شروع کروائی جائیں۔
کالم نویس
میاں عدیل اشرف
mianadeelashraf902@gmail.com
03424106902










