5 جولائی: جمہوریت پر شب خون اور تاریخ کا سیاہ باب

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض ایام ایسے ہیں جو ہمیشہ قومی حافظے کا حصہ رہتے ہیں۔ 5 جولائی 1977ء بھی انہی تاریخوں میں شامل ہے، جب ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس دن کو ہر سال “یومِ سیاہ” کے طور پر مناتی ہے تاکہ قوم کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ جمہوری نظام، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کسی بھی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں۔5 جولائی کا واقعہ صرف ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اس کے نتیجے میں جمہوری اداروں، آئینی عمل اور سیاسی استحکام کو شدید دھچکا پہنچا۔ اس دور کے اثرات ملکی سیاست، معیشت اور معاشرت پر طویل عرصے تک محسوس کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جمہوریت پر یقین رکھنے والے حلقے اس دن کو افسوس اور احتسابِ تاریخ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو 1973ء کا متفقہ آئین دیا، خارجہ پالیسی کو نئی سمت دی، اسلامی دنیا کو قریب لانے کی کوشش کی اور عوام کو سیاسی شعور فراہم کیا۔ ان کی سیاسی جدوجہد، عوامی رابطے اور قومی خدمات انہیں ملکی تاریخ کی نمایاں شخصیات میں شامل کرتی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو تک پارٹی کی قیادت نے جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت پاکستان میں جمہوری سفر بارہا رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھتا رہا۔آج جب پاکستان مختلف سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز سے گزر رہا ہے تو اس امر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کہ تمام سیاسی قوتیں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور جمہوری روایات کے استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔ مضبوط جمہوریت ہی قومی استحکام، عوامی خوشحالی اور پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی آج 5 جولائی کو ملک بھر کی طرح ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی یومِ سیاہ منائے گی۔ اس موقع پر دعائیہ تقریبات، اجلاس اور دیگر پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور جمہوریت کی راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوری اقدار، آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمت کے عزم کی تجدید بھی کی جائے گی۔میرا یقین ہے کہ پاکستان کا روشن مستقبل صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام قومی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملک میں جمہوری تسلسل کو مضبوط بنائیں، عوام کی رائے کا احترام کریں اور آئین کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قومی اتحاد، سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔آئیے، 5 جولائی کے اس دن ہم عہد کریں کہ ہم جمہوریت، آئین، قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان میں سانس لے سکیں۔*