شہادت کا عظیم استعارہ: گروپ کیپٹن عاصم طارق کی لازوال قربانی”إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ”

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے کردار جنم لیتے ہیں جو صرف اپنے فرائض انجام نہیں دیتے بلکہ اپنی جرات، ایثار اور بے مثال قربانی سے آنے والی نسلوں کے لیے روشن مثال بن جاتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے بہادر افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق بھی انہی عظیم شخصیات میں شامل ہو گئے جنہوں نے ایک بے گناہ خاتون کی جان اور عزت کے تحفظ کے لیے اپنی جان وطن پر قربان کر دی۔آئی ایس پی آر کے مطابق اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں گروپ کیپٹن عاصم طارق نے ایک خاتون کو اغواء ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر مداخلت کی۔ انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اغواء کار کا مقابلہ کیا، مگر ملزم کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی یہ قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے سپوت صرف سرحدوں کے محافظ ہی نہیں بلکہ ہر شہری کے جان و مال اور عزت و وقار کے تحفظ کو بھی اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں۔گروپ کیپٹن عاصم طارق نے جس جرات، بہادری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک سچا سپاہی ہر لمحہ اپنے وطن اور اپنے ہم وطنوں کی حفاظت کے لیے تیار رہتا ہے، خواہ اس کے لیے اپنی جان ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑے۔ ایسے لوگ قوموں کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی قربانیاں معاشرے میں امن، انصاف اور انسانیت کے اعلیٰ ترین اصولوں کو زندہ رکھتی ہیں۔آج جب معاشرے میں جرائم، اغواء اور تشدد جیسے سنگین مسائل بڑھ رہے ہیں، ایسے میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے حق اور انصاف کا ساتھ دینا ہی حقیقی بہادری ہے۔ ان کی قربانی نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے قابلِ فخر باب ہے، جو ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے گا۔اس افسوسناک سانحے پر پورا ملک سوگوار ہے۔ عوامی، سماجی، مذہبی اور سیاسی حلقوں نے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانی کو انسانیت کی خدمت کی اعلیٰ مثال قرار دیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے اور قوم کو ایسے بہادر، مخلص اور فرض شناس سپوت عطا کرتا رہے۔بلاشبہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت یہ پیغام دیتی ہے کہ وطن سے محبت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل، کردار، ایثار اور قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔ قوم اپنے اس عظیم شہید کو ہمیشہ سلام پیش کرتی رہے گی اور ان کی بہادری، فرض شناسی اور انسانیت کے لیے دی گئی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔*