جوہر آباد کا سہیل، بھلوال اور سرگودہا سے ہوتا ہوا لاہور کیسے پہنچا اور سہیل وڑائچ کیسے بنا؟

تحریر ۔۔ محمد زاہد مجید انور

*زندگی کی کامیابیاں اکثر ایک ہی دن میں انسان کے قدم نہیں چومتیں بلکہ ان کے پیچھے برسوں کی جدوجہد، محرومیاں، تجربات، تنہائی، تربیت اور ایسے فیصلے ہوتے ہیں جن کا اصل نتیجہ انسان کو بہت بعد میں سمجھ آتا ہے۔ بعض اوقات والدین کی طرف سے کیا گیا ایک فیصلہ بظاہر اولاد کے لیے مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی فیصلہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت ثابت ہوتا ہے۔ معروف صحافی، تجزیہ نگار اور کالم نگار سہیل وڑائچ کی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔جوہر آباد کا ایک عام سا لڑکا، جسے اس کے والد نے ساتویں جماعت میں ہی گھر کے آرام و آسائش سے نکال کر بھلوال بھیج دیا،وہ چک چھ شمالی میں رہتا تھا،آگے چل کر صحافت کی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام بناتا ہے اور پھر لاہور پہنچ کر سہیل وڑائچ کے نام سے ایک ایسی شناخت قائم کرتا ہے جسے ملک بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہ سفر محض جوہر آباد سے بھلوال، بھلوال سے سرگودہا اور سرگودہا سے لاہور تک کا جغرافیائی سفر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسے نوجوان کی شخصیت سازی کا سفر تھا جس نے زندگی کے مختلف رنگ قریب سے دیکھے، محرومیوں کو محسوس کیا، تنہائی سے دوستی کی، کتابوں سے رشتہ جوڑا، اساتذہ سے سیکھا اور پھر اپنے قلم کو اپنی شناخت بنا لیا۔سہیل وڑائچ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے جب ان کے والد نے انہیں بھلوال بھجوا دیا۔ والد صاحب کی وہاں کچھ اساتذہ سے راہ و رسم تھی، چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ان کی نگرانی میں دے دیا۔ اس دور میں نہ آج جیسی سہولیات تھیں اور نہ ہی بچوں کے لیے ہر قدم پر والدین کی موجودگی۔ سہیل وڑائچ اپنی رہائش گاہ سے تقریباً چار کلومیٹر دور سکول تک سائیکل چلا کر جایا کرتے تھے۔یہ بظاہر ایک معمولی بات ہے، مگر یہی چھوٹے چھوٹے تجربات انسان کے اندر خود انحصاری پیدا کرتے ہیں۔ راستے کی دھول، سائیکل کی سواری، سکول کی مسافت، نئے شہر میں رہائش اور گھر سے دوری، یہ سب مل کر ایک ایسے بچے کی شخصیت تراش رہے تھے جسے آنے والے وقت میں بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا تھا۔سہیل وڑائچ کے والد اور ان کے درمیان ایک خاص فاصلہ تھا۔ باپ بیٹے کے تعلق میں لاڈ پیار کی وہ فراوانی نہیں تھی جو عام طور پر اکلوتے بیٹے کو نصیب ہوتی ہے۔ سہیل اپنی والدہ کے لعل ضرور تھے، مگر والد کے سینے سے لگنے کی خواہش ان کے دل میں ہمیشہ موجود رہی۔ بظاہر یہ محرومی تھی، مگر شاید یہی محرومی بعد میں ان کے اندر وہ حساسیت پیدا کرنے کا سبب بنی جس نے انہیں انسانی جذبات، معاشرتی رویوں اور زندگی کے مختلف کرداروں کو سمجھنے والا صحافی بنایا۔بھلوال اس زمانے میں ایک پسماندہ شہر تصور ہوتا تھا۔ یہ ستر کی دہائی کا زمانہ تھا اور شہر میں بجلی کی سہولت میسر تھی۔لیکن وہ چک چھ شمالی میں رہتے تھے جو تقریباً تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے،آج کے نوجوان کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ ایک طالب علم ایسے ماحول میں کس طرح تعلیم حاصل کرتا ہوگا۔ مگر سہیل وڑائچ نے حالات سے شکوہ کرنے کے بجائے انہیں زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کیا۔انہوں نے بھلوال میں تقریباً تین سال گزارے۔ پھر میٹرک کے بعد انہوں نے خود فیصلہ کیا کہ اب سرگودہا جانا ہے۔یہ فیصلہ ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا سرگودہا پہنچ کر سہیل وڑائچ نے گورنمنٹ کالج میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار شروع کیا۔ یہاں انہیں ایسے اساتذہ میسر آئے جنہوں نے ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔ وہ ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور تقریباً ہر ادبی محفل کے جنرل سیکرٹری ہوا کرتے تھے۔سرگودہا کے انہی دنوں نے سہیل وڑائچ کے اندر موجود ادیب، دانشور، مبصر اور صحافی کو شکل دینا شروع کی۔ کالج کی فضا، اساتذہ کی رہنمائی، ادبی محفلیں، کتابیں، دوستوں کی صحبت اور گفتگو کے مواقع نے ان کی شخصیت کو وہ بنیاد فراہم کی جس پر بعد میں ان کا پورا صحافتی سفر استوار ہوا۔سہیل وڑائچ خود سرگودہا میں گزارے ہوئے دنوں کو اپنی زندگی کے خوبصورت ترین دن قرار دیتے ہیں۔ ان یادوں میں صرف تعلیم اور ادب ہی نہیں بلکہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی شامل ہیں۔انہوں نے سرگودہا کے بازار میں پہلی بار ملک شیک پیا۔ اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت لباس سمارٹ ٹیلرز سے سلوایا۔ سب سے خوبصورت اور مہنگی جوتی شوز پیلس سے خریدی۔ سٹائل بروسٹ سے پہلی بار چرغہ کھایا۔ نعمت کدہ اور کلیار ہوٹل کے کھانوں کی جو لذت انہوں نے سرگودہا میں محسوس کی، وہ بعد میں دنیا بھر کے مختلف ہوٹلوں میں کھانے کے باوجود انہیں کہیں دوبارہ محسوس نہ ہوئی۔یہ یادیں دراصل صرف کھانے، کپڑوں اور بازاروں کی یادیں نہیں بلکہ جوانی کے اس دور کی یادیں ہیں جب انسان پہلی مرتبہ اپنی ذات کو دریافت کرتا ہے، اپنی پسند ناپسند سمجھتا ہے، دوست بناتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور مستقبل کے راستے تلاش کرتا ہے۔سرگودہا نے سہیل وڑائچ کو صرف تعلیم نہیں دی بلکہ انہیں زندگی کا شعور دیا۔ یہاں کے قابل اساتذہ نے ان کی فکری تربیت کی، ادبی ماحول نے ان کی سوچ کو وسعت دی اور معاشرتی تجربات نے ان کے مشاہدے کو گہرا کیا۔آج جب سہیل وڑائچ اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہیں تو شاید انہیں اپنے والد کا وہ فیصلہ بھی ایک نئی روشنی میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر والد انہیں حد سے زیادہ لاڈلا بیٹا بنا کر رکھتے، اپنے ہاتھ کے چھالے کی طرح سنبھال کر رکھتے، ہر مشکل سے بچاتے اور دنیا کی گرم و سرد ہواؤں سے روشناس ہونے کے لیے دوسرے شہروں میں نہ بھیجتے تو شاید وہ آج وہ سہیل وڑائچ نہ ہوتے جنہیں پاکستان بھر میں ایک بڑے صحافی اور معتبر کالم نگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔بعض اوقات والدین کی سختی دراصل محبت کی ایک ایسی شکل ہوتی ہے جسے اولاد اس وقت نہیں سمجھ پاتی۔ بچے کو خود کھڑا ہونے کا موقع دینا، اسے مشکلات کا سامنا کرنے دینا، اسے نئے ماحول میں بھیجنا اور اسے اپنی صلاحیتیں خود دریافت کرنے دینا بظاہر مشکل فیصلہ ضرور ہوتا ہے، مگر یہی فیصلے شخصیت کو مضبوط بناتے ہیں۔سہیل وڑائچ کا سفر ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ بڑے نام ہمیشہ بڑے شہروں میں پیدا نہیں ہوتے۔ جوہر آباد کا سہیل پہلے بھلوال کی گلیوں میں سائیکل چلاتا ہے، پھر سرگودہا کے تعلیمی اور ادبی ماحول میں اپنی شناخت بناتا ہے اور بالآخر لاہور پہنچ کر قومی صحافت کے افق پر اپنا نام روشن کرتا ہے۔یہ سفر ایک ایسے نوجوان کی داستان ہے جس نے حالات کا انتظار نہیں کیا بلکہ حالات سے سیکھا۔ محرومیوں کو کمزوری نہیں بننے دیا، فاصلے کو رکاوٹ نہیں سمجھا اور مواقع کا انتظار کرنے کے بجائے انہیں تلاش کیا۔آج سہیل وڑائچ کا نام پاکستان کی صحافت میں ایک معتبر حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی گفتگو میں سادگی، تحریر میں مشاہدہ، تجزیے میں گہرائی اور ماضی کی یادوں میں ایک خاص انسانی لمس محسوس ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے زندگی کو صرف بڑے شہروں کے آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر نہیں دیکھا بلکہ بھلوال کی سڑکوں پر سائیکل چلا کر، سرگودہا کے بازاروں میں گھوم کر، کالج کی ادبی محفلوں میں بیٹھ کر اور پھر لاہور کی صحافتی دنیا میں قدم قدم پر آگے بڑھ کر محسوس کیا ہے۔سہیل وڑائچ کی کہانی دراصل ہر اس نوجوان کے لیے ایک پیغام ہے جو سمجھتا ہے کہ محدود وسائل اس کی منزل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وسائل انسان کو سہولت دے سکتے ہیں، لیکن کامیابی کی اصل بنیاد محنت، خود اعتمادی، مطالعہ، مشاہدہ، اچھے اساتذہ اور مسلسل جدوجہد ہے۔جوہر آباد سے نکلنے والا سہیل آج سہیل وڑائچ ہے تو اس کے پیچھے صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ والدین کے فیصلوں، اساتذہ کی تربیت، شہروں کے تجربات، دوستوں کی رفاقت، محرومیوں کی آگ اور خوابوں کی وہ روشنی ہے جس نے اسے آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔زندگی کے سفر میں بعض راستے ہمیں اس وقت اچھے نہیں لگتے، مگر منزل پر پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ یہی راستے ہمیں وہاں لے جانے کے لیے ضروری تھے۔شاید سہیل وڑائچ کے والد کا سب سے بڑا تحفہ بھی یہی تھا کہ انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو زندگی کے راستوں پر اکیلا چلنا سکھایا؛ اور وہی اکلوتا بیٹا آج لاکھوں قارئین کے لیے الفاظ، خیالات اور تجزیے کی ایک معتبر آواز بن چکا ہے۔*