معروف چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عثمان؛ بچوں کی صحت و تندرستی کے لیے مثالی طبی خدمات، پیشہ ورانہ مہارت اور انسان دوستی کا حسین امتزاج

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ: صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت اور انسانی خدمت کا وہ میدان ہے جہاں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ احساسِ ذمہ داری، ہمدردی اور انسان دوستی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ خصوصاً بچوں کی بیماریوں کا علاج ایک ایسا حساس شعبہ ہے جہاں ڈاکٹر کے لیے طبی علم کے ساتھ صبر، شفقت اور والدین کی پریشانی کو سمجھنے کی صلاحیت بھی بے حد ضروری ہوتی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بچوں کے علاج اور صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے ڈاکٹر محمد عثمان، معروف چلڈرن اسپیشلسٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے باعث قابلِ ذکر مقام رکھتے ہیں۔بچوں کی صحت دراصل پورے خاندان کے سکون اور معاشرے کے روشن مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک صحت مند بچہ ہی آگے چل کر صحت مند، توانا اور ذمہ دار شہری بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے ماہر ڈاکٹر کی ذمہ داریاں عام طبی خدمات سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہیں۔ بچے اپنی تکلیف ہمیشہ الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، اس لیے ایک ماہر اطفال کو علامات، رویوں اور جسمانی کیفیت کو باریک بینی سے سمجھ کر درست تشخیص تک پہنچنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر محمد عثمان کا شعبہ بھی اسی حساس اور اہم ذمہ داری سے وابستہ ہے۔ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع کے عوام کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں مختلف علاقوں سے مریض علاج کی غرض سے رجوع کرتے ہیں۔ ایسے بڑے سرکاری ہسپتال میں بچوں کے مریضوں کی دیکھ بھال یقیناً ایک اہم اور ذمہ دارانہ فریضہ ہے۔ ڈاکٹر محمد عثمان جیسے ماہر اور ذمہ دار طبی معالج نہ صرف بچوں کے علاج میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ والدین کو بیماری، احتیاط، ادویات اور آئندہ کی دیکھ بھال کے حوالے سے رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔بچوں کے علاج میں بروقت تشخیص خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ معمولی نظر آنے والی علامات بعض اوقات کسی پیچیدہ بیماری کی ابتدائی نشانی بھی ہو سکتی ہیں۔ بخار، سانس کی تکلیف، کھانسی، معدے کے مسائل، کمزوری، غذائی کمی اور موسمی بیماریوں سمیت بچوں کو لاحق مختلف طبی مسائل میں والدین کے لیے درست وقت پر ماہر اطفال سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ایسے حالات میں ایک قابل اعتماد بچوں کے ڈاکٹر کی موجودگی والدین کے لیے اطمینان کا باعث بنتی ہے۔ڈاکٹر محمد عثمان کی پیشہ ورانہ شخصیت کا ایک اہم پہلو بچوں کے ساتھ شفقت اور والدین کے ساتھ ہمدردانہ رویہ بھی ہے۔ طب صرف بیماری کا نام جاننے اور دوا تجویز کرنے کا نام نہیں بلکہ مریض اور اس کے خاندان کو اعتماد دینے کا فن بھی ہے۔ خاص طور پر جب مریض کوئی معصوم بچہ ہو تو والدین کی پریشانی فطری ہوتی ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر کا مطمئن انداز، توجہ سے معائنہ اور مناسب رہنمائی والدین کے حوصلے میں اضافہ کرتی ہے۔موجودہ دور میں بچوں کی صحت کے حوالے سے والدین کو بھی زیادہ باشعور ہونے کی ضرورت ہے۔ متوازن غذا، بروقت ویکسینیشن، صفائی ستھرائی، صاف پانی، مناسب نیند اور بیماری کی صورت میں بروقت طبی معائنہ بچوں کو کئی پیچیدہ مسائل سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ماہرینِ اطفال کی ذمہ داری صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کے حوالے سے والدین کی رہنمائی بھی طبی خدمت کا اہم حصہ ہے۔سرکاری ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر کے لیے مریضوں کی تعداد، محدود وسائل اور مختلف نوعیت کے طبی مسائل ایک بڑا چیلنج ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر ڈاکٹر اپنے فرائض کو خلوص، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اصولوں کے ساتھ انجام دے تو یہی خدمت عوام کے دلوں میں احترام پیدا کرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد عثمان بھی اسی شعبۂ طب سے وابستہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں جن کی خدمات کو بچوں کی صحت کے تناظر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے ضلع میں بچوں کے ماہر ڈاکٹروں کی خدمات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہاں دیہی اور شہری علاقوں سے بڑی تعداد میں خاندان اپنے بچوں کے علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں سے رجوع کرتے ہیں۔ ایک ماہر اطفال کی موجودگی نہ صرف مریض بچوں کے لیے سہولت کا باعث بنتی ہے بلکہ والدین کو بھی مقامی سطح پر معیاری طبی رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ طب ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس میں ڈاکٹر کا اصل سرمایہ مریض کا اعتماد ہوتا ہے۔ سفید کوٹ پہننے والا معالج جب کسی بیمار بچے کو صحت یاب دیکھتا ہے تو یہ اس کے لیے کسی بھی اعزاز سے بڑھ کر خوشی ہوتی ہے۔ بچوں کے چہروں پر صحت کی واپسی اور والدین کے چہروں پر اطمینان دراصل ایک ڈاکٹر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ڈاکٹر محمد عثمان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صحت کے شعبہ میں ایسے معالج معاشرے کے لیے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو انسانی خدمت کے جذبے سے جوڑتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ڈاکٹرز کی مثبت خدمات کو اجاگر کیا جائے اور عوام کو بھی صحت کے حوالے سے درست اور مستند طبی رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ بچوں کی صحت دراصل قوم کے مستقبل کی صحت ہے۔ جو معاشرہ اپنے بچوں کی صحت، تعلیم اور تربیت پر توجہ دیتا ہے وہی مضبوط اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد عثمان جیسے ماہرینِ اطفال اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے اسی روشن مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے اور انہیں دکھی انسانیت خصوصاً معصوم بچوں کی خدمت کا یہ عظیم سفر مزید اخلاص اور توانائی کے ساتھ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔*