موت ایک اٹل حقیقت ہے

تحریر: محمد ذیشان بٹ

“موت ایک اٹل حقیقت ہے۔”
یہ وہ جملہ ہے جو ہم اپنی زندگی میں بے شمار مرتبہ سنتے بھی ہیں اور دوسروں کو کہتے بھی ہیں، مگر شاید اس پر سب سے کم غور کرتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر نظریے، ہر مذہب اور ہر فکر سے تعلق رکھنے والا انسان، حتیٰ کہ خدا کے وجود کا انکار کرنے والا بھی، موت کی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔ اختلاف صرف اس بات پر ہو سکتا ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا، لیکن یہ حقیقت سب مانتے ہیں کہ جو اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک دن واپس جانا ہے۔
ہم آئے روز اپنے اردگرد لوگوں کو رخصت ہوتے دیکھتے ہیں۔ کبھی کوئی عزیز، کبھی دوست، کبھی استاد اور کبھی پڑوسی۔ ہر جنازہ ہمیں خاموش زبان میں یہی پیغام دیتا ہے کہ آج اس کی باری تھی، کل میری بھی ہو سکتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جنازے سے واپسی پر ہم چند لمحوں کے لیے تو سنجیدہ ہوتے ہیں، مگر پھر دنیا کی مصروفیات ہمیں دوبارہ اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔
کل ہمارے ڈی پی ایس راولپنڈی کے نہایت خاموش طبع، بااخلاق اور شفیق ساتھی سر واجد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے جنازے میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔وہاں موجود ہر شخص سر واجد کے بااخلاق ، کم گو اور شریف انسان ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔جنازے سے پہلے ہمارے مخلص ساتھی اور ڈی پی ایس کی مسجد کے خطیب، قاری توصیف صاحب نے چند مختصر مگر دل میں اتر جانے والی باتیں کہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ جنازہ ہم سب کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ دنیا کی رونقوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرو، کیونکہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہر گزرا ہوا لمحہ حسرت بن جائے گا۔
یہ الفاظ سنتے ہوئے مجھے اپنے استادِ محترم حضرت مولانا ابو حفص طاہر کلیم صاحب کی نصیحت یاد آگئی۔ وہ اکثر جنازہ پڑھانے سے پہلے فرمایا کرتے ہیں کہ اگر سامنے رکھا ہوا یہ جنازہ بھی تمہیں نصیحت نہیں دے رہا تو میرے الفاظ بھی تم پر کوئی اثر نہیں کریں گے۔ حقیقت یہی ہے کہ موت سے بڑی نصیحت کوئی نہیں۔
کچھ عرصہ پہلے ایک قبرستان کے باہر لکھا ہوا ایک جملہ پڑھا جو آج تک ذہن سے محو نہیں ہوا:
” قبرستان ان لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ دنیا ہمارے بغیر نہیں چل سکتی۔”
واقعی انسان کس قدر غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر سب کچھ رک جائے گا، حالانکہ دنیا نہ کسی کے آنے سے رکی اور نہ کسی کے جانے سے رکتی ہے۔ ہر شخص اپنی مدت پوری کرکے چلا جاتا ہے اور دنیا اپنے سفر پر رواں رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
“تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں آ پکڑے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو۔”
یہ آیات انسان کے غرور کو توڑنے کے لیے کافی ہیں۔ دولت، اقتدار، شہرت، خوبصورتی، طاقت اور تعلقات، سب اسی دنیا تک محدود ہیں۔ جب موت آتی ہے تو انسان صرف اپنے اعمال کے ساتھ قبر میں اترتا ہے۔
میرے آپ کے پیر و مرشد جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔”
ایک اور موقع پر فرمایا:
“دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم ایک مسافر ہو یا راستہ چلنے والے۔”
یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا ہماری مستقل رہائش نہیں بلکہ ایک مختصر قیام گاہ ہے۔ مسافر راستے کی خوبصورتی سے لطف تو لیتا ہے مگر اسے اپنا گھر نہیں بنا لیتا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم موت کو یاد رکھنے میں بے مثال تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوجاتی۔ لوگوں نے پوچھا کہ جنت اور جہنم کا ذکر سن کر اتنا نہیں روتے، قبر دیکھ کر کیوں روتے ہیں؟ فرمایا کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر یہاں کامیابی مل گئی تو آگے کا سفر آسان ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ راتوں کو اٹھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کرتے اور خود سے سوال کرتے کہ اگر آج میرا رب مجھ سے حساب لے تو میرے پاس کیا جواب ہوگا؟ یہی احساسِ جواب دہی انہیں عدل و انصاف کا عظیم نمونہ بناتا تھا
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا پیٹھ پھیر کر جا رہی ہے اور آخرت ہماری طرف بڑھ رہی ہے، لہٰذا آخرت کے طلبگار بنو، دنیا کے غلام نہ بنو۔
اصل مسئلہ دنیا نہیں بلکہ دنیا کی محبت ہے۔ یہی محبت انسان کو غفلت میں ڈال دیتی ہے۔ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف زیادہ کمانا، اچھا کھانا، نئے کپڑے پہننا، بڑی گاڑی لینا اور خریداری کرتے رہنا ہے۔ یہ سب چیزیں اپنی جگہ جائز ہیں، مگر جب یہی زندگی کا مقصد بن جائیں تو انسان اصل کامیابی سے دور ہو جاتا ہے۔
جو لوگ زندگی کا مقصد سمجھ لیتے ہیں وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر لفظ لکھا جا رہا ہے، ہر عمل محفوظ ہو رہا ہے اور ہر لمحہ ایک دن حساب کی صورت میں سامنے آئے گا۔ جبکہ مقصد سے خالی لوگ دنیا کی چکاچوند میں ایسے گم ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنی آخری منزل یاد ہی نہیں رہتی۔
موت خوف کا نام نہیں بلکہ تیاری کا نام ہے۔ خوف اس شخص کو ہوتا ہے جس نے زندگی بے مقصد گزاری ہو، جبکہ امید اس شخص کے دل میں ہوتی ہے جس نے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کی ہو، لوگوں کے حقوق ادا کیے ہوں اور اپنی زندگی کو نیکیوں سے سجایا ہو۔
آج میں اور آپ خود سے ایک سوال کریں۔ اگر آج ہمیں بھی اس دنیا سے رخصت ہونا پڑ جائے تو کیا ہمارے اعمال، ہمارے اخلاق، ہماری عبادات اور لوگوں کے ساتھ ہمارا رویہ ہمارے حق میں گواہی دیں گے؟ اگر جواب تسلی بخش نہیں تو ابھی وقت ہے۔ زندگی باقی ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے، نیکی کا راستہ موجود ہے اور اللہ کی رحمت ہماری امید سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
شاید اسی لیے اہلِ دانش کہتے ہیں کہ عقلمند وہ نہیں جو موت سے بچنے کی کوشش کرے، بلکہ عقلمند وہ ہے جو موت سے پہلے اپنی آخرت سنوار لے۔ کیونکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر اس کے بعد کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ آج کی زندگی کرتی ہے۔ اللّٰہ پاک سے دعا ہے کہ اللّٰہ پاک ہمارے م اور ساتھی سر واجد کی مغفرت فرمائے آخرت کی منزلیں آسان فرمائے