طاہر خان بلوچ اور امیر عباس خان بلوچ — مخلص ساتھیوں کی قدر کا ایک مثبت پیغام
تحریر: ملک سمیع اللہ کھوکھر
احمد پور سیال کی مقامی سیاست اور سماجی منظرنامے میں بعض خاندان صرف ووٹ بینک کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے طویل سماجی تعلق، باہمی اتحاد اور عزت و احترام کے باعث بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہی خاندانوں میں طاہر خان بلوچ کا خاندان بھی ایک اہم نام سمجھا جاتا ہے۔
مقامی سطح پر اس خاندان کو بلوچ برادری کے ایک مضبوط اور متحد حلقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ طاہر خان بلوچ خود میونسپل کمیٹی احمد پور سیال کے وائس چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے خاندان کی سماجی اہمیت میں ان کے چچا ڈاکٹر اسلم خان بلوچ کا بھی ایک نمایاں کردار رہا ہے، جس کے باعث اس خاندان کو احمد پور سیال میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
گزشتہ عام انتخابات کے سیاسی پس منظر میں جب امیر عباس خان سیال اور مولانا آصف معاویہ سیال کے درمیان سیاسی اتحاد سامنے آیا تو طاہر خان بلوچ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اس سیاسی صف بندی کا کھل کر ساتھ دیا۔ یہ تعلق محض انتخابی موسم تک محدود رہنے کے بجائے سیاسی وابستگی اور باہمی اعتماد کی ایک مثال کے طور پر بھی دیکھا گیا۔
یہ تو ماضی کی باتیں ہیں۔
آج ایک بورڈ پر نظر پڑی تو ذہن میں ایک مثبت سیاسی تاثر پیدا ہوا۔
اگر طاہر خان بلوچ کے علاقے میں سڑکوں سے متعلق ترقیاتی کام کو اسی سیاسی وابستگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسے پیغام کی صورت اختیار کرتا ہے کہ سیاسی قیادت اپنے پرانے، مخلص اور مشکل وقت کے ساتھیوں کو بھی اپنی ترجیحات میں جگہ دے سکتی ہے۔
میرے نزدیک سیاست میں صرف بڑے دعوے اہم نہیں ہوتے، بلکہ ساتھیوں کی قدر، تعلق نبھانا اور اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل کو ترجیح دینا بھی سیاسی اعتماد کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امیر عباس خان سیال کی سیاست کے حوالے سے اگر آئندہ بھی یہی طرزِ عمل نظر آتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات میں ان علاقوں اور لوگوں کو بھی ترجیح دی جائے جو طویل عرصے سے ان کے ساتھ سیاسی و سماجی تعلق رکھتے ہیں، تو یہ ان کی سیاست میں ایک اہم مثبت پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے۔
بالخصوص احمد پور سیال جیسے علاقے میں جہاں سیاسی تعلقات کے ساتھ ساتھ خاندانی اور سماجی روابط بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، مخلص ساتھیوں کی قدر اور عوامی مسائل کا حل سیاسی رابطے کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
وقت ہی بتائے گا کہ یہ طرزِ سیاست مستقبل میں کس حد تک آگے بڑھتا ہے، لیکن آج نظر آنے والا یہ قدم کم از کم ایک مثبت پیغام ضرور دیتا ہے:
جو لوگ مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہیں، ان کے علاقوں اور مسائل کو بھی ترجیح ملنی چاہیے۔ یہی سیاسی رفاقت کو عملی خدمت میں بدلنے کا راستہ ہے۔
تحریر: ملک سمیع اللہ کھوکھر
Founder & Chief Reporter — Sami News Network (SNN)













