جھنگ کی نامور شخصیات — پروفیسر ڈاکٹر ارشاد حسین

احمد پور سیال کے ایک گاؤں سے نینو سائنس کے عالمی تحقیقی اداروں تک

پروفیسر ڈاکٹر ارشاد حسین کا تعلق موضع سدھانہ، احمد پور سیال، ضلع جھنگ سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی اسی خطے میں ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے ملتان سے اعلیٰ تعلیم کا سفر آگے بڑھایا اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے کیمسٹری میں MSc کیا۔ بعد میں University of Liverpool, UK سے 2005 میں کیمسٹری میں PhD مکمل کی، جہاں ان کی تحقیق metal nanoparticles پر مرکوز تھی۔

ڈاکٹر ارشاد حسین کا شمار پاکستان میں Nanomaterials اور Nanotechnology کے شعبے میں کام کرنے والے نمایاں سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ وہ LUMS کے Syed Babar Ali School of Science and Engineering کے ابتدائی فیکلٹی اراکین میں شامل رہے اور وہاں کیمسٹری کے شعبے کی تشکیل و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی سائنسی خدمات پر Pakistan Academy of Sciences نے انہیں 2007 میں Prof. Dr. Atta-ur-Rahman Gold Medal in Chemistry اور 2014 میں PAS Gold Medal in Chemistry سے نوازا۔ دونوں اعزازات کی تصدیق پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے اپنے ریکارڈ سے ہوتی ہے۔

ان کا سفر آج بھی جاری ہے۔ 2026 میں چین کے National Center for Nanoscience and Technology نے انہیں پاکستان کے National Center for Nanoscience and Nanotechnology (NCNN) کا Director اور LUMS کا Professor قرار دیا۔ جولائی 2026 میں ان کی قیادت میں پاکستانی وفد نے چین کے NCNST کے ساتھ nanotechnology میں مشترکہ تحقیق اور تعاون کے لیے معاہدہ بھی کیا۔

موضع سدھانہ سے شروع ہونے والا یہ تعلیمی سفر اس بات کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ جھنگ کے دیہی علاقوں سے نکلنے والے لوگ عالمی سطح پر سائنس اور تحقیق میں بھی اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔

کیا آپ ڈاکٹر ارشاد حسین کے بارے میں پہلے جانتے تھے؟ خصوصاً احمد پور سیال اور موضع سدھانہ کے دوست، اگر ان کے بارے میں مزید معلومات یا یادیں رکھتے ہیں تو کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

جھنگ ٹائمز — جھنگ کی بات، جھنگ کے ساتھ