پیار و محبت سے مسائل حل ہوتے ہیں، بدمعاشی سے نہیں

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ زندگی چند روزہ ہے، اس لیے اسے نفرت، انا، ضد، غصے، بدتمیزی اور بدمعاشی کی نذر کرنے کے بجائے پیار، محبت، برداشت، خلوص اور انسانیت کے ساتھ گزارنا ہی دانشمندی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جسے گفت و شنید، حسنِ اخلاق اور باہمی احترام کے ذریعے حل نہ کیا جا سکتا ہو، مگر افسوس کہ بعض لوگ معمولی معاملات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر تعلقات خراب کرنے اور ماحول میں کشیدگی پیدا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔حقیقت یہ ہے کہ پیار اور محبت سے بڑے سے بڑا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، لیکن بدمعاشی، دھونس اور طاقت کے اظہار سے مسائل ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے ہیں۔ کسی کو دبانا، دھمکانا یا اپنی طاقت کا رعب جمانا وقتی طور پر شاید کامیابی محسوس ہو، مگر اس کے نتیجے میں دلوں میں فاصلے، نفرت اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ہمارے معاشرے میں ایک جملہ طنزیہ انداز میں بولا جاتا ہے: “سو گنڈا، سو چھتر”۔ اس محاورے میں دراصل ایسے رویے کی طرف اشارہ ہے جہاں انسان اپنی طاقت، سخت مزاجی یا دھونس کو مسئلے کا حل سمجھ بیٹھتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر زندگی کا مقصد ہر معاملے میں لڑائی، جھگڑا، ضد اور طاقت کا مظاہرہ ہی رہ جائے تو پھر ایسی زندگی کا فائدہ کیا؟ انسان کو اپنی طاقت کا نہیں بلکہ اپنے کردار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اصل بہادری یہ نہیں کہ انسان کسی کمزور کو دبا دے یا کسی کو خوفزدہ کر دے۔ اصل بہادری تو یہ ہے کہ انسان غصے کے وقت خود پر قابو رکھے، اختیار ہونے کے باوجود درگزر کرے، اختلاف رکھنے والے کی بات سنے اور اپنے مخالف کے ساتھ بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ یہی وہ رویہ ہے جو انسان کو دوسروں کے دلوں میں عزت دیتا ہے۔رشتے بھی طاقت سے نہیں بلکہ محبت سے قائم رہتے ہیں۔ خاندان ہو، دوست ہوں، کاروباری تعلقات ہوں یا معاشرتی روابط، ہر جگہ نرم رویہ، برداشت اور ایک دوسرے کا احترام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بعض اوقات ایک نرم جملہ وہ کام کر دیتا ہے جو سخت الفاظ، دھمکی اور غصہ کبھی نہیں کر سکتے۔ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں ہر شخص ہماری سوچ کے مطابق نہیں چل سکتا۔ اختلافِ رائے زندگی کا حصہ ہے۔ ضروری نہیں کہ جو شخص ہم سے اختلاف کرے وہ ہمارا دشمن ہو۔ اختلاف کو دشمنی بنا دینا ہماری اپنی کمزوری ہے۔ باشعور انسان اختلاف کو برداشت کرتا ہے، دلیل سے بات کرتا ہے اور مسئلے کا ایسا حل تلاش کرتا ہے جس میں کسی کی تذلیل نہ ہو۔آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت برداشت، رواداری اور محبت کی ہے۔ اگر گھروں میں محبت ہوگی تو خاندان مضبوط ہوں گے، اگر معاشرے میں برداشت ہوگی تو جھگڑے کم ہوں گے، اگر اداروں میں حسنِ اخلاق ہوگا تو عوام اور افسران کے درمیان اعتماد بڑھے گا اور اگر سیاسی و سماجی اختلافات میں شائستگی کو فروغ دیا جائے گا تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔زندگی بہت مختصر ہے۔ نہ دولت ہمیشہ ساتھ رہتی ہے، نہ عہدہ، نہ طاقت اور نہ ہی دنیاوی رعب و دبدبہ۔ انسان کے ساتھ آخرکار اس کا کردار، اس کی نیکی، اس کا حسنِ سلوک اور لوگوں کے دلوں میں اس کی اچھی یاد باقی رہتی ہے۔ اس لیے ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم لوگوں کے دل جیتنا چاہتے ہیں یا انہیں خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔پیار بانٹیں گے تو محبت ملے گی، عزت دیں گے تو عزت ملے گی اور برداشت کریں گے تو معاشرہ بھی برداشت کا راستہ اختیار کرے گا۔ بد معا شی سے شاید وقتی طور پر کسی کو خاموش کرایا جا سکتا ہے، مگر دل نہیں جیتے جا سکتے۔ دل ہمیشہ محبت، خلوص اور اچھے کردار سے جیتے جاتے ہیں۔لہٰذا ہمیں اپنی زندگی کا اصول یہی بنانا چاہیے کہ مسائل کو طاقت سے نہیں، محبت سے حل کریں؛ لوگوں کو دبائیں نہیں بلکہ سمجھائیں؛ نفرت کو بڑھائیں نہیں بلکہ محبت کو فروغ دیں۔ کیونکہ آخرکار سوال یہی رہ جاتا ہے کہ اگر انسان نے ساری زندگی صرف گنڈے، چھتر، دھونس اور انا میں گزار دی تو ایسی زندگی کا فائدہ کیا؟زندگی خوبصورت ہے، اسے محبت، انسانیت اور اچھے اخلاق کے ساتھ گزاریں۔ یہی کامیابی ہے، یہی اصل بہادری ہے اور یہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بھی۔*