ڈاکٹر حنا ظفر، محنت اور عزم سے پہچان بنانے والی دبنگ خاتون افسر

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*کسی بھی ادارے کی کامیابی میں باصلاحیت، محنتی، فرض شناس اور باکردار افسران کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سرکاری اداروں میں ایسے افسران جو اپنی ذمہ داریوں کو محض ملازمت نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ اپنی کارکردگی اور طرزِ عمل سے نہ صرف ادارے کا وقار بلند کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے بھی ایک منفرد مقام پیدا کرتے ہیں۔ محکمہ لائیو سٹاک میں خدمات انجام دینے والی ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر حنا ظفر بھی انہی محنتی، قابل اور باصلاحیت افسران میں شمار ہوتی ہیں۔ڈاکٹر حنا ظفر کا تعلق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ سے ہے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، انتظامی گرفت، محنت اور ذمہ دارانہ رویہ انہیں ایک نمایاں مقام عطا کرتا ہے۔ ایک خاتون افسر کی حیثیت سے مختلف انتظامی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانا بلاشبہ قابلِ تحسین امر ہے۔ڈاکٹر حنا ظفر کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کا دبنگ مگر ذمہ دارانہ انتظامی انداز ہے۔ وہ اپنے فرائض میں سنجیدگی، نظم و ضبط اور میرٹ کو اہمیت دیتی ہیں۔ سرکاری محکموں میں افسر کی اصل پہچان اس کی کرسی نہیں بلکہ اس کی کارکردگی ہوتی ہے، اور ڈاکٹر حنا ظفر نے اپنی محنت اور عملی کردار سے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک افسر اگر نیک نیتی، جذبۂ خدمت اور پیشہ ورانہ اہلیت کے ساتھ کام کرے تو وہ محدود وسائل کے باوجود نمایاں نتائج حاصل کرسکتا ہے۔محکمہ لائیو سٹاک کا شعبہ ملکی معیشت، دیہی آبادی اور خصوصاً مویشی پال کسانوں کی زندگی سے براہِ راست وابستہ ہے۔ پاکستان میں لاکھوں خاندان مویشی پالنے کے ذریعے اپنی روزی کماتے ہیں۔ ایسے میں جانوروں کی صحت، بیماریوں سے بچاؤ، ویکسینیشن، علاج معالجہ، افزائشِ نسل اور مویشی پال حضرات کی رہنمائی محکمہ لائیو سٹاک کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس شعبے میں افسران کی مؤثر نگرانی اور فیلڈ ٹیموں کی بہتر کارکردگی کسانوں اور مال مویشی رکھنے والے خاندانوں کے لیے براہِ راست فائدہ مند ثابت ہوتی ہےڈاکٹر حنا ظفر کی پیشہ ورانہ شخصیت اسی حوالے سے اہمیت رکھتی ہے کہ وہ انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے شعبے کی تکنیکی ضروریات کو بھی سمجھتی ہیں۔ ایک ویٹرنری ڈاکٹر کی حیثیت سے ان کا تجربہ اور پیشہ ورانہ پس منظر محکمہ لائیو سٹاک کی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔آج کے دور میں سرکاری افسر کے لیے صرف فائلوں پر دستخط کرنا کافی نہیں بلکہ اسے فیلڈ میں موجود مسائل کا ادراک، ماتحت عملے کی نگرانی، عوامی شکایات کا ازالہ اور حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ایک کامیاب افسر وہی ہے جو دفتر کی چار دیواری سے باہر نکل کر زمینی حقائق کو دیکھے اور اپنے محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ڈاکٹر حنا ظفر کا شمار ان افسران میں کیا جاتا ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے کے ساتھ ساتھ محنت اور قابلیت کو اپنی شناخت بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا دبنگ انداز دراصل انتظامی نظم و ضبط اور فرائض کی انجام دہی میں سنجیدگی کا عکاس ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری اداروں میں ایسے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے جو اپنے عہدے کو عوامی خدمت کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ادارے کی بہتری کے لیے عملی کردار ادا کرتے ہیں۔تحصیل گوجرہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر حنا ظفر کے لیے یہ امر بھی باعثِ اعزاز ہے کہ وہ اپنے علاقے کی ایک قابل اور باصلاحیت خاتون افسر کے طور پر شناخت رکھتی ہیں۔ کسی بھی علاقے کے لیے یہ خوش آئند بات ہوتی ہے کہ وہاں سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں اور اپنے علاقے کا نام روشن کریں۔عوامی خدمت کے موجودہ دور میں خواتین افسران کا کردار بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکا ہے۔ خواتین نہ صرف انتظامی معاملات میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کررہی ہیں بلکہ تعلیم، صحت، زراعت، لائیو سٹاک اور دیگر شعبہ جات میں بھی اپنی قابلیت منوا رہی ہیں۔ ڈاکٹر حنا ظفر اسی روشن روایت کی ایک مثال ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ لائیو سٹاک کے ذریعے مویشی پال حضرات کو جدید سہولیات، بروقت علاج، ویکسینیشن، بیماریوں سے بچاؤ اور افزائشِ نسل کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ دیہی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔ اس مقصد کے حصول میں ڈاکٹر حنا ظفر جیسے محنتی اور قابل افسران کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر حنا ظفر کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے، انہیں اپنے فرائض مزید بہتر انداز میں انجام دینے کی توفیق دے اور ان کی صلاحیتیں محکمہ لائیو سٹاک، مویشی پال کسانوں اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید ثابت ہوں۔ ایسے باصلاحیت اور فرض شناس افسران ہی کسی بھی ادارے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔*