ٹاؤٹ مافیا کا داخلہ مکمل بند، قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی: اسسٹنٹ کمشنر سردار محمد شفیق ڈوگر
عوام کو سرکاری معاملات میں براہِ راست رسائی اور میرٹ پر ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح ہے

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*سرکاری اداروں میں عوامی اعتماد کی بحالی اور شہریوں کو بلاواسطہ سہولیات کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری دفاتر میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ بالخصوص ایسے عناصر جو سائلین اور سرکاری افسران کے درمیان غیر ضروری واسطہ بن کر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسی حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ سردار محمد شفیق ڈوگر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دفتر میں ٹاؤٹ مافیا کا داخلہ مکمل طور پر بند ہے اور ایسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر سردار محمد شفیق ڈوگر کا یہ واضح اعلان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ سرکاری دفتر میں عوامی معاملات کو کسی غیر متعلقہ شخص کے ذریعے چلانے کے بجائے سائلین کو براہِ راست متعلقہ افسران اور عملے تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ شہریوں کے مسائل کا حل کسی سفارش، دباؤ یا غیر ضروری واسطے کے بجائے قانون، میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ٹاؤٹ مافیا کا کردار کسی بھی سرکاری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسے عناصر بعض اوقات سادہ لوح شہریوں کو سرکاری کام جلد کروانے، فائل آگے بڑھانے یا مسئلہ حل کرانے کے نام پر گمراہ کرتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف شہری مشکلات کا شکار ہوتے ہیں بلکہ سرکاری اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔اسسٹنٹ کمشنر کا یہ مؤقف قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی شخص کو محض تعلقات، سفارش یا غیر رسمی اثرورسوخ کی بنیاد پر سرکاری امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی شخص کی جانب سے غیر قانونی طریقے سے سرکاری معاملات میں مداخلت، شہریوں کو گمراہ کرنے یا کسی سرکاری اہلکار کے نام پر ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔عوامی حلقوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سرکاری کام کے سلسلے میں غیر متعلقہ افراد پر انحصار کرنے کے بجائے براہِ راست متعلقہ دفتر سے رجوع کریں۔ اگر کسی شخص کی جانب سے سرکاری کام کروانے کے نام پر رقم یا کسی اور فائدے کا مطالبہ کیا جائے تو متعلقہ حکام کو اس سے آگاہ کیا جائے تاکہ ایسے عناصر کے خلاف بروقت کارروائی ممکن ہوسکے۔سردار محمد شفیق ڈوگر کے اس عزم سے یہ توقع پیدا ہوتی ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر آفس میں شہریوں کو میرٹ اور قانون کے مطابق سہولیات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ ایک فعال اور عوام دوست انتظامیہ کی یہی پہچان ہے کہ سائل کی بات براہِ راست سنی جائے، اس کی درخواست کو میرٹ پر دیکھا جائے اور اسے غیر ضروری سفارش یا واسطے کے بغیر قانونی ریلیف فراہم کیا جائے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہریوں کی بھی یہی خواہش ہے کہ سرکاری اداروں میں ٹاؤٹ مافیا، سفارش کلچر اور غیر ضروری مداخلت کا خاتمہ ہو اور ہر شہری کو مساوی بنیادوں پر انصاف اور سرکاری سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔ اگر اسسٹنٹ کمشنر آفس کی سطح پر اس پالیسی پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد جاری رکھا گیا تو یہ نہ صرف شہریوں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا بلکہ انتظامی نظام کو بھی مزید شفاف اور مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔قانون سب کے لیے برابر ہے، سرکاری دفتر عوام کی خدمت کے لیے ہے اور کسی غیر متعلقہ فرد کو عوام اور انتظامیہ کے درمیان رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہی اصول اچھی حکمرانی اور حقیقی عوامی خدمت کی بنیاد بنتا ہے۔*