تعارف خان محمد عارف خان رجبانہ سیال
جھنگ کی سیاسی تاریخ میں خان محمد عارف خان رجبانہ سیال ایک ایسی شخصیت تھے جن کا سیاسی سفر تحریکِ پاکستان سے شروع ہوا اور کئی دہائیوں تک ملکی پارلیمانی سیاست میں جاری رہا۔
1913ء میں بڈھ رجبانہ، شورکوٹ، ضلع جھنگ میں پیدا ہونے والے خان محمد عارف خان رجبانہ آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور تحریکِ پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم ترین پہلو قائداعظم محمد علی جناح سے ان کی قربت اور سیاسی وابستگی تھی۔ قومی اخبار Dawn نے بھی انہیں قائداعظم کا قریبی ساتھی (close associate) قرار دیا۔
1946ء کے تاریخی انتخابات میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ یوں وہ اس سیاسی نسل کا حصہ تھے جس نے قائداعظم کی قیادت میں قیامِ پاکستان کی جدوجہد کو قریب سے دیکھا اور اس میں عملی کردار ادا کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی ان کی سیاست محض اقتدار کے ساتھ چلنے تک محدود نہیں رہی۔ ایوب خان کے دور میں انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور ایوب خان کی مخالفت کی۔ یہ پہلو ان کی سیاسی زندگی کو مزید اہم بناتا ہے کہ قائداعظم کے ساتھی رہنے کے بعد صدارتی انتخاب کے موقع پر وہ قائداعظم کی ہمشیرہ کے ساتھ بھی کھڑے ہوئے۔
کئی دہائیوں بعد 1985ء میں وہ شورکوٹ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اسی اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کے موقع پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر ملکی پارلیمانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔
اس وقت جنرل ضیاء الحق کے دور میں خواجہ محمد صفدر — موجودہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے والد — اسپیکر قومی اسمبلی کے مضبوط امیدوار تھے۔ خان محمد عارف خان رجبانہ اس پارلیمانی گروپ کے اہم کرداروں میں شامل تھے جس کی حمایت اور حکمتِ عملی کے نتیجے میں سید فخر امام نے خواجہ محمد صفدر کو شکست دے کر اسپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ حاصل کیا۔
ان کی زندگی کے یہ مختلف ادوار ایک غیر معمولی سیاسی تسلسل دکھاتے ہیں: قائداعظم کے ساتھ تحریکِ پاکستان، ایوب خان کے مقابل فاطمہ جناح کی حمایت، اور ضیاء دور میں پارلیمان کے اندر ایک اہم سیاسی معرکے میں کردار۔
ضلعی انتظامیہ جھنگ کی سرکاری تاریخ بھی محمد عارف خان رجبانہ کو ضلع جھنگ کے کارکنانِ تحریکِ پاکستان میں شمار کرتی ہے۔
29 ستمبر 2010ء کو 97 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا اور انہیں ان کے آبائی علاقے بڈھ رجبانہ، شورکوٹ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
قائداعظم کے ساتھی، فاطمہ جناح کے حامی اور کئی دہائیوں پر محیط جھنگ کی سیاسی و پارلیمانی تاریخ کے ایک اہم کردار — خان محمد عارف خان رجبانہ سیال۔
اگر آپ یا آپ کے بزرگوں کے پاس ان سے متعلق کوئی تاریخی واقعہ، تصویر یا ذاتی یاد محفوظ ہے تو Jhang Times کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
جھنگ ٹائمز — جھنگ کی بات، جھنگ کے ساتھ













