ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کھلی کچہری، شہریوں کی براہِ راست شنوائی اور فوری ریلیف کی جانب اہم قدم، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی اوپن ڈور پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک، ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی شہریوں سے ملاقات

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف ترقیاتی منصوبے، سرکاری اعداد و شمار یا بلند و بانگ دعوے نہیں ہوتے بلکہ عام شہری کو درپیش مسائل کا بروقت حل، اس کی شکایت کی شنوائی اور اسے انصاف کی فراہمی ہی دراصل اچھی طرزِ حکمرانی کی پہچان بنتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی اوپن ڈور پالیسی بھی اسی سوچ کی عکاس ہے کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں اور شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے براہِ راست اعلیٰ افسران تک رسائی حاصل ہو اسی وژن کے تحت ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد ہونے والی کھلی کچہری ایک اہم عوامی رابطہ سرگرمی کے طور پر سامنے آئی، جہاں ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک، ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد محمد خالد مسعود فروکہ نے شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے۔ کھلی کچہری میں شہریوں کو یہ موقع فراہم کیا گیا کہ وہ اپنے مسائل متعلقہ اعلیٰ افسران کے سامنے پیش کریں اور ان کے ازالے کے لیے موقع پر ہی ضروری احکامات حاصل کرسکیں۔کھلی کچہری میں مجموعی طور پر 37 درخواستیں پیش کی گئیں، جن میں سے 26 درخواستیں ریونیو سے متعلق تھیں۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہریوں کے مسائل میں ریونیو معاملات کا حصہ نمایاں ہے اور ایسے معاملات کے حل کے لیے انتظامی سطح پر مؤثر، شفاف اور تیز رفتار کارروائی کی ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے شہریوں کی درخواستوں کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ درخواستوں پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور مقررہ وقت کے اندر رپورٹس پیش کی جائیں۔ انتظامی افسران کی جانب سے شہریوں کی شکایات کو براہِ راست سننا اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس سے سائل کو یہ اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچ رہی ہے اور اس کے مسئلے پر توجہ دی جارہی ہے۔پولیس سے متعلق شکایات کے حوالے سے ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ نے شہریوں کو ان کے مسائل کے فوری ازالے کی یقین دہانی کرائی۔ پولیس کے معاملات میں شفافیت، میرٹ اور فوری داد رسی عوام کے اعتماد کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ شہریوں کی شکایات سن کر ان کے قانونی حل کی طرف پیش رفت ایک بہتر پولیسنگ کی جانب اہم قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔اسی طرح ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد محمد خالد مسعود فروکہ نے کرپشن سے متعلق درخواستوں پر قانون اور میرٹ کے مطابق کارروائی کی یقین دہانی کرائی سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خلاف مؤثر کارروائی نہ صرف قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے عام شہری کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کھلی کچہری صرف درخواستیں وصول کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد درخواست کے اندراج سے لے کر عملی ریلیف تک کے پورے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔ اگر شہری کی شکایت سننے کے بعد متعلقہ محکمے سے بروقت رپورٹ طلب کی جائے، کارروائی کی نگرانی ہو اور سائل کو نتیجے سے آگاہ کیا جائے تو کھلی کچہری ایک مؤثر عوامی خدمت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقدہ اس کھلی کچہری سے یہ پیغام بھی سامنے آیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کو براہِ راست سننے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب کھلی کچہری میں موصول ہونے والی درخواستوں پر فیصلہ کن اور بروقت کارروائی بھی یقینی بنائی جائے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی اوپن ڈور پالیسی کا بنیادی فلسفہ بھی یہی ہے کہ عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے نجات ملے، ان کی شکایات سنی جائیں اور انہیں قانون و میرٹ کے مطابق ریلیف فراہم کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور اینٹی کرپشن سمیت تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہریوں نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی درخواستوں پر محض کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے عملی نتائج سامنے آئیں گے اور سائلین کو ان کے مسائل کا حقیقی اور بروقت حل فراہم کیا جائے گا۔ یہی وہ طرزِ حکمرانی ہے جس سے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔آخرکار ایک کامیاب انتظامیہ کی پہچان یہی ہے کہ عوام کو سنا جائے، ان کے مسائل کو سمجھا جائے، میرٹ پر فیصلے کیے جائیں اور وعدے کو عملی ریلیف میں تبدیل کیا جائے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کھلی کچہری اسی عوام دوست طرزِ حکمرانی کی جانب ایک مثبت قدم ہے، جسے تسلسل، مؤثر نگرانی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے مزید نتیجہ خیز بنایا جاسکتا ہے۔*