شرافت، دیانت اور فرض شناسی کی پہچان میاں محمد نعیم کو چیف منسٹر پنجاب انسپکشن ٹیم میں نئی ذمہ داری سونپ دی گئی
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*سرکاری اداروں میں افسران کی تقرری محض ایک عہدے کا حصول نہیں ہوتی بلکہ یہ دراصل عوامی خدمت، ذمہ داری، دیانت داری اور ریاستی امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہوتی ہے۔ جو افسر اپنی صلاحیت، کردار، شرافت اور فرض شناسی سے خود کو منواتے ہیں، ان کی نئی ذمہ داری بھی ان کے لیے ایک امتحان کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا بہترین موقع ثابت ہوتی ہے۔حکومت پنجاب نے تقرری کے منتظر میاں محمد نعیم کو چیف منسٹر پنجاب انسپکشن ٹیم (وزیراعلیٰ پنجاب معائنہ ٹیم) میں بطور آفیسر تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ میاں محمد نعیم نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر باقاعدہ طور پر فرائض کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔ ان کی یہ تعیناتی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پنجاب کی جانب سے انتظامی معاملات میں نگرانی، شفافیت، میرٹ اور سرکاری امور کی مؤثر جانچ پڑتال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے محکمہ بہبود آبادی کے سابقہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور بعض عہدوں کے خاتمے کے بعد نئے انتظامی عہدے تشکیل دیے گئے ہیں، جن کے تحت میاں محمد نعیم کو بھی نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ بلاشبہ کسی بھی افسر کے لیے نئی ذمہ داری ایک نئے سفر کا آغاز ہوتی ہے، جہاں اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، انتظامی تجربہ اور عوامی مسائل کے ادراک کا عملی امتحان ہوتا ہے۔میاں محمد نعیم کا شمار ان افسران میں کیا جاتا ہے جو اپنی خوش اخلاقی، شرافت، ملنساری اور مثبت رویے کے باعث دوست احباب اور ساتھیوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ نہایت شریف النفس، اچھے اخلاق کے حامل اور انسان دوست شخصیت ہیں۔ ان کی شخصیت میں عہدے کے بجائے کردار کو اہمیت دینے کا وصف نمایاں نظر آتا ہے، جو کسی بھی سرکاری افسر کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔سرکاری منصب کی اصل خوبصورتی اسی وقت سامنے آتی ہے جب افسر اپنے اختیارات کو عوامی سہولت، قانون کی بالادستی اور ادارے کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔ چیف منسٹر پنجاب انسپکشن ٹیم جیسی اہم ذمہ داری میں افسران کو مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے، انتظامی معاملات میں بہتری کی نشاندہی کرنے اور حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں میاں محمد نعیم کے لیے بھی یہ ذمہ داری اپنی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کسی افسر کی کامیابی صرف سرکاری فائلوں اور دفتری کارروائی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل امتحان اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کس قدر دیانت داری، غیر جانب داری، میرٹ اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ میاں محمد نعیم اپنی نئی ذمہ داری میں بھی اپنی سابقہ اچھی شہرت، شرافت اور فرض شناسی کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت پنجاب کے انتظامی وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔میاں محمد نعیم کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں، تجربے اور مثبت سوچ کو بروئے کار لاتے ہوئے چیف منسٹر پنجاب انسپکشن ٹیم میں ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کریں گے ان کی نئی تعیناتی نہ صرف ان کے لیے ایک اعزاز ہے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار بھی ہےدعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں محمد نعیم کو اپنی نئی ذمہ داری احسن انداز میں نبھانے، حق و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور عوامی و حکومتی مفاد میں بہترین فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں مزید کامیابیاں نصیب ہوں۔ آمین۔*













