اسسٹنٹ کمشنر سردار محمد شفیق ڈوگر، عوامی خدمت اور میرٹ کی روشن مثال
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*سرکاری اداروں میں افسران کی اصل پہچان ان کا عہدہ نہیں بلکہ ان کا کردار، عوام کے ساتھ رویہ، فیصلہ سازی میں میرٹ اور اپنے فرائض سے وابستگی ہوتی ہے۔ جو افسر اپنے منصب کو اختیار کی بجائے ذمہ داری سمجھ کر ادا کرے، عوام کے مسائل کو توجہ سے سنے اور قانون و میرٹ کے مطابق فیصلے کرے، وہ نہ صرف اپنے ادارے بلکہ پورے معاشرے میں اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایسے ہی افسران میں اسسٹنٹ کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ سردار محمد شفیق ڈوگر کا نام بھی نمایاں نظر آتا ہے۔سردار محمد شفیق ڈوگر کا تعلق ضلع لودھراں کی تحصیل دنیا پور سے ہے۔ ان کی شخصیت میں محنت، قابلیت، خوش اخلاقی، معاملہ فہمی اور عوامی خدمت کا جذبہ نمایاں ہے۔ ان کا شمار ایسے افسران میں کیا جاتا ہے جو اپنے فرائض کو محض سرکاری ذمہ داری سمجھ کر نہیں بلکہ ایک قومی خدمت کے جذبے کے تحت انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں۔سردار محمد شفیق ڈوگر پنجاب کے مختلف اضلاع میں بطور اسسٹنٹ کمشنر خدمات انجام دے چکے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مختلف علاقوں کے انتظامی، عوامی اور ریونیو معاملات کو قریب سے سمجھنے کا وسیع تجربہ حاصل ہوا ہے۔ مختلف اضلاع میں ذمہ داریاں نبھانے کے تجربے نے ان کی انتظامی صلاحیتوں کو مزید نکھارا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حوالے سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ پیچیدہ معاملات کو سمجھنے، حقائق کا جائزہ لینے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سردار محمد شفیق ڈوگر کو “ماسٹر پلان” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جو ان کی منصوبہ بندی، معاملہ فہمی اور انتظامی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی تحصیل یا شہر کے انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے صرف احکامات جاری کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے مربوط حکمت عملی تشکیل دینا ضروری ہوتا ہے۔ ایک اچھا منتظم وہی ہوتا ہے جو موجودہ مسائل کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھے۔ریونیو کے معاملات میں میرٹ اور قانون کی بالادستی انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ زمین، جائیداد اور ریکارڈ سے متعلق معاملات براہ راست شہریوں کے بنیادی حقوق سے جڑے ہوتے ہیں۔ سردار محمد شفیق ڈوگر کے بارے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ریونیو معاملات میں میرٹ کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں تاکہ کسی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ اگر انتظامی اور ریونیو معاملات میں فیصلے شفافیت، قانون اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ اداروں کی ساکھ بھی مضبوط ہوتی ہے۔ایک عوام دوست افسر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس کے دفتر کے دروازے عام شہری کے لیے بھی قابلِ رسائی ہوں۔ عام آدمی اکثر سرکاری معاملات کی پیچیدگیوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتا اور اسے اپنے مسئلے کے حل کے لیے ایک ایسے افسر کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی بات تحمل سے سنے، اسے قانون کے مطابق رہنمائی فراہم کرے اور جائز مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ عملے کو ضروری ہدایات دے۔ سردار محمد شفیق ڈوگر کی انتظامی سوچ میں عوامی رابطے اور مسائل کے حل کو اہم مقام حاصل ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک اہم زرعی اور تجارتی ضلع ہے جہاں انتظامیہ کو شہری مسائل کے ساتھ ساتھ دیہی آبادی، ریونیو، تجاوزات، بازاروں کے نظم و نسق، صفائی، ٹریفک، پرائس کنٹرول اور دیگر متعدد معاملات کا سامنا رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں اسسٹنٹ کمشنر کی ذمہ داریاں مزید اہم ہوجاتی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ سردار محمد شفیق ڈوگر اپنی انتظامی صلاحیتوں، تجربے اور میرٹ پر مبنی سوچ کو بروئے کار لاتے ہوئے تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عوامی مسائل کے حل اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔سرکاری منصب عارضی ہوتا ہے لیکن افسر کا کردار اور اس کے فیصلوں کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ انہی افسران کو یاد رکھتی ہے جو اپنے دورِ تعیناتی میں عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، کمزور کی آواز سنتے ہیں، قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر فیصلے کرتے ہیں۔ سردار محمد شفیق ڈوگر کے لیے بھی یہی بہترین راستہ ہے کہ وہ میرٹ، شفافیت، قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت کے اصولوں کو اپنی ترجیحات میں ہمیشہ مقدم رکھیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہریوں کو ایسے ہی محنتی، قابل، خوش اخلاق اور عوام دوست افسران سے بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ عوام کی توقع ہے کہ سردار محمد شفیق ڈوگر اپنے تجربے اور انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے، ریونیو معاملات میں شفافیت یقینی بنانے اور سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔بلاشبہ کسی بھی افسر کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے کتنے اختیارات استعمال کیے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے دور میں کتنے لوگوں کو انصاف، سہولت اور ریلیف ملا۔ یہی وہ معیار ہے جو ایک عام سرکاری افسر کو ایک عوامی دوست اور یادگار افسر بناتا ہے۔*













